یہ اچانک متوازن غذا کہاں سے آ گئی؟

(متوازن غذا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تصاویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں)

ہزارہا برس سے انسان مزے میں صحت مند زندگی بسر کر رہا تھا کہ اچانک بیسویں صدی میں متوازن غذا کے نسخے اس طرح مارکیٹ میں آ گئے جیسے موبائل فون۔ موبائل فون نے ہاتھ میں آکر ہاتھ بے کار نہیں کئے بلکہ ہمارے ذہن بھی بے کار کر دئے ہیں۔ نہ تو جھوٹ کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی کسی کو کسی سے ملنے کا وقت ملتا ہے کیونکہ معلومات کی بھرمار میں کس کو فرصت ہے کہ وہ اس بات کی تحقیق کرے کہ وڈیو جو وہ دیکھ رہا ہے اصلی ہے یا من گھڑت، بس مزہ آرہا ہے تو ٹھیک ہے۔ ہم اپنی معلومات کے لئے کسی ڈکشنری،انسائکلو پیڈیا یا گوگل جیسی ویب سائٹ کا استعمال کرتے ہیں تو ہر وقت تیار مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس ) سے جواب آتا ہے جسے ہم مستند مان کر ایک دوسر ے سے بحث میں تلخی کا رنگ گھول کر اپنے تعلقات خراب کر لیتے ہیں، اور یہ سب آن لائن ہوتا ہے، ملاقات کا تو وقت ہی باقی نہیں رہتا۔
اسی طرح صحت عامہ کی مہمات کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، ورزش، اور احتیاطی نگہداشت پر توجہ مرکوز کرنے والے جدید صحت کے نکات 20ویں صدی میں شروع ہوئے اور تیار ہوئے۔ کلیدی رہنما خطوط اب نمک کو کم کرنے،چینی کو محدود کرنے، اور دائمی بیماریوں سے بچنے کے لیے جسمانی سرگرمی بڑھانے پر مرکوز ہیں۔ باقاعدہ قابل عمل صحت کی تجاویز میں شامل ہیں جیسے غذائیت: پھلوں، سبزیوں اور سارا اناج کے ساتھ متوازن، کم چکنائی والی غذا۔سرگرمی: زیادہ تر دنوں میں 30 منٹ کی جسمانی سرگرمی۔طرز زندگی: 7-8 گھنٹے کی معیاری نیند کو ترجیح دینا، تناؤ کا انتظام کرنا، اور ہائیڈریٹ رہنا۔روک تھام: باقاعدگی سے اسکریننگ، ویکسینیشن، اور سگریٹ نوشی سے بچنا وغیرہ وغیرہ۔اس کے باوجود دو چار دائمی و وبائی امراض کے علاوہ تمام امراض میں آبادی کے تناسب سے اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ صحت و تندرستی کے بارے میں نصیحتوں اور مشوروں کی ایسی بھرمار ہے کہ ان پر عمل کرنے کا وقت ہی باقی نہیں رہتا۔
گویا یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایک ہاتھ میں موبائل فون ہو، دوسرے ہاتھ سے اس کی اسکرین پر دنیا بھر سے رابطہ اور بے پناہ معلومات میں اضافہ کی خاطر انگلی و انگوٹھا دونوں بہ یک وقت استعمال ہو رہے ہوں، کانوں میں ائیر پوڈ لگے ہوں تو سامنے گٹر کا ڈھکن کھلا ہو یا کوئی من چلا ٹکر مار جائے تو کسی کو فرصت نہیں کہ وہ ہماری مدد کو آئے، صحت و تندرستی گئی بھاڑ میں۔
Syed Musarrat Ali
About the Author: Syed Musarrat Ali Read More Articles by Syed Musarrat Ali: 379 Articles with 280489 views Basically Aeronautical Engineer and retired after 41 years as Senior Instructor Management Training PIA. Presently Consulting Editor Pakistan Times Ma.. View More