چین کا نیا صنعتی وژن
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کا نیا صنعتی وژن تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا اس وقت تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں اور صنعتی انقلاب کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبے عالمی معیشت کی نئی سمت متعین کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ممالک کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو صرف پیداوار تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے تحقیق، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑیں۔
اسی تناظر میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا مسودہ سامنے آیا ہے جس میں ملک کی معیشت کو عالمی پیداواری مرکز سے ایک عالمی اختراعی طاقت میں تبدیل کرنے کی حکمتِ عملی پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں جدید صنعتوں کی تعمیر اور سائنسی و تکنیکی خودانحصاری کو مستقبل کی ترقی کے اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مطابق چین ایک ایسا جدید صنعتی نظام تشکیل دینا چاہتا ہے جس کی بنیاد اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ اور جدید ٹیکنالوجی پر ہو۔ اس مقصد کے لیے ملک کو تازہ صنعتی انقلاب اور ٹیکنالوجی کی نئی لہر سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ نئی پیداواری قوتیں پیدا کی جا سکیں۔ چین میں مختلف شہروں اور علاقوں کو بھی اپنی مخصوص صنعتی طاقتوں کے مطابق ترقی دینے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر بیجنگ کے ہائیدین ضلع کو اکثر چین کی "سلیکون ویلی" کہا جاتا ہے، جہاں اس سال صنعتی اختراع کے لیے 9 ارب یوان سے زیادہ سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔مصنوعی ذہانت اور چِپ ڈیزائن کرنے والی کمپنیوں کو اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا جا رہا ہے۔
اسی طرح چین نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے قومی سطح پر بڑے مالیاتی فنڈز بھی قائم کیے ہیں تاکہ سائنسی تحقیق اور جدید صنعتوں کو مسلسل مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ چین نے آئندہ پانچ برسوں میں بنیادی سائنسی تحقیق کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ منصوبے کے تحت تحقیق و ترقی کے مجموعی اخراجات میں بنیادی تحقیق کے حصے کو نمایاں طور پر بڑھایا جائے گا اور بڑے سائنسی تحقیقی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔گزشتہ برس بنیادی تحقیق پر خرچ کیے جانے والے فنڈز تحقیق و ترقی کے مجموعی بجٹ کا 7.08 فیصد تک پہنچ گئے، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
چین کے مختلف شہروں میں مخصوص جدید ٹیکنالوجیوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر شنگھائی میں برین کمپیوٹر انٹرفیس کو ایک اہم مستقبل کی صنعت کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسپتالوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو بڑھایا گیا ہے تاکہ تحقیق کو عملی استعمال میں لایا جا سکے۔
چین کی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سائنسی تحقیق کو تیزی سے صنعتی اور تجارتی شکل دی جائے۔ ملک کے بڑے شہروں میں جدید الیکٹرانک سپلائی چین اور پیداواری نظام موجود ہیں جن کی مدد سے نئی مصنوعات کو تحقیق کے مرحلے سے مارکیٹ تک لانے کا عمل بہت تیز ہو گیا ہے۔جنوبی شہر شین زن اس کی ایک نمایاں مثال ہے جہاں جدید الیکٹرانک صنعت کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔ یہاں نئی مصنوعات کے نمونے تیار کرنے سے لے کر ان کی تیاری تک کا عمل بعض اوقات ایک ہی دن میں مکمل ہو جاتا ہے۔
چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی مصنوعی ذہانت کے تجارتی استعمال کو تیز کرنا شروع کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر آن لائن تلاش، خریداری اور ادائیگی جیسے مراحل اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک ہی نظام میں انجام دیے جا سکتے ہیں۔اسی طرح چین میں تیار کردہ اسمارٹ چشمے، تھری ڈی پرنٹرز اور گھریلو روبوٹس جیسی مصنوعات عالمی منڈیوں میں بھی مقبول ہو رہی ہیں۔
چین کے نئے منصوبے میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی اور صنعت کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کیا جائے۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو حقیقی معیشت کے مختلف شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔کئی صنعتی ادارے اپنی فیکٹریوں میں روبوٹ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کرنے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ نئی ٹیکنالوجیوں کے لیے قوانین میں بھی لچک پیدا کی جا رہی ہے تاکہ نئی صنعتوں کو فروغ مل سکے۔ مثال کے طور پر بعض شہروں میں ڈرون کے ذریعے سامان کی ترسیل، خودکار ٹیکسیوں اور نجی خلائی راکٹوں کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔
اسی طرح "سینڈ باکس ریگولیشن" کا تصور بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت نئی ٹیکنالوجیوں کو محدود اور محفوظ ماحول میں آزمایا جا سکتا ہے تاکہ ان کے تجارتی امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2030 تک چین کی نئی صنعتی معیشت کے بعض اہم شعبے 10 ٹریلین یوان سے زیادہ حجم حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ کوانٹم کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور چھٹی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجی جیسے شعبے آئندہ دہائی میں ایک بڑی ہائی ٹیک صنعت میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں اہم ٹیکنالوجیوں میں خود انحصاری کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ چین اپنی بنیادی ٹیکنالوجیوں کو خود تیار کر سکے اور بیرونی رکاوٹوں کے باوجود ترقی جاری رکھ سکے۔اسی سمت میں سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں کئی نئی پیش رفت سامنے آئی ہے اور مقامی ڈیزائن پر مبنی جدید چپس بھی تیار کی جا رہی ہیں۔تاہم چین کی ٹیکنالوجی پالیسی کا مقصد عالمی تعاون سے دوری نہیں بلکہ زیادہ کھلے تعاون کو فروغ دینا ہے۔ چین نے اب تک 120 سے زیادہ ممالک کے ساتھ سائنسی و تکنیکی تعاون کے معاہدے کیے ہیں جن میں ترقی پذیر ممالک کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسی طرح چین کی قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر کاربن اخراج کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ دنیا میں استعمال ہونے والے شمسی پینلز، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے آلات اور لیتھیم بیٹریوں کی بڑی مقدار چین ہی فراہم کرتا ہے۔
وسیع تناظر میں چین کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک اپنی اقتصادی ترقی کو ایک نئی سمت دینا چاہتا ہے جس کی بنیاد سائنسی تحقیق، جدید صنعت اور تکنیکی خود انحصاری پر ہو۔ جدید مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کو فروغ دے کر چین نہ صرف اپنی صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانا چاہتا ہے بلکہ عالمی معیشت میں بھی ایک فعال اور جدید کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مستقبل میں یہ حکمتِ عملی چین کو عالمی اختراع کے اہم مراکز میں شامل کر سکتی ہے۔ |
|