پاکستان کی مسلح افواج: قربانی، شجاعت اور دفاعِ وطن کی ایک لازوال داستان
(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)
پاکستان کی تاریخ کا ہر روشن باب اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ آزادی، خودمختاری اور امن کبھی بھی بغیر قربانی کے حاصل نہیں ہوتے۔ 14 اگست 1947ء کو وجود میں آنے والی اس مملکتِ خداداد کو ابتدا ہی سے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا رہا، مگر ہر آزمائش میں پاکستان کی مسلح افواج — پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی — نے قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دفاعِ وطن کا مقدس فریضہ ادا کیا۔ انہی قربانیوں کی بدولت آج پاکستان ایک مضبوط، خودمختار اور ایٹمی قوت کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔
1948ء کی جنگِ کشمیر سے لے کر 1965ء کی جنگ، 1971ء کی جنگ، کارگل معرکہ، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور حالیہ دفاعی معرکوں تک ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشانِ حیدر ہے، جو صرف ان عظیم سپاہیوں کو عطا کیا جاتا ہے جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کرتے ہوئے غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ 1965ء کی جنگ میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے لاہور کے برکی سیکٹر پر مسلسل کئی روز تک اگلے مورچوں میں رہ کر دشمن کے حملے پسپا کیے۔ انہوں نے آرام یا پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی جان وطن پر قربان کر دی اور ہمیشہ کے لیے قومی ہیرو بن گئے۔ 1971ء کی جنگ میں کئی ایسے سپوت سامنے آئے جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کے مضبوط مورچوں پر قبضہ کر کے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔ سوار محمد حسین شہید نے ٹینک شکن ہتھیار سے دشمن کے کئی ٹینک تباہ کیے، جبکہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید شدید زخمی ہونے کے باوجود دشمن کی مشین گن پوسٹ پر تنِ تنہا حملہ آور ہوئے اور اپنی جان وطن پر نچھاور کر دی۔
پاکستان ایئر فورس کے عظیم سپوت پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید نے 20 اگست 1971ء کو اپنی تربیتی پرواز کے دوران اس وقت لازوال قربانی دی جب ایک غدار افسر نے طیارہ بھارت لے جانے کی کوشش کی۔ راشد منہاس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر طیارے کو دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچایا اور پاکستان ایئر فورس کے پہلے اور واحد نشانِ حیدر حاصل کرنے والے بن گئے۔
1999ء کے معرکۂ کارگل میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے ایسی بہادری دکھائی کہ دشمن نے بھی ان کی جرات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اسی جنگ میں حوالدار لالک جان شہید نے آخری سانس تک دشمن کا مقابلہ کیا، جبکہ نائیک سیف علی جان شہید نے سرحدی دفاع کے دوران اپنی جان قربان کر کے نشانِ حیدر حاصل کیا۔
پاکستان کی فضائی تاریخ کا ذکر ایئر کموڈور محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) کے بغیر ادھورا ہے۔ 1965ء کی جنگ میں انہوں نے چند لمحوں میں دشمن کے پانچ جنگی طیارے مار گرا کر عالمی عسکری تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا۔ انہیں ستارۂ جرأت اور بار سے نوازا گیا، اور آج بھی وہ پاک فضائیہ کے لیے ایک زندہ مثال سمجھے جاتے ہیں۔
اسی طرح گروپ کیپٹن سیسل چوہدری نے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں انتہائی کامیاب فضائی مشنز انجام دیے اور انہیں ستارۂ جرأت اور ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت آج بھی پاک فضائیہ کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ پاکستان نیوی نے بھی ہر دور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 1965ء میں آپریشن دوارکا کے ذریعے دشمن کی بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ 1971ء کی جنگ میں محدود وسائل کے باوجود بحری دفاع کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا گیا۔ پاک بحریہ کے افسران اور جوان آج بھی بحیرۂ عرب میں پاکستان کی سمندری سرحدوں، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں کی حفاظت میں شب و روز مصروف ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی تاریخ کا ایک طویل اور مشکل مرحلہ تھا۔ قبائلی علاقوں، سوات، وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے آپریشنز، خصوصاً ضربِ عضب اور ردالفساد کے دوران ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل ہارون اسلام شہید، میجر عاصم جاوید شہید، میجر عدیل شاہد شہید، کیپٹن روح اللہ شہید اور بے شمار دیگر سپوتوں نے ثابت کیا کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے جان قربان کرنا ان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے قدرتی آفات، زلزلوں، سیلابوں، وباؤں اور قومی ہنگامی حالات میں بھی ہمیشہ عوام کی مدد کی۔ 2005ء کے زلزلے، 2010ء اور بعد کے تباہ کن سیلابوں، اور دیگر آفات میں فوج، فضائیہ اور بحریہ نے لاکھوں متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، خوراک، ادویات اور طبی امداد فراہم کی اور بحالی کے کاموں میں اہم کردار ادا کیا۔ آج پاکستان کی مسلح افواج جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ ملکی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں۔ موجودہ عسکری قیادت میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں پاک افواج نے قومی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، سرحدی استحکام اور دفاعی تیاری کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ مئی 2025ء میں حکومتِ پاکستان نے ان کی عسکری قیادت، دفاعی حکمتِ عملی اور قومی خدمات کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی، جو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ان کی قیادت میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے مربوط حکمتِ عملی، تحمل اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔۔ پاکستان ایئر فورس نے فضائی کارروائیوں میں اپنی اعلیٰ تربیت اور جدید صلاحیتوں کا عملی ثبوت پیش کیاان کارروائیوں کو پاکستان میں دفاعی تاریخ کے اہم ابواب میں شمار کیا جاتا ہےان کارروائیوں میں پاکستان کی مسلح افواج نےمتعدد بھارتی فضائیہ (IAF) کے طیارے مار گرائے، جن میں رافیل طیارے بھی شامل تھے۔اسی دوران پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ نے باہمی تعاون سے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے دفاع کے لیے پوری قوم اور مسلح افواج ہر وقت تیار ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ہزاروں شہداء، غازی، جانباز اور عسکری ہیروز اس قوم کا وہ سرمایہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی قربانیاں ہمیں اتحاد، ایمان، نظم و ضبط، حب الوطنی اور قومی یکجہتی کا درس دیتی ہیں۔ قوم کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہداء کے اہلِ خانہ، غازیوں اور وطن کے محافظوں کی عزت و تکریم کو ہمیشہ مقدم رکھے، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آج کو ہمارے محفوظ کل کے لیے قربان کیا۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، غازیوں کو سلامت رکھے، ہماری مسلح افواج کو مزید قوت، استقامت اور کامیابیاں عطا فرمائے، اور پاکستان کو ہمیشہ امن، ترقی، استحکام اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔
پاکستان زندہ باد پاک افواج پائندہ باد
|
|