موروثی سیاست سے خاندانی سیاست تک پیپلز پارٹی کا بدلتا چہرہ

پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) ایک وقت میں ملک کی سب سے بڑی عوامی اور نظریاتی جماعت سمجھی جاتی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس پارٹی کی بنیاد ایسے اصولوں پر رکھی تھی جن میں عوامی طاقت، جمہوریت، اور سماجی انصاف نمایاں تھے۔ “روٹی، کپڑا اور مکان” جیسے نعرے نے عام آدمی کو سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ جماعت اپنی اصل روح سے دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

ابتدائی طور پر پیپلز پارٹی میں قیادت کا تسلسل ضرور ایک خاندان کے گرد رہا، جسے موروثی سیاست کہا جا سکتا ہے، مگر اس کے باوجود پارٹی میں نظریاتی کارکنوں، سینئر رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کا کردار موجود تھا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں بھی پارٹی ایک حد تک ادارہ جاتی شکل رکھتی تھی، جہاں مختلف آوازیں سنی جاتی تھیں۔

تاہم موجودہ دور میں صورتحال کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ ناقدین کے مطابق پیپلز پارٹی اب موروثی سیاست سے آگے بڑھ کر خاندانی سیاست کی ایک واضح مثال بن چکی ہے، جہاں قیادت کا دائرہ عملاً زرداری خاندان تک محدود ہو گیا ہے۔ اہم فیصلوں، عہدوں اور پارٹی کے مستقبل کا تعین چند مخصوص افراد کے ہاتھ میں نظر آتا ہے۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں سب سے بڑا نقصان میرٹ اور نظریاتی سیاست کو ہوا ہے۔ وہ کارکن جو دہائیوں سے پارٹی کے ساتھ جڑے رہے، آج خود کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور محسوس کرتے ہیں۔ پارٹی کے اندر جمہوری کلچر کمزور ہوا ہے، اور اختلاف رائے کی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔

سیاسی جماعتیں جب ادارہ ہونے کے بجائے خاندان کے گرد گھومنے لگیں تو ان کی جمہوری ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی، جو کبھی وفاق کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب جغرافیائی اور سیاسی طور پر سکڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر پنجاب میں اس کی کمزور موجودگی اس کا واضح ثبوت ہے۔

یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی جماعت کی بقا صرف نام یا خاندان سے نہیں بلکہ کارکردگی، عوامی رابطے اور اندرونی جمہوریت سے مشروط ہوتی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کو دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ حاصل کرنی ہے تو اسے خاندانی دائرے سے نکل کر ایک حقیقی سیاسی ادارہ بننا ہوگا، جہاں کارکن کی آواز سنی جائے اور قیادت میرٹ کی بنیاد پر ابھرے۔

آخر میں، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا پیپلز پارٹی دوبارہ ایک عوامی تحریک بن سکتی ہے، یا وہ مستقل طور پر ایک خاندانی سیاسی ڈھانچے میں محدود ہو چکی ہے؟ اس کا جواب آنے والا وقت اور پارٹی کی اپنی اصلاحی کوششیں ہی دیں گی۔

 

Tahir Saeed
About the Author: Tahir Saeed Read More Articles by Tahir Saeed: 3 Articles with 460 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.