نظم سمجھداری کا بوجھ

شاعر رانا عثمان ارشد

نظم: سمجھداری کا بوجھ

زندگی کبھی ایک جیسی نہیں ہوتی
کبھی ہنسی خود راستہ ڈھونڈ لیتی ہے
کبھی آنکھیں
بغیر روئے بھی تھک جاتی ہیں

وہ وقت اچھا تھا
جب ہم نادان تھے
کم جانتے تھے
کم سوچتے تھے
اور زیادہ جیتے تھے

تب راتیں لمبی نہیں لگتیں تھیں
نیند سوال نہیں کرتی تھی
وسوسے نام کی کوئی چیز
دل کے دروازے تک نہیں آتی تھی

ہم گھومتے تھے
ہنستے تھے
کسی کا خیال آ جانا
پورے دن کو خوبصورت بنا دیتا تھا

پھر ہم سمجھدار ہو گئے
اور زندگی مشکل ہوتی چلی گئی

اب ہر خوشی سے پہلے
سوچ کی اجازت لینی پڑتی ہے
ہر قدم پر
انجام کا حساب لگانا پڑتا ہے

نیند اب آنکھوں میں نہیں
بس وقت میں آتی ہے
دل اب کسی سے نہیں
خود سے بھی کم بات کرتا ہے

عشق بھی اب
جذبات نہیں مانگتا
سمجھداری چاہتا ہے
اور یہی سب سے بڑی سزا ہے

مگر پھر بھی
کہیں دل کے کسی کونے میں
ایک ضد ابھی زندہ ہے
کہ سب ختم نہیں ہوا

شاید ایک دن
یہ سمجھداری نرم ہو جائے
اورعثمان یہ زندگی
پھر سے سانس لینا سکھا دے
 
Rana Usman Arshad
About the Author: Rana Usman Arshad Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.