سر حدوں پر جاگتی آنکھیں
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
|
پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور ریاستی وقار کا تقاضا ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جب کوئی خطرہ اپنی حدوں سے تجاوز کر جائے تو اس کا فیصلہ کن اور مضبوط جواب دیا جائے۔ حالیہ دنوں میں سرحد پار موجود شدت پسند عناصر کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں اسی پالیسی کا تسلسل ہیں جن کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ اقدام محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو قوتیں پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گی، انہیں کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ میسر نہیں آئے گی۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ سرحد کے اُس پار موجود بعض عناصر طویل عرصے سے پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ان گروہوں نے نہ صرف سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا بلکہ معصوم شہریوں کو بھی اپنی کارروائیوں کا ہدف بنایا۔ ایسے حالات میں کسی بھی ریاست کے لیے خاموش رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا تاکہ ان نیٹ ورکس کو کمزور کیا جا سکے جو مسلسل تخریب کاری میں ملوث تھے۔ ان کارروائیوں کا مقصد کسی ملک کی خودمختاری کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ اپنے شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ جب بار بار شواہد فراہم کیے جائیں، خطرات کی نشاندہی کی جائے اور اس کے باوجود کوئی مؤثر اقدام نہ کیا جائے تو متاثرہ ملک کے پاس اپنے دفاع کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ پاکستان نے بھی اسی اصول کے تحت قدم اٹھایا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں ہمیشہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پروپیگنڈا کا سہارا لیتی ہیں۔ وہ اپنے نقصانات کو چھپانے اور ہمدردی حاصل کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی ہیں۔ کبھی وہ معصوم شہریوں کے نقصان کا دعویٰ کرتی ہیں اور کبھی جھوٹی تصاویر اور اطلاعات کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایسی کارروائیوں میں صرف مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ عام شہری محفوظ رہیں۔ یہ تضاد بھی واضح ہے کہ یہی گروہ جب خود کارروائیاں کرتے ہیں تو انہیں کسی انسانی قدر یا اخلاقی اصول کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات کو نشانہ بناتے ہیں اور معصوم جانوں کے ضیاع کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ لیکن جب ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو وہ انسانی حقوق اور اخلاقیات کی بات کرنے لگتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ان کے اصل عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں۔ مختلف آپریشنز کے ذریعے اندرونی خطرات کا خاتمہ کیا گیا اور ملک میں امن بحال کیا گیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں حالات میں بہتری آئی، لیکن سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانے اب بھی ایک بڑا چیلنج بنے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ خطرے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ سرحدی علاقوں میں باڑ لگانے اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان کا مقصد دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور ملک کو محفوظ بنانا ہے۔ تاہم اگر خطرہ سرحد کے اُس پار موجود رہے تو صرف دفاعی اقدامات کافی نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات پیشگی کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی بھی متقاضی ہے کہ خطے کے ممالک اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ اگر کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جائیں اور انہیں کسی بھی قسم کی پناہ یا سہولت فراہم نہ کی جائے۔ اسی تناظر میں افواجِ پاکستان کا کردار نہایت نمایاں اور قابلِ تحسین ہے۔ وطن عزیز کی حفاظت، سالمیت اور استحکام کے لیے ہمارے فوجی افسران اور جوان ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔ وہ اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر ملک کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔ سرحدوں پر تعینات یہ بہادر سپاہی سخت موسم، دشوار گزار علاقوں اور ہر قسم کے خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریوں میں مصروف رہتے ہیں، اور انہی کی بدولت ملک کے اندر بسنے والے لوگ سکون اور اطمینان کی زندگی گزار پاتے ہیں۔ یہ صرف جنگی محاذ تک محدود نہیں بلکہ کسی بھی ہنگامی یا ناگہانی صورتحال میں بھی یہی ادارہ سب سے پہلے متحرک ہوتا ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، افواجِ پاکستان کے جوان متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ وہ نہ صرف لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرتے ہیں بلکہ خوراک، علاج اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔ مشکل اور دور دراز علاقوں میں ان کی موجودگی امید کی کرن بن کر ابھرتی ہے۔ کورونا جیسی عالمی وبا کے دوران بھی افواجِ پاکستان نے نظم و ضبط اور تنظیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر مؤثر اقدامات کیے۔ اسی طرح غیر معمولی بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے دوران بھی انہوں نے متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کام کیا۔ یہ تمام خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ افواجِ پاکستان صرف ایک دفاعی ادارہ نہیں بلکہ ایک قومی سہارا ہیں جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی افواجِ پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے ملک میں امن کی بنیاد رکھی۔ ان قربانیوں کے نتیجے میں آج ملک کے حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں اور عوام خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان گنت قربانیوں، عزم اور استقامت کا نتیجہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ ان پر فخر بھی کرتی ہے۔ عوام اور فوج کے درمیان یہ مضبوط رشتہ ہی ملک کی اصل طاقت ہے۔ یہی اتحاد اور باہمی اعتماد کسی بھی بیرونی یا اندرونی خطرے کے مقابلے میں سب سے بڑی ڈھال ثابت ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو بھی سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر کچھ عناصر کو نظر انداز کیا جاتا رہا یا انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ پاکستان نے حالیہ اقدامات کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں مکمل طور پر خودمختار ہے اور کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیغام نہ صرف ان عناصر کے لیے ہے جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں بلکہ ان قوتوں کے لیے بھی ہے جو انہیں سہولت فراہم کرتی ہیں۔ مستقبل کا تقاضا یہی ہے کہ خطے میں امن کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ دہشت گردی کو کسی بھی صورت برداشت نہ کیا جائے اور اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بدامنی کا یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ ایک واضح اصول ہے جس پر عمل کرتے ہوئے وہ ہر اس خطرے کا مقابلہ کرے گا جو اس کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ افواجِ پاکستان اسی عزم اور ولولے کی عملی تصویر ہیں، جو نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ قوم کے اعتماد، حوصلے اور امید کی علامت بھی ہیں۔ یہی جذبہ اور یہی قربانی کا تسلسل مستقبل میں بھی پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا رہے گا۔ |
|