آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی شہ رگ یا جنگ کا میدان؟

آبنائے ہرمز بظاہر ایک تنگ سمندری راستہ ہے مگر حقیقت میں یہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سیاست کا مرکز ہے جو کسی بھی وقت عالمی تنازع کا سبب بن سکتا ہے۔
فضل خالق خان (مینگورہ سوات)
دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے توازن کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نہایت اہم مقام آبنائے ہرمز ہے جسے بجا طور پر دنیا کی “شہ رگ” کہا جاتا ہے۔ یہ تنگ مگر نہایت مصروف سمندری راستہ خلیج فارس کو بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے اور اسی کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کا تیل دنیا بھر کی معیشتوں تک پہنچتا ہے۔
جغرافیائی طور پر "ہرمز" ایک تنگ راستہ ہے جو بڑی اہمیت کا حامل ہے، آبنائے ہرمز کی لمبائی تقریباً 167 کلومیٹر ہے جبکہ اس کی چوڑائی مختلف مقامات پر مختلف ہے۔ بعض جگہوں پر یہ تقریباً 95 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے، مگر اس کا تنگ ترین حصہ محض 33 کلومیٹر رہ جاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اتنے وسیع پانی میں جہازوں کے لیے مخصوص محفوظ راستہ (Shipping Lane) صرف چند کلومیٹر چوڑا ہوتا ہے جس سے اس کی حساسیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
یہ آبی گزرگاہ جغرافیائی طور پر ایک طرف ایران اور دوسری طرف عمان (خصوصاً مسندم کا علاقہ) کے درمیان واقع ہے، قریبی خطے میں متحدہ عرب امارات بھی موجود ہے۔ اگرچہ یہ بین الاقوامی سمندری راستہ ہے اور تمام ممالک کے جہازوں کو یہاں سے گزرنے کا حق حاصل ہے مگر اس کی جغرافیائی پوزیشن ایران کو ایک خاص اسٹریٹجک برتری فراہم کرتی ہے۔
عالمی معیشت کے حوالے سے آبنائے ہرمز پر اکثریتی ممالک کا انحصار ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد سے زائد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ ہر روز لاکھوں بیرل خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کے ٹینکرز یہاں سے گزرتے ہیں۔ اگر کسی بھی وجہ سے یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں جس کے اثرات براہِ راست ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں اقسام کی معیشتوں پر پڑتا ہے ۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے کردار، طاقت، دباؤ اور حکمتِ عملی کی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار ہے۔ ایران بارہا یہ عندیہ دے چکا ہے کہ اگر اس پر سخت اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں یا اس کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اس راستے کو بند بھی کر سکتا ہے۔ ایرانی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب کی فورسز اس علاقے میں مسلسل گشت کرتی ہیں۔ ماضی میں کئی مواقع پر ایرانی حکام نے غیر ملکی آئل ٹینکرز کو روکنے یا ان کی نگرانی کرنے جیسے اقدامات بھی کیے، جس سے عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
یہ صورتحال اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز صرف تجارت کا راستہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔
موجود صورتحال کی تناظر میں تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا اس کا کوئی متبادل موجود ہے؟ تو اس کا سیدھا سیدھا جواب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل تاحال موجود نہیں، البتہ کچھ ممالک نے جزوی متبادل کے طور پر پائپ لائنز تعمیر کی ہیں۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن خلیج فارس کے بجائے بحیرہ احمر تک تیل پہنچاتی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کی حبشان، فجیرہ پائپ لائن فجیرہ بندرگاہ کے ذریعے تیل برآمد کرنے میں مدد دیتی ہے جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے۔
تاہم یہ تمام متبادل راستے مجموعی طور پر اس گزرگاہ کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی گنجائش محدود ہے اور وہ عالمی طلب کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتے۔
مستقبل کے خطرات اور امکانات پر نظر ڈالیں تو آبنائے ہرمز کا مستقبل کئی اہم عوامل سے جڑا ہوا ہے جیسا کہ
1۔ اگر ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو یہ راستہ کسی بھی وقت خطرے میں پڑ سکتا ہے، جو عالمی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
2۔ دنیا بتدریج قابلِ تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے مگر فی الحال تیل کی اہمیت کم نہیں ہوئی، اس لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی برقرار ہے۔
3۔ مستقبل میں مزید پائپ لائنز اور متبادل راستے بنائے جا سکتے ہیں مگر ان کی لاگت اور جغرافیائی پیچیدگیاں اس عمل کو سست بناتی ہیں۔
اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امن کا راستہ اپنایا جائے یا اس معاملے کو تنازع کا مرکز رکھا جائے؟
آبنائے ہرمز بظاہر ایک تنگ سمندری راستہ ہے مگر حقیقت میں یہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی سیاست کا مرکز ہے۔ یہ راستہ جہاں دنیا کو توانائی فراہم کرتا ہے وہیں یہ کسی بھی وقت عالمی تنازع کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ اس اہم گزرگاہ کو امن، تعاون اور استحکام کے ذریعے محفوظ رکھا جائے کیونکہ اگر یہ راستہ بند ہوا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ 
Fazal khaliq khan
About the Author: Fazal khaliq khan Read More Articles by Fazal khaliq khan: 167 Articles with 141325 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.