دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں خوراک، توانائی اور سیاست ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اگلے دو سالوں میں دنیا کو بڑے پیمانے پر غذائی قلت (Food Shortage) کا سامنا ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب سادہ “ہاں” یا “نہیں” میں نہیں بلکہ حالات کے مجموعی تجزیے میں پوشیدہ ہے۔ عالمی حالات: خطرے کی گھنٹی کیوں بج رہی ہے؟ گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے کئی بڑے بحران دیکھے ہیں—جنگیں، موسمیاتی تبدیلی، مہنگائی، اور سپلائی چین میں رکاوٹیں۔ خاص طور پر Ukraine اور Russia کے درمیان جنگ نے گندم اور دیگر اجناس کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا، کیونکہ یہ دونوں ممالک دنیا کے بڑے اناج برآمد کرنے والوں میں شامل ہیں۔اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً Iran اور Israel کے درمیان تنازع، توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو کھاد، ٹرانسپورٹ اور زرعی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے—جس کا براہ راست اثر خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی: خاموش مگر سب سے بڑا خطرہ اگر کسی ایک عنصر کو سب سے بڑا خطرہ کہا جائے تو وہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں: شدید خشک سالی, غیر متوقع بارشیں سیلاب اور گرمی کی لہریں زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں۔ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک پہلے ہی خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو اگلے دو سالوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ عالمی مہنگائی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ خوراک کی دستیابی صرف پیداوار پر نہیں بلکہ رسائی (access) پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ یعنی: خوراک موجود ہو سکتی ہے مگر لوگ اسے خریدنے کے قابل نہ ہوں یہ صورتحال خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں زیادہ خطرناک ہے، جہاں آمدنی کم اور مہنگائی زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ: دنیا میں مجموعی طور پر خوراک کی پیداوار اب بھی کافی ہے لیکن اس کی تقسیم غیر مساوی ہے اس لیے ماہرین کے مطابق اگلے دو سالوں میں: عالمی سطح پر مکمل قحط کا امکان کم ہے مگر علاقائی غذائی بحران (Regional Food Crises) کا خطرہ بہت زیادہ ہے خاص طور پر: افریقہ کے کچھ حصے جنوبی ایشیا کے غریب علاقے جنگ زدہ خطے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ Pakistan اور India جیسے ممالک میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ وسائل محدود ہیں۔ اگر: موسمیاتی مسائل بڑھتے رہے درآمدی خوراک مہنگی ہوتی رہی تو ان ممالک کو بھی خوراک کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات کو۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ اگلے دو سالوں میں دنیا کو مکمل غذائی قلت کا سامنا نہیں ہوگا، مگر خطرہ حقیقی ہے۔ اصل مسئلہ خوراک کی کمی نہیں بلکہ اس کی منصفانہ تقسیم اور معاشی رسائی ہے۔ اگر عالمی طاقتیں، حکومتیں اور ادارے بروقت اقدامات کریں تو اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے۔ ورنہ یہ مسئلہ نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے غذائی قلت کا خطرہ صرف کسان یا حکومت کا مسئلہ نہیں—یہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ آنے والے دو سال اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ دنیا اس چیلنج کا مقابلہ کرتی ہے یا اس کے آگے جھک جاتی ہے۔
|