چین کی " بیوٹی اکانومی "
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی " بیوٹی اکانومی " تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
جدید معیشت میں بعض صنعتیں صرف پیداوار تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ ثقافت، ماحول اور تجارت کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہیں۔ پھولوں کی صنعت بھی انہی شعبوں میں شمار ہوتی ہے جو حسنِ فطرت کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتی ہے۔ چین میں حالیہ برسوں میں پھولوں کی کاشت اور برآمدات نے تیزی سے ترقی کی ہے اور یہ شعبہ اب عالمی منڈیوں سے مضبوط طور پر جڑ چکا ہے۔
اسی پس منظر میں چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کو عالمی سطح پر تازہ کٹے ہوئے پھولوں کی پیداوار کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں سے پھول نہ صرف ملک کے مختلف حصوں بلکہ دنیا کے متعدد ممالک تک پہنچائے جاتے ہیں۔یون نان میں واقع شہر کنمنگ میں پھولوں کی صنعت انتہائی منظم انداز میں کام کر رہی ہے۔ یہاں پھولوں کو کاٹنے کے بعد جدید سرد گوداموں میں محفوظ کیا جاتا ہے، پھر درجۂ حرارت کو قابو میں رکھنے والے خصوصی ٹرکوں کے ذریعے بیرونِ ملک بھیجا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ پھول کئی دنوں کے زمینی سفر کے بعد وسطی ایشیا اور دیگر خطوں کی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق چین میں فروخت ہونے والے تازہ کٹے ہوئے پھولوں میں سے ہر دس میں سے سات پھول یون نان سے آتے ہیں۔ 2025 میں یون نان سے تازہ پھولوں کی برآمدات 1.22 ارب یوان تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ یہ پھول اب 64 ممالک اور خطوں میں بھیجے جا رہے ہیں۔یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ چین کی "خوبصورت معیشت" یا بیوٹی اکانومی عالمی صنعتی زنجیر کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
یون نان کے مختلف علاقوں جیسے جن ننگ، لی جیانگ اور چو شیونگ میں پیدا ہونے والے پھول جدید سپلائی چین کے ذریعے دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ فضائی نقل و حمل کے ذریعے بعض ممالک تک پھول 48 گھنٹوں کے اندر پہنچ جاتے ہیں، جبکہ زمینی راستوں سے ہمسایہ ممالک تک ترسیل صرف چند گھنٹوں میں ممکن ہو جاتی ہے۔
چین کی بعض کمپنیوں نے بیرونِ ملک بھی اپنے تجرباتی کھیت قائم کیے ہیں تاکہ مقامی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق پھول اگائے جا سکیں۔ مثال کے طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں قائم فارموں کے ذریعے مقامی پیداوار اور فروخت کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ مختلف خطوں میں مختلف اقسام کے پھول زیادہ مقبول ہیں۔ مثال کے طور پر بعض جنوب مشرقی ایشیائی منڈیوں میں للی، کرسنتھیمم اور کارنیشن کی طلب زیادہ ہے، جبکہ وسطی ایشیا اور روسی منڈیوں میں بڑی کلی والے گلاب خاص طور پر پسند کیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے اب تحقیق اور پیداوار کو مختلف منڈیوں کی ضرورت کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے۔
چین میں پھولوں کی صنعت اب ایک بڑی اقتصادی سرگرمی بن چکی ہے۔ 2025 تک اس صنعت کی مجموعی مارکیٹ 100 ارب یوان تک پہنچ گئی جبکہ ملک بھر میں تقریباً 13 لاکھ 90 ہزار ہیکٹر رقبے پر پھولوں کی کاشت کی جا رہی ہے۔اس شعبے سے 53 لاکھ سے زیادہ افراد براہِ راست وابستہ ہیں، جس سے دیہی معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچ رہا ہے۔
چین نے قدرتی وسائل اور موسمی حالات کے مطابق پھولوں کی پیداوار کے سات بڑے علاقائی مراکز بھی قائم کیے ہیں۔ ان میں یون نان اور گوانگ دونگ تازہ کٹے ہوئے پھولوں اور گملوں والے پودوں کے لیے مشہور ہیں، جبکہ دیگر صوبے آرائشی پودوں، بیجوں اور نرسریوں کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس علاقائی تقسیم کے باعث پیداوار کا ایک مضبوط اور مربوط نظام قائم ہو گیا ہے۔
چین میں پھولوں کے جینیاتی وسائل بھی بہت متنوع ہیں۔ بعض تحقیقی مراکز میں ہزاروں اقسام کے پھولوں کے بیج محفوظ کیے گئے ہیں جن میں بیماریوں سے مزاحمت، سردی برداشت کرنے کی صلاحیت اور مختلف رنگوں جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔تحقیقی ادارے اب جین ایڈیٹنگ اور جدید افزائش نسل کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں تاکہ نئی اقسام جلد تیار کی جا سکیں۔ اس طریقے سے پھولوں کی نئی اقسام تیار کرنے کا روایتی آٹھ سے دس سال کا عرصہ کم کیا جا رہا ہے۔حال ہی میں چین میں تیار کی گئی ایک ہزار سے زیادہ نئی گلابی اقسام بھی متعارف کرائی گئی ہیں جن میں روایتی شکل کے بجائے بادلوں کی طرح تہہ دار پنکھڑیاں اور منفرد خوشبوئیں شامل ہیں۔
پھولوں کی پیداوار میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسمارٹ گرین ہاؤسز میں سینسرز کے ذریعے درجۂ حرارت اور نمی کی نگرانی کی جاتی ہے جبکہ خودکار آبپاشی اور غذائی نظام کے ذریعے پودوں کو مطلوبہ مقدار میں پانی اور غذائیت فراہم کی جاتی ہے۔ان جدید سہولتوں کی بدولت سال بھر مستحکم پیداوار ممکن ہو گئی ہے اور ایک ایکڑ زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم از کم 50 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔
آن لائن تجارت بھی پھولوں کی صنعت کے لیے ایک نیا محرک بن کر سامنے آئی ہے۔ 2024 میں چین میں پھولوں کی آن لائن فروخت کا حجم تقریباً 120 ارب یوان تک پہنچ گیا جو مجموعی ریٹیل مارکیٹ کا 54 فیصد سے زیادہ ہے۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کاشتکار براہِ راست پھول فروشوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور بعض اوقات فصل تیار ہونے سے پہلے ہی فروخت کر دیتے ہیں۔ اس نظام کے باعث لین دین کا وقت کم ہوا ہے، پھولوں کے ضائع ہونے کی شرح کم ہوئی ہے اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
چین نے پھولوں کی صنعت کی معیاری ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی متعارف کرایا ہے جس کے تحت 2035 تک اس صنعت کی سالانہ فروخت 700 ارب یوان تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین کی پھولوں کی برآمدات 516 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.78 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ خاص طور پر گملوں والے پودوں، خصوصی بیجوں اور پروسیس شدہ مصنوعات جیسی زیادہ قدر والی اشیاء کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
چین کی پھولوں کی صنعت اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح قدرتی حسن اور جدید معیشت ایک دوسرے کے ساتھ ترقی کر سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، عالمی تجارت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے امتزاج نے اس صنعت کو نہ صرف چین کی دیہی معیشت کا اہم ستون بنا دیا ہے بلکہ اسے عالمی منڈیوں میں بھی مضبوط مقام دلایا ہے۔ مستقبل میں اس شعبے کی مزید ترقی چین کی "خوبصورت معیشت" کو عالمی سطح پر مزید نمایاں بنا سکتی ہے۔ |
|