چین میں انسانی وسائل کی نئی قوت

چین میں انسانی وسائل کی نئی قوت
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں معیشتیں تیزی سے اس مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں جہاں ٹیکنالوجی، ماحول دوست صنعتوں اور خدماتی شعبوں کی توسیع کے ساتھ روزگار کی نوعیت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ صنعتی ڈھانچوں میں تبدیلی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے باعث نئے پیشے وجود میں آ رہے ہیں، جو مستقبل کی معاشی ترقی میں انسانی وسائل کے کردار کو نئی اہمیت دے رہے ہیں۔ چین میں بھی یہی رجحان نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں اقتصادی ڈھانچے کی جدیدکاری کے ساتھ نئی مہارتوں اور پیشہ ورانہ شعبوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

چین کی معیشت کئی دہائیوں سے بڑی افرادی قوت کی بدولت تیزی سے ترقی کرتی آ رہی ہے، جسے عموماً "آبادیاتی منافع" کہا جاتا ہے۔ بعض مبصرین آبادی کے بڑھتے عمرانی تناسب کے باعث مستقبل کی ترقی کے بارے میں خدشات ظاہر کرتے ہیں، تاہم حالیہ پالیسی اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک اب انسانی سرمائے کی نئی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں چین کے اعلیٰ قانون ساز ادارے قومی عوامی کانگریس نے حال ہی میں پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے خاکے کی منظوری دی۔ اس منصوبے میں "صلاحیتوں کے منافع" کو آئندہ مرحلے کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے کلیدی عنصر قرار دیا گیا ہے۔

نئے منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت ابھرتی ہوئی صنعتوں کی تیز رفتار توسیع اور ان کے ساتھ پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع ہیں۔ منصوبے میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت، سبز معیشت اور "سلور اکانومی" جیسے شعبوں میں نئے پیشوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سلور اکانومی سے مراد عمر رسیدہ آبادی کے لیے خدمات اور سہولتوں کا وہ شعبہ ہے جس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ڈیجیٹل معیشت اس وقت سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شمار ہوتی ہے۔ چین میں چھ ہزار سے زائد مصنوعی ذہانت سے متعلق کاروباری ادارے سرگرم ہیں، جبکہ 2025 میں تخلیقی مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی پیٹنٹ درخواستوں میں تقریباً ساٹھ فیصد حصہ چین کا رہا۔ جب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی صنعت، مالیات، صحت اور شہری نظم و نسق جیسے مختلف شعبوں میں استعمال ہونے لگی تو اس کے ساتھ نئے پیشے بھی سامنے آئے، جیسے تخلیقی مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے جانچ کار اور الگورتھم تربیت دینے والے ماہرین۔

اسی طرح سبز ترقی کی پالیسیوں نے بھی خصوصی مہارتوں کے حامل افراد کی طلب پیدا کی ہے۔ کاربن سنک کی جانچ کرنے والے ماہرین اور توانائی ذخیرہ نظام کے آپریٹر جیسے نئے پیشے اب ابھر رہے ہیں، کیونکہ ملک کاربن اخراج میں کمی کے اہداف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

دوسری جانب صحت اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے شعبوں میں بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ جیسے جیسے صحت عامہ اور بزرگوں کی نگہداشت کی خدمات کو جدید بنایا جا رہا ہے، اسی تناسب سے معمر افراد کی دیکھ بھال کے ماہرین اور بحالی صحت کے پیشہ ور افراد کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں ہنرمند کارکنوں، ماہر کاریگروں اور انجینئروں کے کردار کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔ صنعتی جدیدکاری کے عمل میں ایسے ماہرین بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کے آلات کی درست تنصیب سے لے کر روایتی دستکاری کے جدید انداز میں فروغ تک، مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے کاریگر معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی مقصد کے لیے چین نے 2035 تک قومی سطح پر تقریباً دو ہزار ماہر کاریگر، صوبائی سطح پر دس ہزار اور شہری سطح پر پچاس ہزار اعلیٰ ہنرمند تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان ماہرین کو گہری فنی مہارت کے ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل بنایا جائے گا تاکہ صنعتی ترقی کو مزید تقویت مل سکے۔

دیہی احیا کی حکمت عملی بھی انسانی وسائل کی نئی ضرورتیں پیدا کر رہی ہے۔ زرعی جدیدکاری کے ساتھ ایسے "نئے کسانوں" کی ضرورت بڑھ رہی ہے جو زرعی انتظام، دیہی اجتماعی معیشت کے نظم و نسق اور مقامی صنعتوں کی ترقی میں مہارت رکھتے ہوں۔ یہ افراد دیہی وسائل کو فعال بنانے اور زرعی مصنوعات کو وسیع منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نئے پیشوں کی تخلیق کے ساتھ ساتھ چین انسانی وسائل کی ترقی کے مجموعی نظام میں اصلاحات بھی متعارف کرا رہا ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے خاکے میں تعلیم، سائنسی تحقیق اور صلاحیتوں کی تربیت کے درمیان مربوط پیش رفت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعتی شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور تحقیقی منصوبوں کے لیے طویل المدتی مالی معاونت کے طریقۂ کار پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

پیشہ ورانہ ترقی کے لیے ملازمت کے نظام، تنخواہوں، پیشہ ورانہ درجات اور ترقی کے مواقع سے متعلق پالیسیوں کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اسی کے ساتھ ماہرین اور محققین کو مختلف شعبوں میں کام کرنے یا کاروبار شروع کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پالیسی رکاوٹیں کم کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے۔

علاوہ ازیں چین عالمی سطح پر صلاحیتوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے زیادہ کھلا رویہ اختیار کر رہا ہے۔ غیر ملکی ماہرین کے لیے معاونت کے نظام کو بہتر بنانے اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کے لیے امیگریشن کے نئے طریقۂ کار متعارف کرانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں 2025 میں ریاستی کونسل نے نوجوان غیر ملکی سائنسی و تکنیکی ماہرین کے لیے ایک نیا "کے ویزا" متعارف کرایا، جس کے تحت طویل مدت کے ویزے اور زیادہ لچکدار داخلے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین کی اقتصادی حکمتِ عملی اب محض افرادی قوت کی تعداد پر نہیں بلکہ انسانی سرمائے کے معیار اور مہارت پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ نئی صنعتوں کے فروغ، تعلیم و تحقیق میں سرمایہ کاری اور عالمی صلاحیتوں کے لیے دروازے کھولنے کے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مستقبل کی ترقی میں "صلاحیتوں کا منافع" ایک اہم محرک بننے جا رہا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093000 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More