ایران کے حق میں عالمی ردعمل
(Fazal khaliq khan, Mingora Swat)
| صورتحال ایک سنگِ میل ہے جس میں دنیا کو اس بات کا انتخاب کرنا ہے، استحکام اور گفتگو کا راستہ اختیار کرنا یا طاقت اور زخموں کی گہرائیوں کو مزید بڑھانا؟ |
|
|
فضل خالق خان (سوات) مشرقی وسطیٰ کے ایک بار پھر پھوٹ پڑنے والے بحران نے نہ صرف علاقائی نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ بین الاقوامی امن، سلامتی، اور عالمی قوانین کے اطلاق پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فضائی کارروائیوں میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شامل تھے، جس کے نتیجے میں ایران کے اندر اور باہر حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ایران سے مذاکرات کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی متعدد عسکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت نے بین الاقوامی سطح پر ردعمل کو اور بھی شدید بنا دیا ہے۔ ایرانی حکومت نے ان حملوں کو خودمختاری اور علاقائی امن کے خلاف سنگین جارحیت قرار دیتے ہوئے بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ صورتحال پر عالمی رہنماؤں اور بڑے ممالک نے ایران کے حق میں بیانات دیے ہیں، روس نے امریکی، اسرائیلی حملوں کو “غیر متوقع اور جارحانہ عمل” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ چین نے بھی اسی نقطۂ نظر کو دہراتے ہوئے عالمی قوانین اور علاقائی خودمختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور فریقین سے جنگ بندی اور مذاکرات کا مشورہ دیا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے محتاط مگر سنجیدہ انداز اختیار کیا ہے۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے انسانی جانوں کی حفاظت، کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، اگرچہ انہوں نے ایران کی کچھ فوجی کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خلیجی ممالک نے ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کی ہے، خاص طور پر ان ممالک نے جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھتے ہیں، جبکہ بعض دیگر نے تنازعے کے تشدد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان سمیت کچھ ممالک نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ مشترکہ خطے کے امن کے لیے فوری طور پر کشیدگی کم کی جائے اور تنازعے کے پُرامن حل کے راستے تلاش کیے جائیں۔ کئی عالمی رہنماؤں نے واضح الفاظ میں ایران کے حقِ خودارادیت، دفاع، اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا ہے۔ کئی ممالک نے کہا ہے کہ کسی بھی ریاست کے خلاف ایسی فوجی کارروائی اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز نہیں ہے، اور ایسے اقدامات عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین، روس، اور یورپی رہنماؤں نے جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ مزید انسانی نقصان اور خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ کئی ممالک نے اس بات کی تائید کی ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ اپنی سرزمین پر حملوں کا جواب دے رہا ہو۔ یہ بحران صرف فوجی اور سیاسی محاذ تک محدود نہیں رہا۔انسانی نقصان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیوں پر شدید اثر پڑا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہوئی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ تیل کے عالمی بہاؤ کا محور رہا ہے، جس کے مسائل نے عالمی اقتصادی استحکام کو بھی متاثر کیا ہے۔ علاقائی سکیورٹی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جس سے پڑوسی ممالک اور عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ موجودہ صورتحال ایک سنگِ میل ہے جس میں دنیا کو انتخاب کرنا ہے: استحکام اور گفتگو کا راستہ اختیار کرنا یا طاقت اور زخموں کی گہرائیوں کو مزید بڑھانا؟ ایران کے حق میں عالمی رہنماؤں نے جو بیانات دیے ہیں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی تعاون، قانون کی بالادستی، اور مذاکرات ہی اس بحران کا پائیدار حل ہیں، ورنہ ایک چھوٹا تنازع عالمی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ |
|