امن کے سفیرو کہاں کھو گئے ہو؟ تحریر: ڈاکتر افضل رضوی--آسٹریلیا


امن کے سفیرو کہاں کھو گئے ہو؟
تحریر: ڈاکتر افضل رضوی--آسٹریلیا
شرق الاوسط ایک بار پھر خون، خوف اور تباہی کے سائے میں گھرا ہوا ہے۔ ایران پر امریکہ اوراسرائیل نے جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ تہران، مشہد، اصفہان اور شیراز کی گلیاں دھواں، شعلے، ٹوٹے مکانات اور خوف کے منظرناموں سے بھر گئی ہیں۔ فضائی حملے، میزائل کی گونج اور انسانی المیے کی تصاویر ہر آنکھ کو کانپنے پر مجبور کر رہی ہیں اور سوال کررہی ہیں کہ سفیران امن کہاں ہیں؟
ایران کے شہری علاقوں پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ تہران کی گلیوں میں بچے اپنے کھلونے چھوڑ کر پناہ گاہوں میں چھپ رہے ہیں، چھوٹے چھوٹے ہاتھ خون میں لت پت، ماں کے ہاتھ پکڑے، ہر دھماکے کے بعد کانپتے ہیں۔ شیراز کے اسپتال میں زخمی بچوں کی چیخیں گونج رہی ہیں، اور اصفہان کے گاؤں میں بزرگ اور خواتین پانی اور خوراک کی کمی سے پریشان ہیں۔ ٹوٹے ہوئے اسکول اور کھیل کے میدان صرف دھوئیں اور ملبے کا منظر پیش کر رہے ہیں، اور رات میں پناہ گزینوں کی روشنی میں کانپتے چہرے انسانی المیے کی سب سے دردناک تصویر ہیں۔
خطے کے ہمسایہ ممالک بھی اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں سیکورٹی ہائی الرٹ ہے، توانائی کی ترسیل میں خطرات بڑھ گئے ہیں، اور شہری خوفزدہ ہیں۔ عراق میں ایران نواز گروہوں کی فوجی سرگرمیوں سے داخلی کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور بغداد کی گلیوں میں شہری اضطراب اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔
یہ انسانی المیہ عالمی طاقتوں کی خاموشی کی بھی تصویر ہے۔ روس، چین، فرانس اور یورپی ممالک ایران پر بڑھتے حملوں کے باوجود عملی موقف اختیار کرنے میں ناکام ہیں۔ طاقتور ممالک کی خاموشی معصوم شہریوں کے خون پر پردہ ڈال رہی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف پالیسی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی، عسکری اور نظریاتی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب (1979) کے بعد واشنگٹن اور تہران کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام، شرق الاوسط میں اس کے اثر و رسوخ، اور فلسطین و لبنان میں مزاحمتی قوتوں کی حمایت کو امریکہ اور اسرائیل اپنے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ اسرائیل ایران کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ امریکہ نے بعض ادوار میں سفارتی راستے اپنائے، جیسے 2015 کا جوہری معاہدہ، مگر بعد میں سخت پابندیوں نے کشیدگی مزید بڑھا دی۔
یہ صورتِ حال انسانی جانوں اور خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اگر عالمی برادری بروقت عملی اقدامات نہ کرے، تو یہ تصادم نہ صرف شرق الاوسط بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی پر طویل المدتی اثر ڈال سکتا ہے۔
شرق الاوسط اس وقت ایک ایسے بحران کی گرفت میں ہے جس نے خطے کی سیاسی، معاشی اور انسانی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں اب ایک وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جس کے ردِعمل میں ایران بھی بھرپور جوابی حملے کر رہا ہے۔خصوصاً ان مقامات پر جہاں امریکہ کے فوجی اڈے موجود ہیں۔
یہ صورتحال محض تین ممالک کے درمیان کشمکش نہیں رہی بلکہ اب خلیجی ممالک بھی براہِ راست اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت جیسے ممالک، جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں، مسلسل خطرے کی زد میں ہیں۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملے ان اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے نہ صرف عسکری تناؤ بڑھ رہا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
روزمرہ زندگی میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ نے جگہ بنا لی ہے۔ تعلیمی ادارے، کاروباری سرگرمیاں، اور سفری نظام متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں ہنگامی حالت جیسی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ غیر ملکی باشندے اپنے ممالک کو واپس جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تیل کی پیداوار اور ترسیل میں خلل نے عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، اور توانائی کے بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
اس کشیدگی کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ جنگ کسی بھی وقت مزید پھیل سکتی ہے۔ اگرامریکہ اور اسرائیل کے حملے شدت اختیار کرتے ہیں اور ایران مزید سخت ردِعمل دیتا ہے، تو یہ تصادم ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دیگر عالمی طاقتیں بھی اس میں شامل ہو سکتی ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دے گا۔
ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر عام انسان ہو رہا ہے۔ جنگی ماحول نے بنیادی انسانی ضروریات؛امن، روزگار، تعلیم، اور صحت؛سب کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر مداخلت کرے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو فعال کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی، مذاکرات، اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ طاقت کے استعمال کا یہ سلسلہ اگر نہ رکا، تو نہ صرف شرق الاوسط بلکہ پوری دنیا اس کے تباہ کن اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔
لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران نے ہوش مندی کا مظاہرہ نہ کیا، تو یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور اس کے شعلے دنیا کے کونے کونے تک پہنچ سکتے ہیں۔ دنیا کو اس وقت دانشمندی، سفارتکاری اور امن کی اشد ضرورت ہے۔عالمی طاقتیں فوری، عملی اور متوازن اقدامات کریں۔ اقوام متحدہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے، علاقائی ممالک انسانی بحران کو محدود کریں، اور اسرائیل و امریکہ پر دباؤ ڈالیں کہ ایران کے شہری علاقوں پر حملے بند کریں۔
ایران-اسرائیل جنگ عملی تصادم سے آگے بڑھ کر انسانی المیے اور عالمی انصاف کے امتحان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تاریخ واضح ہے: جنگیں صرف تباہی اور انسانی المیے کو جنم دیتی ہیں۔ دنیا کو طاقت کی سیاست کے بجائے انصاف، مکالمے اور امن کی راہ اپنانی ہوگی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب سفیران امن کو دوبارہ منظرِ عام پر آنا ہوگا، تاکہ انسانی ہمدردی، اخلاق اور بین الاقوامی انصاف کی روشنی بحال ہو۔
ایسی ہولناک صورتِ حال کے پس منظر میں درج ذیل نظم سفیرانِ عالم سے سوال کرتی ہے کہ تم کہا ں ہو؟ کیوں امن کو ششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لے رہے؟
امن کے سفیرو!کہاں کھو گئے ہو؟
امن کے سفیرو! کہاں کھو گئے ہو؟
امن کے سفیرو! کہاں کھو گئے ہو؟
کہاں کھو گئے ہو؟ کہاں کھو گئے ہو؟
سمے ہے پکارے،کہاں سو گئے ہو؟

یہ دھرتی لہو سے نہا کیوں رہی ہے؟
پا،نسل انساں سزا کیوں رہی ہے؟
وہ آوازِ حق جو تھی روشن چراغاں
وہ ظلمت میں آخرچھپ کیوں رہی ہے؟

اٹھو! شاہین کی پرواز بن کر
اٹھو! مردِ مومن کی آواز بن کر
خودی کا سبق پھر سے دنیا کو دے دو
اٹھو! ایک زندہ آوازبن کر

خدا کے سپاہی ہو،ہو جاؤبیدار!
ضمیرِ جہاں کے ہو جاؤ علمدار!
یہ تاریخ کا موڑ ہے فیصلہ کن!!
اٹھو! پھر سے تم ہو جاؤتاجدار!

امن کے سفیرو! کہاں کھو گئے ہو؟
امن کے سفیرو! کہاں کھو گئے ہو؟
کہاں کھو گئے ہو؟ کہاں کھو گئے ہو؟
سمے ہے پکارے،کہاں سوگئے ہو؟

 

 

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 171 Articles with 250729 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More