دل میں بس گئی عید
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
کبھی عید صرف ایک دن کا تہوار نہیں تھی، بلکہ ایک مکمل احساس اور کیفیت ہوتی تھی جو رمضان کے پہلے دن سے دل میں بسنے لگتی تھی۔ عید کی خوشیاں محض خریدی نہیں جاتیں تھیں، بلکہ محسوس کی جاتی تھیں۔ گھر کے کونے کونے میں چھوٹی چھوٹی ہلچل ہوتی، امی کی مصروفیت، ابا جی کی مسکراہٹ، بہن بھائیوں کی شرارتیں، اور سب کے درمیان سب سے بڑی خوشی اور رشتوں کی بنیاد وہ عید کارڈز ہوتے تھے جو محبت اور جذبات کا اظہار کرتے تھے۔ 1960 سے 1990 کے دوران عید کارڈ کلچر اپنے عروج پر تھا۔ ہر گلی، ہر محلہ، ہر بازار میں اسٹال لگتے، جہاں بچے، نوجوان اور بڑے اپنی پسند کے رنگین کارڈز خریدتے۔ یہ کارڈز صرف کاغذ کے ٹکڑے نہیں تھے، بلکہ ہر کارڈ میں محبت، دوستی اور رشتوں کی چھپی ہوئی خوشبو ہوتی تھی۔ لوگ ان کارڈز پر ہاتھ سے لکھے گئے پیغامات، چھوٹے جذباتی جملے اور کبھی کبھار مختصر شاعری بھی لکھتے، اور انہیں دور دراز علاقوں میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھیجتے۔ ہر کارڈ کے ساتھ ایک لمحہ، ایک یاد اور ایک احساس جڑ جاتا تھا، جو آج کے دور میں کہیں نظر نہیں آتا۔ عید سے پہلے ہر کوئی انتظار میں ہوتا: کس کا کارڈ آیا، کس کا نہیں آیا، اور کب آئے گا۔ بچے، نوجوان اور بڑے سب اپنے کارڈز کو سجاتے، خوشبو لگاتے اور دل کی گہرائی سے چند لفظ لکھتے۔ یہ الفاظ کبھی خوبصورت خطاطی میں ہوتے، کبھی معصوم اور دل کو چھو لینے والے جملے۔ ہر لفظ ایک محبت بھرا پیغام ہوتا، جو صرف پڑھنے والے کے دل تک پہنچتا۔ عید کی صبح ایک الگ ہی خوشی ہوتی تھی۔ سب جلدی اٹھتے، نئے کپڑے پہنتے، خوشبو لگاتے اور ایک ساتھ نماز عید کے لیے نکلتے۔ راستے میں سب کو سلام اور دعائیں دیتے، ہر چہرہ خوشی اور محبت سے بھرا ہوتا۔ نماز کے بعد گلے ملنا، ہنسی مذاق، کھانے پینے کی خوشیاں اور بچوں کی شرارتیں—یہ سب مل کر عید کا جادو پیدا کرتے، اور عید کارڈز کی محبت کے ساتھ یہ خوشیاں مکمل ہوتی تھیں۔ وہ معصوم اور چھوٹے اشعار جو بچوں کے کارڈز میں لکھے جاتے، آج بھی دل کو چھو جاتے ہیں: عید عید کرتے ہو، عید بھی آ جائے گی، پہلے روزے تو رکھو، عید سکھانے آ جائے گی کیک ڈبے میں ڈبا، ڈبے میں کیک، میرا دوست لاکھوں میں ایک یہ کارڈز نہ صرف جذبات کا اظہار تھے بلکہ پرانے رشتوں کی یادیں، محبتوں کی گہرائی، اور تعلقات کی شدت کا مظہر بھی تھے۔ ہر کارڈ کے ساتھ ایک لمحہ، ایک یاد، اور ایک احساس جڑ جاتا تھا۔ دوستوں اور رشتہ داروں کے کارڈز کے لیے وہ انتظار اور بےچینی، آج کے دور میں کہیں نظر نہیں آتی۔ بچپن کی عید کی یادیں اور کارڈ کلچر ایک الگ ہی دنیا ہوتی تھی۔ بچے صبح سویرے اٹھ کر اپنی پسند کے کارڈز دیکھتے، انہیں سجاتے اور چھوٹے چھوٹے جملے لکھتے۔ ہر کارڈ کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوتی، ہر لفظ میں محبت کی گہرائی ہوتی۔ یہ وہ لمحے تھے جب دل صاف اور خوشیوں سے بھرپور ہوتا تھا۔ 2000 کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ انٹرنیٹ، موبائل، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا نے عید کارڈز کی جگہ لے لی۔ 2009 میں واٹس ایپ آیا اور سب کچھ ایک کلک میں دنیا بھر میں پہنچنے لگا۔ اب نہ کوئی انتظار رہ گیا، نہ خوشبو، نہ ہاتھ سے لکھا ہوا محبت بھرا پیغام۔ سب کچھ آسان اور فوری ہو گیا، لیکن اس کے ساتھ محبت اور جذبات کی گہرائی بھی ختم ہو گئی۔ اب عید آتی ہے، لوگ خوشیاں مناتے ہیں، مگر دل خالی خالی رہ جاتا ہے۔ پرانے رشتے، پرانی محبتیں، وہ محفلیں، وہ ہنسی مذاق، سب ختم ہو چکے ہیں۔ خون سفید ہو گیا، لوگ بدل گئے، محبت کی شدت بدل گئی، اور وہ عید جو دل میں بس جاتی تھی، اب صرف یادوں میں رہ گئی ہے۔ یہ سب کچھ یاد کرتے ہوئے ایک خاموشی اور اداسی دل میں گھل جاتی ہے۔ ہر کارڈ کے ساتھ جو چھوٹا سا لمحہ جڑا ہوتا تھا، وہ آج بھی دل کو تھپتھپاتا ہے، مگر اب وہ صرف یادیں رہ گئی ہیں۔ وہ انتظار، وہ خوشی، وہ بےچینی… سب ختم ہو گئی۔ عید کے پرانے کارڈز کی یہ یادیں بتاتی ہیں کہ محبت صرف لفظوں میں نہیں، بلکہ عمل، انتظار اور احساس میں بھی ہوتی ہے۔ آج کے کلک اور میسجز کی دنیا میں یہ سب کچھ کھو گیا ہے، مگر دل کے کسی گوشے میں وہی پرانی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ عید جو دل میں بس جاتی تھی، اور ہر ہاتھ سے لکھا کارڈ محبت کا ایک خاموش پیغام ہوتا تھا۔ تحریر: سردار محمد شعیب سیفی |
|