تحفظ اور ترقی کے درمیان متوازن حکمتِ عملی

تحفظ اور ترقی کے درمیان متوازن حکمتِ عملی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنا پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔ قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے معاشی و سماجی مفادات کو مدنظر رکھنا جدید ماحولیاتی نظم و نسق کا بنیادی تقاضا ہے۔ اسی تناظر میں چین نے قدرتی محفوظ علاقوں کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر اور سائنسی بنانے کے لیے متعلقہ ضوابط میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد تحفظِ ماحول، مقامی آبادی کی ضروریات اور پائیدار ترقی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

قدرتی محفوظ علاقوں سے متعلق ضوابط میں اس نظرثانی کا ایک اہم پہلو زوننگ کنٹرول کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ سابقہ ضوابط میں بعض انتظامی طریقہ کار عملی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں تھے، جس کے باعث عمل درآمد کے دوران مختلف مسائل اور تضادات سامنے آتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے قدرتی محفوظ علاقوں میں انسانی سرگرمیاں بھی موجود ہیں، جن میں قصبے، دیہات، رہائشی آبادی، معدنی حقوق اور اجتماعی جنگلات شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق چین میں قومی سطح کے قدرتی محفوظ علاقوں میں تقریباً چالیس لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں سے تقریباً چار لاکھ بنیادی یا مرکزی علاقوں میں آباد ہیں۔ اسی طرح ان علاقوں میں تقریباً آٹھ لاکھ ہیکٹر مستقل بنیادی زرعی اراضی اور دو لاکھ دس ہزار ہیکٹر کے قریب تجارتی باغات بھی موجود ہیں۔ سابقہ ضوابط میں ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی سرگرمیوں یا مقامی باشندوں کے معاشی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے کے بارے میں واضح رہنمائی موجود نہیں تھی۔ اس کے علاوہ علاقائی اختلافات کو بھی خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی، جس کے باعث ایک ہی طرز کا انتظامی نظام نافذ کیا گیا جو عملی طور پر سخت اور غیر لچکدار ثابت ہوا۔

ان مسائل کے حل کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط میں قدرتی محفوظ علاقوں کے زوننگ نظام کو سادہ اور مؤثر بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل تین حصوں پر مشتمل نظام موجود تھا جس میں بنیادی علاقہ، حفاظتی بفر زون اور تجرباتی علاقہ شامل تھے۔ نئی اصلاحات کے تحت اس ڈھانچے کو دو حصوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، یعنی "مرکزی تحفظی علاقے" اور "عمومی کنٹرول کے علاقے"۔ اس تبدیلی کا مقصد انتظامی نظام کو زیادہ معیاری بنانا اور عوام کے لیے ماحولیاتی ضوابط کو زیادہ قابلِ فہم بنانا ہے۔

نئے نظام کے مطابق سابقہ بنیادی اور بفر زون کو مرکزی تحفظی علاقوں میں شامل کیا گیا ہے جبکہ تجرباتی علاقوں کو عمومی کنٹرول کے علاقوں کے طور پر درجہ دیا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ ضوابط کے مطابق اصولی طور پر مرکزی تحفظی علاقوں میں انسانی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ عمومی کنٹرول کے علاقوں میں ایسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔

اس کے ساتھ ساتھ نئی شقوں میں بعض ضروری سرگرمیوں کی واضح اجازت بھی دی گئی ہے۔ ان میں قدرتی محفوظ علاقوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات، مقامی باشندوں کی بنیادی پیداوار اور روزمرہ زندگی سے متعلق سرگرمیاں، قومی سلامتی یا اہم قومی حکمتِ عملیوں سے متعلق منصوبے، ناگزیر قومی منصوبوں کی تعمیر اور عوامی خدمات شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے تحفظ اور ترقی کے درمیان بہتر توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

نظرثانی شدہ ضوابط کی ایک نمایاں خصوصیت "متفرق ضابطہ بندی" کا تصور متعارف کرانا ہے، جس کے تحت مختلف حالات کے مطابق انتظامی اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے قدرتی محفوظ علاقوں کا نظم و نسق زیادہ تر ایک سخت اور محدود انداز پر مبنی تھا جسے عموماً "باڑ لگانے" کے طریقہ کار سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ نئی اصلاحات اس نظام کو زیادہ سائنسی، لچکدار اور باریک بینی پر مبنی حکمرانی کے ماڈل کی جانب منتقل کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر، اگر کسی محفوظ علاقے کا بنیادی مقصد قدرتی ورثے کے مقامات کا تحفظ ہو تو مرکزی تحفظی علاقوں میں ضروری حفاظتی یا نمائشی سہولیات تعمیر کی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح قدیم حیاتیاتی فوسلز کی تحقیق و کھدائی اور سائنسی آگاہی، ماحولیاتی سیاحت یا تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں جیسے عوامی خدمات کے منصوبے بھی مناسب حدود کے اندر انجام دیے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح ایسے محفوظ علاقوں میں جہاں اہم ماحولیاتی وسائل زیر زمین موجود ہوں، وہاں سطحی علاقوں کے انتظام کو عمومی کنٹرول کے علاقوں کے اصولوں کے مطابق منظم کیا جا سکتا ہے۔ سابقہ ضوابط میں سطح اور زیر زمین علاقوں کے لیے یکساں اصول لاگو کیے جاتے تھے، جو سائنسی انتظام کے نقطۂ نظر سے ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتے تھے۔

مزید برآں، بعض قدرتی محفوظ علاقوں میں موسمی نوعیت کے مطابق مختلف انتظامی اقدامات اختیار کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر صوبہ یوننان میں واقع ہوی زے بلیک نیکڈ کرین قومی قدرتی محفوظ علاقہ تقریباً 129 مربع کلومیٹر پر محیط ہے جہاں بلیک نیکڈ کرین نامی پرندے اور اس کے مسکن یعنی دلدلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ یہ پرندے طویل عرصے سے مقامی کسانوں کی زرعی سرگرمیوں کے باعث دستیاب خوراک پر انحصار کرتے ہیں، جس سے انسان اور پرندوں کے درمیان ایک قدرتی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے۔

پرانے ضوابط کے تحت مرکزی علاقوں میں داخلے پر مکمل پابندی تھی، جس سے مقامی لوگوں کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ پرندوں کی خوراک کے ذرائع بھی محدود ہو جاتے تھے۔ نئی اصلاحات کے مطابق پرندوں کے سردیوں کے قیام کے دوران مرکزی تحفظی علاقوں میں سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں گے، جبکہ جب پرندے ہجرت کر جائیں تو اسی علاقے کو عارضی طور پر عمومی کنٹرول زون کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، جہاں مقامی باشندے اپنی معمول کی زرعی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔

ان اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قدرتی محفوظ علاقوں کے نظم و نسق کو زیادہ سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی متفرق ضابطہ بندی کو نافذ کرنے کے لیے سائنسی جواز ضروری ہوگا اور یہ اقدام صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بنیادی تحفظی اہداف اور ماحولیاتی افعال متاثر نہ ہوں۔

مجموعی طور پر ان اصلاحات کا مقصد ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کی فلاح اور سبز ترقی کے اہداف کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس طرح قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ معاشی اور سماجی ترقی کے لیے بھی ایک متوازن اور پائیدار راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093557 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More