سوال صرف ایک ہے
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
ملک اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر طبقہ فکر کے ذہن میں بے شمار خدشات اور سوالات جنم لے رہے ہیں، مگر ان سب کے بیچ ایک بنیادی سوال ابھر کر سامنے آتا ہے: ہم آخر کہاں کھڑے ہیں؟ یہ سوال محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس ہے جو ہر شہری کے دل میں موجود ہے۔ معاشی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو حالات تشویشناک دکھائی دیتے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کے لیے جینا مشکل بنا چکا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، بجلی اور ایندھن جیسی بنیادی ضروریات اب ایک بڑے بوجھ کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جن کی آمدن محدود ہے مگر اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ بیروزگاری بھی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں در بدر پھر رہے ہیں، مگر مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف معاشی دباؤ کو بڑھایا ہے بلکہ نوجوان نسل میں مایوسی کو بھی جنم دیا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک علامت ہوتی ہے۔ سیاسی حالات بھی استحکام کا شکار نہیں۔ اقتدار کی رسہ کشی، ایک دوسرے پر الزامات، اور ذاتی مفادات کی سیاست نے قومی مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے توجہ زیادہ تر اپنی سیاسی برتری ثابت کرنے پر مرکوز نظر آتی ہے۔ اس رویے نے عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سماجی طور پر بھی معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ برداشت، صبر اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سننے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جانے لگا ہے، جس سے معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے، جو بدقسمتی سے کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے بھی توجہ کے محتاج ہیں۔ معیاری تعلیم تک رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے جبکہ صحت کی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ ایک مضبوط قوم کی بنیاد انہی شعبوں پر ہوتی ہے، اور ان کی کمزوری پورے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا حل کیا ہے؟ اس کا جواب کسی ایک ادارے یا فرد کے پاس نہیں بلکہ پوری قوم کو مل کر تلاش کرنا ہوگا۔ دیانتداری، محنت، اور قانون کی پاسداری جیسے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ قیادت کو چاہیے کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دے، جبکہ عوام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ یہ وقت مایوسی کا نہیں بلکہ سنجیدگی سے سوچنے اور درست فیصلے کرنے کا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے رویوں اور ترجیحات کو درست نہ کیا تو آنے والا وقت مزید مشکلات لے کر آئے گا۔ مگر اگر ہم نے اتحاد، برداشت اور محنت کو اپنا شعار بنا لیا تو یہی مشکلات ہمارے لیے ترقی کا راستہ بھی ہموار کر سکتی ہیں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حالات چاہے جتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں، امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کیونکہ قومیں مشکلات سے ہی سیکھتی اور آگے بڑھتی ہیں۔ سوال آج بھی وہی ہے، مگر جواب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ |
|