چین کا غیر یقینی دنیا میں تعاون اور امید کا پیغام
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کا غیر یقینی دنیا میں تعاون اور امید کا پیغام تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
آج کی دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں غیر یقینی حالات، سیاسی کشیدگی اور معاشی دباؤ نے عالمی نظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں وہ پلیٹ فارمز خاص اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو مکالمے، تعاون اور مشترکہ ترقی کی راہیں ہموار کریں۔ اسی تناظر میں چین کے خوبصورت جزیرے ہائی نان کے ساحلی قصبے بواؤ میں منعقد ہونے والا بواؤ ایشیائی فورم ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں دنیا بھر سے رہنما، ماہرین اور کاروباری شخصیات ایک بہتر اور متوازن مستقبل پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے۔
اس اجتماع کا بنیادی مقصد صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کا اجتماعی حل تلاش کرنا ہے۔ موجودہ حالات میں جب دنیا میں تحفظ پسندی اور یکطرفہ پالیسیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، ایسے میں اس فورم کو امید، اعتماد اور ہم آہنگی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں ہونے والی گفتگو اس بات کا اظہار ہے کہ اختلافات کے باوجود تعاون کا راستہ اب بھی موجود ہے۔ اگر اس فورم کے سفر پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ ایشیا کی ترقی کا عکاس پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب بواؤ ایک خاموش اور غیر معروف مقام تھا، لیکن آج یہ عالمی سطح پر ایک مؤثر آواز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ گزشتہ پچیس برسوں میں ایشیا نے جس تیزی سے ترقی کی ہے، اس میں اس فورم نے مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی عرصے میں چین کی معیشت بھی غیر معمولی طور پر مضبوط ہوئی اور وہ عالمی معیشت میں ایک نمایاں طاقت کے طور پر سامنے آیا۔
ایشیا آج عالمی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ اس خطے کی بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیاں، سرمایہ کاری کے مواقع اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت اسے دنیا کا سب سے متحرک خطہ بنا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ مسلسل اس طرف مبذول ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون بھی اس کی مجموعی طاقت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
ان تمام مثبت پہلوؤں کے باوجود دنیا کو درپیش چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے ترقی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ تاہم اس فورم میں شریک ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ان مسائل کا حل صرف باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی میں ہی پوشیدہ ہے۔ ماضی کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ جب ممالک مل کر کام کرتے ہیں تو بڑے سے بڑے بحران کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
چین کا کردار اس پورے عمل میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم رکھا بلکہ عالمی معیشت کو بھی سہارا دیا ہے۔ اس کی پالیسیوں میں تسلسل اور ترقی کے واضح اہداف نے اسے ایک قابل اعتماد معاشی قوت بنا دیا ہے۔ حالیہ پندرہواں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف اندرونی ترقی کو تیز کرنا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
چین کی کھلی معیشت کی پالیسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عالمی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اسی سلسلے میں ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ جیسے منصوبے سامنے آئے ہیں، جو تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چین کی ترقی کا تصور صرف اپنے فائدے تک محدود نہیں بلکہ اس میں دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ایسے ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مشترکہ ترقی اور عالمی توازن کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نقطہ نظر آج کی دنیا میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بواؤ میں ہونے والی یہ عالمی نشست صرف ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مشکلات کے باوجود مشترکہ مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔ اگر ممالک باہمی احترام، تعاون اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا حل نکالا جا سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور مستحکم عالمی نظام بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ |
|