بلو اکانومی پاکستان کے معاشی استحکام کی نئی امید
(Hafiz Mohammad Siddiq Madani, Chaman)
|
تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی ممبر یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان بلو اکانومی اکیسویں صدی کا ایک اہم عالمی معاشی تصور بن چکی ہے جس سے مراد سمندری وسائل کو پائیدار بنیادوں پر استعمال کرتے ہوئے اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع، انسانی فلاح اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانا ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سمندری تجارت، ماہی گیری، ساحلی سیاحت، بندرگاہوں، سمندری توانائی، بحری نقل و حمل اور بحری حیاتیاتی وسائل کو اپنی معیشت کی مضبوطی کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی بلو اکانومی ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی معاشی ترقی کو تیز، علاقائی روابط کو مضبوط اور عالمی سطح پر اپنی اسٹریٹیجک اہمیت کو بڑھا سکتی ہے۔ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے ایک نہایت اہم مقام پر واقع ہے۔ بحیرہ عرب کے ساتھ تقریباً ایک ہزار پچاس کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور دو لاکھ چالیس ہزار مربع کلومیٹر سے زائد خصوصی اقتصادی سمندری حدود پاکستان کو وسیع سمندری وسائل تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ جیسے اہم بندرگاہی مراکز پاکستان کی تجارتی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی سمندری پوزیشن عالمی تجارتی بحری راستوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اسے بین الاقوامی تجارت، توانائی کی ترسیل اور علاقائی رابطوں میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان نے اپنی سمندری صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا۔ ملکی معیشت میں بحری شعبے کا حصہ اب بھی بہت کم ہے جبکہ دنیا کے کئی ممالک اپنی سمندری معیشت سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ کمزور انفراسٹرکچر، محدود سرمایہ کاری، ناقص پالیسی سازی، ماحولیاتی آلودگی، غیر قانونی ماہی گیری اور بحری شعور کی کمی جیسے مسائل بلو اکانومی کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر پاکستان مؤثر منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر، علاقائی تعاون اور پائیدار وسائل کے استعمال پر توجہ دے تو وہ اپنی سمندری معیشت کو قومی ترقی کا اہم ستون بنا سکتا ہے۔ بلو اکانومی صرف سمندری وسائل کے استعمال کا نام نہیں بلکہ ان وسائل کو اس انداز سے بروئے کار لانے کا تصور ہے جس سے معیشت بھی مضبوط ہو اور سمندری ماحول بھی محفوظ رہے۔ اس میں بحری تجارت، شپنگ، ماہی گیری، ساحلی سیاحت، بندرگاہی نظام، آف شور توانائی، جہاز سازی، سمندری تحقیق، بحری حیاتیات اور ماحولیاتی تحفظ جیسے متعدد شعبے شامل ہیں۔ آج دنیا کی تقریباً نوے فیصد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے انجام پاتی ہے جس سے سمندروں اور بندرگاہوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ چین، سنگاپور، ناروے اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے اپنی سمندری معیشت کو قومی خوشحالی کا بنیادی ذریعہ بنا لیا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور بحر ہند کے درمیان ایک قدرتی تجارتی پل بناتی ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی معدنیات، ماہی گیری، سیاحت، صنعتی زونز اور توانائی کے منصوبوں کے لیے بے پناہ امکانات رکھتی ہے۔ پاکستان کی خصوصی اقتصادی سمندری حدود میں مچھلیوں، معدنیات اور ممکنہ تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان کے سمندری حدود میں توسیع نے اس کی بحری اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ گوادر پورٹ پاکستان کی بلو اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر پورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم تجارتی اور اسٹریٹیجک مرکز بن سکتی ہے۔ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر گوادر کو جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دی جائے تو یہ وسطی ایشیا، چین، افغانستان براستہ چمن و طورخم اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتی ہے۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک سمندری تجارت پر انحصار کرتی ہے کیونکہ ملکی درآمدات و برآمدات کا بیشتر حصہ بحری راستوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم اس وقت تجارت کا بنیادی ذریعہ ہیں جبکہ گوادر مستقبل کی بندرگاہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔ جدید بندرگاہی نظام، ڈیجیٹل لاجسٹکس، جدید کسٹمز سسٹم اور صنعتی زونز پاکستان کی تجارتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ماہی گیری پاکستان کی بلو اکانومی کا ایک اہم شعبہ ہے۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں جھینگا، ٹونا، لوبسٹر، کیکڑا اور دیگر قیمتی سمندری حیات وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ یہ شعبہ لاکھوں افراد کے روزگار اور غذائی ضروریات سے وابستہ ہے۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی کی کمی، ناقص کولڈ اسٹوریج، غیر قانونی ماہی گیری اور کمزور پراسیسنگ انڈسٹری اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ اگر جدید فشریز سسٹم، کولڈ اسٹوریج، ایکوا کلچر اور برآمدی معیار کی پروسیسنگ سہولیات قائم کی جائیں تو پاکستان اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ ساحلی اور سمندری سیاحت بھی پاکستان کے لیے ایک بڑی معاشی قوت بن سکتی ہے۔ گوادر، کنڈ ملیر، اورماڑہ، استولا جزیرہ اور ہنگول نیشنل پارک جیسے مقامات قدرتی حسن سے مالا مال ہیں۔ اگر ان علاقوں میں ہوٹل، ریزورٹس، ٹرانسپورٹ، تفریحی سہولیات اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کیے جائیں تو پاکستان عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ سیاحت سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار ملے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور آف شور توانائی کے ذخائر اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بحیرہ عرب میں ممکنہ تیل اور گیس کے ذخائر کے علاوہ سمندری ہوا اور لہروں سے توانائی پیدا کرنے کے مواقع بھی موجود ہیں۔ قابل تجدید سمندری توانائی کے منصوبے پاکستان کو سستی اور ماحول دوست توانائی فراہم کر سکتے ہیں۔ جہاز سازی اور شپ ریپئرنگ کی صنعت بھی پاکستان میں ترقی کی بڑی صلاحیت رکھتی ہے۔ کراچی شپ یارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرکے پاکستان نہ صرف اپنی بحری ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ دیگر ممالک کو بھی خدمات فراہم کر سکتا ہے۔ اس صنعت کی ترقی سے ہزاروں ہنرمند افراد کو روزگار حاصل ہوگا۔ پاکستان کی بلو اکانومی بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے لیکن کئی چیلنجز بھی اس کی راہ میں حائل ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ مؤثر بحری حکمرانی کا فقدان ہے۔ مختلف ادارے ایک دوسرے سے ہم آہنگی کے بغیر کام کرتے ہیں جس سے پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کو ایک جامع قومی بحری پالیسی کی ضرورت ہے جو تمام متعلقہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے۔ ماحولیاتی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ صنعتی فضلہ، پلاسٹک، آئل اسپِل اور دیگر آلودگیاں سمندری ماحول اور حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچا رہی ہیں گزشتہ تین ماہ سے پہلے میں کراچی گیا تھا وہاں جب کلفٹن اور منوڑہ بیچ دیکھنے لگا وہاں لوگ پالتو فضلات پھینکتے ہوئے دیکھا تو بہت افسوس ہوئی۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، سمندر کی سطح میں اضافہ اور ساحلی کٹاؤ بھی خطرناک صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ اس لیے پائیدار ترقی کے لیے ماحولیاتی تحفظ ناگزیر ہے۔ غیر قانونی ماہی گیری پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ غیر ملکی ٹرالرز پاکستان کے سمندری وسائل کو لوٹ رہے ہیں جبکہ نگرانی کا نظام کمزور ہے۔ پاکستان کو بحری نگرانی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کوسٹ گارڈز کو مضبوط بنانا ہوگا انفراسٹرکچر کی کمی بھی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔ بندرگاہوں، سڑکوں، لاجسٹکس اور صنعتی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ماہر بحری افرادی قوت کی بھی کمی ہے۔ میری ٹائم یونیورسٹیز، تحقیقی اداروں اور ٹریننگ سینٹرز کو فروغ دے کر نوجوانوں کو جدید بحری علوم سے آراستہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کی بلو اکانومی علاقائی روابط سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ گوادر پورٹ چین، وسطی ایشیا اور افغانستان کو بحیرہ عرب تک مختصر راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ اس سے علاقائی تجارت، صنعتی تعاون اور اقتصادی سفارت کاری کو فروغ ملے گا۔ بحر ہند اس وقت عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ پاکستان اپنی بحری پوزیشن کی وجہ سے اس خطے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مضبوط بحری قوت، مؤثر سفارت کاری اور علاقائی تعاون پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی بلو اکانومی کو کامیاب بنانے کے لیے جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ایک مربوط قومی بلو اکانومی پالیسی تشکیل دینی چاہیے جس میں پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تحفظ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو ترجیح دی جائے۔ جدید بندرگاہیں، لاجسٹکس نیٹ ورک، صنعتی زونز اور ٹرانسپورٹ نظام معیشت کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ ماہی گیری کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، ایکوا کلچر اور برآمدی سہولیات کو فروغ دینا چاہیے۔ سمندری تعلیم اور تحقیق کے اداروں کو مضبوط بنا کر نوجوانوں کو بحری شعبے میں مہارت فراہم کی جا سکتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور خصوصی اقتصادی زونز قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان نیوی اور دیگر بحری اداروں کو جدید نگرانی کے نظام، ساحلی سیکیورٹی اور سمندری تحفظ پر خصوصی توجہ دینی ہوگی تاکہ بحری راستے محفوظ رہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ بلو اکانومی پاکستان کے لیے ایک انقلابی معاشی موقع ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، وسیع ساحلی پٹی، قدرتی وسائل اور گوادر جیسی بندرگاہیں اسے ایک بڑی بحری معیشت میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ تاہم اس خواب کی تعبیر کے لیے مؤثر قیادت، مضبوط پالیسی سازی، جدید انفراسٹرکچر، ماحولیاتی تحفظ اور طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اگر پاکستان اپنی سمندری صلاحیتوں کو درست انداز میں استعمال کرے تو وہ نہ صرف اقتصادی استحکام حاصل کر سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک مضبوط تجارتی اور اسٹریٹیجک قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ بلو اکانومی روزگار، سرمایہ کاری، تجارت اور قومی خوشحالی کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ دانشمندانہ حکمت عملی اور مؤثر عمل درآمد کے ذریعے پاکستان اپنی سمندری معیشت کو قومی ترقی، علاقائی روابط اور پائیدار خوشحالی کا طاقتور ذریعہ بنا سکتا ہے۔
|
|