روزگار کے نئے مواقع اور مصنوعی ذہانت

روزگار کے نئے مواقع اور مصنوعی ذہانت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور صنعتی ڈھانچے نے روزگار کی نوعیت کو بھی تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور جدید صنعتوں کے پھیلاؤ کے ساتھ نئی مہارتوں اور نئے پیشوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ چین بھی اسی بدلتے منظرنامے کے مطابق اپنی روزگار پالیسی کو نئے خطوط پر استوار کر رہا ہے تاکہ اقتصادی تبدیلی کے ساتھ ملازمتوں کے مواقع بھی وسیع کیے جا سکیں۔

چین میں انسانی وسائل سے متعلق ادارے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور روایتی شعبوں کو مزید مؤثر بنانے کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ حکومتی منصوبہ بندی کے مطابق 2026 میں روزگار کے شعبے میں اعلیٰ معیار کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔

اس حکمتِ عملی کے تحت ڈیجیٹل معیشت، جدید مینوفیکچرنگ اور جدید خدماتی شعبوں میں روزگار کے امکانات کو بھرپور انداز میں بروئے کار لانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ نئی صنعتوں اور نئی کھپت سے جڑے شعبوں میں ابھرتے پیشوں کی نشاندہی اور ترقی کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک میں 72 نئے پیشوں کی شناخت کی جا چکی ہے، جن میں سے 20 سے زائد براہِ راست مصنوعی ذہانت سے متعلق ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق ہر نئے پیشے کے آغاز کے ساتھ تقریباً تین لاکھ سے پانچ لاکھ تک ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کو صرف صنعتی ترقی ہی نہیں بلکہ روزگار کے فروغ کا ذریعہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

2026 کے لیے روزگار کی پالیسی میں ’’روزگار کو ترجیح‘‘ دینے کی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ اس کے تحت پالیسی رہنمائی کو بہتر بنانے، روزگار کے نئے راستے کھولنے اور اہم ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔ خاص طور پر ابھرتی ہوئی صنعتوں میں نئی ملازمتوں کی تخلیق اور بڑی تعداد میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کے لیے مواقع فراہم کرنا اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
اس مقصد کے لیے حکومت روزگار کے تحفظ، توسیع اور معیار میں بہتری کے لیے مشترکہ اقدامات متعارف کرائے گی۔ محنت طلب شعبوں جیسے غیر ملکی تجارت، تعمیرات اور مہمان نوازی کے شعبوں کو زیادہ حمایت فراہم کی جائے گی تاکہ موجودہ ملازمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔ دوسری جانب صنعتی اپ گریڈیشن کے دوران ڈیجیٹل معیشت اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ملازمتوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کم از کم اجرت کے معیار میں بروقت ردوبدل کا نظام نافذ کیا جائے گا، انسانی وسائل کی منڈی کے نظم و ضبط کو مضبوط کیا جائے گا اور تارک وطن مزدوروں کی اجرت کے تحفظ کے نظام پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

نوجوانوں کی روزگار تک رسائی بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ اندازوں کے مطابق رواں سال تقریباً ایک کروڑ ستائیس لاکھ جامعات کے فارغ التحصیل افراد ملازمت کی منڈی میں داخل ہوں گے۔ اس صورت حال کے پیش نظر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، کمیونٹی سطح پر ملازمتوں کے امکانات بڑھانے اور نوجوانوں کو مختلف صنعتوں میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ہنر مند افرادی قوت کی تربیت کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ورلڈ اسکلز مقابلہ 2026 ستمبر میں شنگھائی میں منعقد ہوگا۔ اس عالمی مقابلے کا مقصد نوجوانوں میں ہنر اور مہارت کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور انہیں پیشہ ورانہ مہارتوں کے ذریعے مستقبل روشن بنانے کی ترغیب دینا ہے۔

اس کے ساتھ روزگار کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پورے سال جاری رہنے والی بھرتی اور ملازمت سے متعلق خدمات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ ملازمت کے مواقع اور امیدواروں کے درمیان رابطہ مسلسل برقرار رہے۔ حکومت مختلف حمایتی پالیسیوں، جیسے ملازمت برقرار رکھنے کے لیے مالی مراعات، سماجی تحفظ کی سبسڈی اور کاروبار شروع کرنے کے لیے رعایتی قرضوں کے ذریعے بھی روزگار کے مواقع کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

چین کی روزگار حکمتِ عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی تبدیلی کو معاشرتی فلاح کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور نئی صنعتوں کے فروغ کے ذریعے نہ صرف اقتصادی ترقی کو تقویت دی جا رہی ہے بلکہ وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ اقدامات مؤثر انداز میں جاری رہے تو مستقبل میں روزگار کا ڈھانچہ زیادہ متنوع، مہارت پر مبنی اور پائیدار شکل اختیار کر سکتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1092510 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More