روایتی سائیکل سے اسمارٹ ہیلتھ پلیٹ فارم تک کا سفر
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
روایتی سائیکل سے اسمارٹ ہیلتھ پلیٹ فارم تک کا سفر تحریر: شاہد
افراز خان ،بیجنگ
شمالی چین کے شہر تیان جن میں ایک قدیم صنعتی
برانڈ نے جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج سے خود کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق
ڈھالنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ کبھی گھریلو استعمال کی ایک سادہ سواری سمجھی
جانے والی سائیکل اب مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز کی مدد سے ایک ذہین
صحت نگرانی نظام میں تبدیل ہو رہی ہے۔
تیان جن فلائنگ پیجن
سائیکل ساز کمپنی کے نمائشی ہال میں موجود پرانی سائیکلیں اس برانڈ کی
تاریخی اہمیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ چین کی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ
سائیکل بنانے والی اس کمپنی کی مصنوعات ماضی میں قومی وقار کی علامت اور
گھریلو زندگی کا لازمی حصہ سمجھی جاتی تھیں۔
تاہم موجودہ دور
میں یہ روایتی برانڈ اپنی شناخت کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ "اسمارٹ
کور" ٹیکنالوجی کے استعمال سے، جس میں لچکدار سینسرز، مصنوعی ذہانت کے
الگورتھمز اور انٹرنیٹ آف تھنگز شامل ہیں، سائیکل کو ایک جدید "ہیلتھ
مینجمنٹ ٹرمینل" میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق نئی
ٹیکنالوجی کے تحت تیار کردہ سائیکلیں صارف کے دل کی دھڑکن اور پیڈلنگ کی
رفتار کو حقیقی وقت میں مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے یہ محض ایک
سواری کے بجائے انسانی جسمانی حالت کو سمجھنے والی مشین بن چکی ہے۔
اس پیش رفت میں تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک کو بھی کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
تیان جن یونیورسٹی کے تعاون سے جدید سینسنگ سسٹمز تیار کیے گئے ہیں، جن کے
ذریعے سائیکل کو ذہین بنانے کا عمل ممکن ہوا ہے۔
ماہرین کے
مطابق اس تبدیلی کے پیچھے حکومتی پالیسیوں کا بھی اہم کردار ہے۔ چین کی
جانب سے روایتی برانڈز کی بحالی اور جدت کے فروغ کے لیے متعارف کردہ حکمت
عملی کے تحت تیان جن کی بلدیاتی حکومت نے 2023ء میں خصوصی پالیسی پیکج جاری
کیا، جس کے ذریعے فلائنگ پیجن جیسی مایہ ناز اور "وقت آزمودہ" کمپنیوں کو
جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ترغیب دی گئی۔
ان اقدامات میں
ٹیکنالوجی میں پیش رفت پر مراعات، تحقیقی کامیابیوں کے لیے انعامات، اور
جامعات و صنعت کے درمیان اشتراک کو فروغ دینا شامل ہے۔ انہی سہولیات کے تحت
کمپنی نے متعدد اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ طویل مدتی تحقیقی منصوبے شروع
کیے ہیں، جن میں ہوا کی مزاحمت کم کرنے اور انسانی جسم کے مطابق بہتر
ڈیزائن تیار کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔
جدت نے تحقیق و ترقی کے
دورانیے کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔تیانجن میں نیشنل سپر کمپیوٹر
سینٹر کی معاونت سے پیشہ ورانہ ریسنگ سائیکل کے فریم کی تیاری کا دورانیہ
کئی سال سے کم ہو کر صرف آٹھ ماہ رہ گیا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے بنیادی
ڈیزائنز کا تجزیہ اور بہتری ممکن بنائی جا رہی ہے، جس سے نئے ماڈلز کی
تیاری میں تیزی آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں کمپنی
نے 45 لاکھ یونٹس کی فروخت ریکارڈ کی، جبکہ سالانہ آمدنی میں تقریباً 40
فیصد اضافہ ہوا۔ یہ کامیابی صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں بلکہ تیان جن شہر
میں وسیع تر صنعتی رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں 70 سے زائد قومی سطح کے
روایتی برانڈز کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے
مطابق جدید صارفین اب صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ جذباتی اور ثقافتی وابستگی
بھی چاہتے ہیں، جس کے باعث روایتی برانڈز کے لیے جدیدیت اور ورثے کا امتزاج
ناگزیر ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین میں اعلیٰ معیار،
ذہین اور ماحول دوست مینوفیکچرنگ پر بڑھتے ہوئے زور کے تناظر میں " فلائنگ
پیجن " جیسے برانڈز کی تبدیلی صنعتی ترقی کے نئے رجحانات کی نشاندہی کرتی
ہے۔ مستقبل میں اس نوعیت کی جدت نہ صرف روایتی صنعتوں کو نئی زندگی دے گی
بلکہ کھیلوں اور صحت سے متعلق مصنوعات کے شعبوں میں بھی ترقی کے نئے مواقع
پیدا کرے گی۔ |
|