ایران کی شہید بچیوں کے نام

ایران کی شہید بچیوں کے نام
(مرثیہ آمیز مسدس)
وہ صبح کتنی نرم تھی، آنگن میں روشنی تھی
شبنم کے آئینوں میں عجب تازگی بسی تھی
کلیوں کے لب پہ جیسے ہنسی کی لڑی سجی تھی
بچیوں کے چہروں پر بھی وہی دلکشی بسی تھی
دنیا کو کیا خبر تھی قیامت بھی آئے گی
بچپن کی یہ بہار بھی خوں میں نہائے گی

وہ ننھی بچیاں کہ ابھی کھیلنے کی عمر تھی
گڑیاؤں کے سنگ ان کی معصوم سی سحر تھی
آنکھوں میں خوابِ صبح تھے دل میں نئی ڈگر تھی
ہر سانس میں بہار کی خوشبو بھی معتبر تھی
ہر سمت زندگی کی تمنا نظر آئی
ہر دل میں مسکراہٹوں کی روشنی سمائی

وہ کوچہ وہ گلیاں جہاں قہقہے بکھرتے تھے
ننھے قدم بہار کے نغمے بھی لکھتے تھے
معصوم خواہشوں کے دیے بھی وہیں جلتے تھے
ہر سمت زندگی کے اجالے بھی ملتے تھے
اک دم سے وقت نے وہ منظر بدل دیا
بچپن کا ایک خواب بھی مٹی میں مل گیا

اچانک فضا میں شورِ قیامت سا اٹھ گیا
بارود کی مہک سے زمانہ بھی ڈر گیا
ہر سمت خوف و ہول کا منظر بکھر گیا
بچپن کا گلستاں بھی لہو میں نہا گیا
وہ ننھی کلیاں خاک پہ سوئی نظر آئیں
معصوم ہنسی خون میں ڈوبی نظر آئیں

اے سرزمینِ ایران کی معصوم بیٹیو
اے روشنی کے خواب کی مظلوم بیٹیو
اے درد کی کتاب کی معصوم بیٹیو
انسان کی ہر آس کی معصوم بیٹیو
کس جرم پہ تمہاری ہنسی چھین لی گئی
کیوں زندگی تمہاری ابھی چھین لی گئی

ماؤں کے دل پہ آج بھی اک زخم سا کھلا
آنکھوں میں اشک بن کے لہو آج بھی جلا
ہر گھر میں درد و غم کا دیا آج بھی جلا
انصاف کی صدا کو زمانہ نہ دے سکا
ہر سمت ظلمتوں کا ہی سایہ نظر آیا
انصاف کا چراغ بھی مدھم نظر آیا

وہ مائیں جن کی گود میں جنت بسی ہوئی
وہ مائیں جن کی آنکھ میں راحت ہنسی ہوئی
وہ مائیں جن کی سانس میں خوشبو رچی ہوئی
وہ مائیں جن کی زندگی خوشیوں سے بھری ہوئی
آج ان کے دل پہ غم کا اندھیرا اتر گیا
ہر خوابِ زندگی بھی لہو میں بکھر گیا

کوئی پکار اٹھا کہ کہاں ہے وہ روشنی
انصاف کی وہ صبح کہاں ہے وہ روشنی
انسان کے ضمیر کی دنیا کہاں گئی
رحمت کی وہ صدا بھی نہ جانے کہاں گئی
کیوں ظلم کے مقابل انسان خاموش ہے
کیوں عدل کا چراغ ابھی تک خموش ہے

لیکن یہ خون خاموش کب تک رہے گا پھر
تاریخ کے ورق پہ یہ منظر لکھے گا پھر
انسان کے ضمیر کو آئینہ دے گا پھر
دنیا کے دل میں درد کا دریا بہے گا پھر
جب بھی کہیں پہ ظلم کی آندھی چلے گی پھر
بچپن کی یہ شہادت صدا بن کے جلے گی پھر

اے ننھی شہیدو! تمہیں جہاں کاسلام ہے
مظلومیت کے درد میں تمہارا ہی نام ہے
ہر ماں کی آنکھ آج بھی تمہارا پیام ہے
انسان کے ضمیر میں تمہارا مقام ہے
تم سو گئیں تو درد کی دنیا جگا گئیں
انسان کو ضمیر کا آئینہ دکھا گئیں

یہ خونِ بے گناہ کبھی رائیگاں نہ ہو
انسان کا ضمیر کہیں بے نشاں نہ ہو
دنیا میں ظلم پھر سے کہیں جاوداں نہ ہو
بچپن پہ پھر ستم کا کوئی آسماں نہ ہو
یہ آرزو ہے عدل کا سورج نکل پڑے
اور ظلم کی سیاہ شب آخر بدل پڑے
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 248990 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More