| دنیا کی ہر اک شے میں تغیر ہے فنا ہے ۔ |
|
|
حمدیہ غزل ۔۔۔۔،،،، یونس مجاز
دنیا کی ہر اک شے میں تغیر ہے فنا ہے۔ باقی ہے اگر کچھ تو بس اک توہی خدا ہے۔
زیبا ہےخدائی تجھے بس تو ہی خدا ہے۔ “اے رب_ سماوات تری ذات ورا ہے” پتھر میں ہے کیڑے کوبھی جورزق دیا ہے ہر چیز کا خالق مالک_ار ض وسماہے
سب تیری ہی قدرت کے کرشمے ہیں جہاں میں یہ چاند چمکتا ہے جو سورج بھی کھڑا ہے
عزت بھی ہے شہرت بھی مجھے رزق ملا ہے۔ صدقہ ہے نبی (ص)کا مرے مولا کی عطا ہے۔
میں بھی تو سیہ کار گناہوں میں ڈوبا ہوں اے صفت تری بھی کہ تو بخشش_ خطا ہے۔
سجدے میں مجاز ہم جو بھی مانگیں وہ ملے گا رحمت کی گھڑی میں تو برستی ہی عطا ہے
|