گلیڈی ایٹرز: قدیم روم کی خون آلود تفریح
(Fazal khaliq khan, Mingora Swat)
| رومی تاریخ میں ایک گلیڈی ایٹر ایسا بھی گزرا جس نے غلامی کے خلاف بغاوت کر کے اپنی بہادری کی نئی مثال قائم کی۔ اس جنگجو کا نام Spartacus تھا۔ |
|
فضل خالق خان (سوات) انسانی تاریخ میں ایسے کئی ادوار گزرے ہیں جب طاقت، بہادری اور جنگی مہارت کو تفریح کا حصہ بنایا گیا۔ قدیم روم کا زمانہ بھی انہی ادوار میں شمار ہوتا ہے جہاں میدانِ جنگ کی خونریز جھڑپیں عوامی تفریح کا ذریعہ بن گئیں۔ اس زمانے میں جو جنگجو میدان میں اترتے اور لوگوں کے سامنے موت و زندگی کی لڑائی لڑتے تھے انہیں Gladiator کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ لاطینی زبان کے لفظ Gladius سے نکلا ہے جس کا مطلب تلوار ہے۔ یہ گلیڈی ایٹرز زیادہ تر Roman Empire کے دور میں مشہور ہوئے۔ رومی سلطنت اپنی طاقت، فوجی قوت اور وسیع سلطنت کی وجہ سے دنیا کی سب سے طاقتور ریاستوں میں شمار ہوتی تھی۔ اسی طاقت کے اظہار اور عوام کو تفریح فراہم کرنے کے لیے حکمران بڑے بڑے میدانوں میں گلیڈی ایٹرز کی لڑائیاں منعقد کرتے تھے۔ ان مقابلوں کا سب سے مشہور مقام Colosseum تھا جو اٹلی کے دارالحکومت Rome میں واقع ہے۔ یہ عظیم الشان اسٹیڈیم تقریباً دو ہزار سال قبل تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں ایک وقت میں پچاس سے ساٹھ ہزار تماشائی بیٹھ سکتے تھے۔ یہاں ہونے والی لڑائیاں محض کھیل نہیں بلکہ اکثر اوقات موت کی جنگ ثابت ہوتی تھیں۔ گلیڈی ایٹرز کی زندگی عام انسانوں سے بالکل مختلف اور سخت ہوتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر غلام، جنگی قیدی یا سزا یافتہ مجرم ہوتے تھے جنہیں زندہ رہنے کا ایک ہی راستہ دیا جاتا تھا کہ وہ میدان میں لڑیں۔ بعض لوگ شہرت، دولت یا آزادی حاصل کرنے کے لیے بھی رضاکارانہ طور پر اس پیشے میں شامل ہو جاتے تھے۔ ایسے افراد کو خصوصی تربیتی مراکز میں رکھا جاتا جہاں انہیں سخت جسمانی تربیت دی جاتی، مختلف ہتھیار استعمال کرنا سکھایا جاتا اور جنگی حکمت عملی سے آگاہ کیا جاتا تھا۔ ان مراکز کو Ludus کہا جاتا تھا اور یہاں رہنے والے جنگجوؤں کی زندگی فوجی کیمپ جیسی نظم و ضبط کے تحت گزرتی تھی۔ گلڈی ایٹرز مختلف اقسام کے ہوتے تھے اور ہر ایک کا اندازِ جنگ الگ ہوتا تھا۔ کچھ جنگجو بھاری زرہ اور بڑی ڈھال کے ساتھ لڑتے تھے جبکہ بعض ہلکے ہتھیار اور جال استعمال کرتے تھے۔ ایک مشہور قسم وہ تھی جو جال اور نیزہ استعمال کرتی تھی تاکہ مخالف کو پھانس کر اسے زمین پر گرا دے۔ اس کے مقابلے میں بعض جنگجو بڑی تلوار اور مضبوط ڈھال کے ساتھ میدان میں اترتے تھے۔ اس طرح مختلف انداز کے جنگجوؤں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کر دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ پیدا کیا جاتا تھا۔ ان مقابلوں میں صرف انسان ہی انسان سے نہیں لڑتے تھے بلکہ کئی مرتبہ گلیڈی ایٹرز کو خطرناک درندوں کے سامنے بھی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ شیر، چیتے، ریچھ اور دیگر جنگلی جانور افریقہ اور ایشیا کے مختلف علاقوں سے پکڑ کر روم لائے جاتے تھے تاکہ انہیں میدان میں چھوڑا جا سکے۔ اس طرح کے مقابلوں کو دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہوتے اور پورا میدان نعروں اور شور سے گونج اٹھتا۔ اس منظر کو رومی معاشرے میں طاقت اور بہادری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ عام تاثر یہ ہے کہ ہر گلیڈی ایٹر کی لڑائی موت تک جاری رہتی تھی، مگر تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا تھا۔ بعض اوقات اگر کوئی جنگجو بہادری سے لڑتا تو اسے معاف کر دیا جاتا۔ میدان میں موجود تماشائی یا حکمران ہاتھ کے اشارے سے فیصلہ کرتے کہ ہارنے والے کو زندہ چھوڑنا ہے یا قتل کر دینا ہے۔ یہی لمحہ کسی گلڈی ایٹر کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتا تھا۔ رومی تاریخ میں ایک گلیڈی ایٹر ایسا بھی گزرا جس نے غلامی کے خلاف بغاوت کر کے اپنی بہادری کی نئی مثال قائم کی۔ اس جنگجو کا نام Spartacus تھا۔ وہ ایک غلام گلیڈی ایٹر تھا جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر رومی سلطنت کے خلاف بغاوت کی۔ یہ بغاوت تاریخ میں Third Servile War کے نام سے مشہور ہے۔ اگرچہ آخرکار رومی فوج نے اس بغاوت کو کچل دیا، لیکن اسپارٹکس کی جدوجہد آزادی کی علامت بن گئی اور آج بھی اس کا نام تاریخ میں بہادری اور مزاحمت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ رومی معاشرے میں بھی تبدیلیاں آئیں اور ان خونریز مقابلوں کو غیر انسانی سمجھا جانے لگا۔ چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں جب رومی سلطنت کمزور ہونے لگی تو گلیڈی ایٹرز کی لڑائیاں بھی آہستہ آہستہ ختم ہو گئیں۔ یوں ایک ایسا باب بند ہوا جس نے صدیوں تک انسانوں کو حیرت، خوف اور تجسس میں مبتلا رکھا۔ آج گلیڈی ایٹرز صرف تاریخ کی کتابوں اور فلموں میں زندہ ہیں۔ جدید دور میں اس موضوع پر کئی فلمیں اور کہانیاں بنائی گئیں جن میں سب سے مشہور فلم Gladiator ہے۔ اس فلم میں اداکار Russell Crowe نے ایک رومی جنرل کا کردار ادا کیا جو حالات کے ہاتھوں گلیڈی ایٹر بن جاتا ہے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔ گلیڈی ایٹرز کی تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ انسانی معاشرہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ جو چیز ایک دور میں تفریح سمجھی جاتی تھی وہ بعد کے زمانے میں ظلم اور بربریت قرار دی جا سکتی ہے۔ قدیم روم کے میدانوں میں بہنے والا خون آج ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ طاقت اور تفریح کے نام پر انسان کس حد تک جا سکتا ہے۔ شاید یہی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے کہ تہذیب کی اصل پہچان انسانیت اور رحم دلی میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ تلواروں کی چمک اور میدانوں میں گونجتی ہوئی جنگی للکار میں۔ |
|