خوراک کے ضیاع کا بڑھتا ہوا عالمی چیلنج

خوراک کے ضیاع کا بڑھتا ہوا عالمی چیلنج
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

انسانی تاریخ کے اس دور میں جب سائنسی ترقی، زرعی پیداوار اور وسائل کی فراوانی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے، وہیں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں خوراک کی غیر منصفانہ تقسیم اور ضیاع ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک طرف لاکھوں افراد بنیادی غذائی ضروریات سے محروم ہیں، جبکہ دوسری جانب بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہو رہی ہے۔ یہ تضاد نہ صرف اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے بلکہ ماحولیاتی اور معاشی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں خوراک کے ضیاع کے خلاف عالمی دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے وسائل کو کس حد تک ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔

30 مارچ کو اس حوالے سے منائے جانے والے عالمی دن کا مقصد بھی یہی ہے کہ دنیا کو خوراک اور دیگر وسائل کے ضیاع کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور اس کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کو فروغ دیا جائے۔ رواں سال اس دن کا مرکزی موضوع خوراک کے ضیاع پر مرکوز رہا، جو کہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے اثرات نہایت وسیع اور ہمہ جہت ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ارب ٹن قابلِ استعمال خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جو نہ صرف وسائل کے ضیاع کا باعث بنتی ہے بلکہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

دوسری جانب یہ امر بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ دنیا کی ایک بڑی آبادی اب بھی بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں خوراک کا ضیاع ایک ایسا مسئلہ بن جاتا ہے جو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ خوراک کے پورے نظام، یعنی پیداوار، ترسیل اور استعمال کے ہر مرحلے کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنایا جائے۔

اسی طرح مختلف ممالک اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ چین کے شہر ہانگ چو کی مثال اس حوالے سے نمایاں ہے، جہاں ایک جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کچرے کے پورے عمل کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ نظام ہزاروں مقامات کو آپس میں جوڑ کر نہ صرف کچرے کی بہتر درجہ بندی کو ممکن بناتا ہے بلکہ خوراک کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح شنگھائی میں کچن ویسٹ کو بائیو گیس اور نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو ضائع شدہ خوراک کو دوبارہ کارآمد بنا دیتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف ماحول پر دباؤ کم ہوتا ہے بلکہ توانائی اور زراعت کے لیے نئے وسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے ضیاع کو وسائل میں بدلا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے۔ چین کے شہر سانیا اور سوجو کو ان شہروں میں شامل کیا گیا ہے جو زیرو ویسٹ کے ہدف کے حصول میں نمایاں پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مربوط حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ماحولیاتی تعاون کے عالمی فورمز میں بھی کم کاربن اور زیرو ویسٹ شہروں کے تصور کو فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں جدید ماحولیاتی حل پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف کچرے میں کمی لانا ہے بلکہ ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں وسائل کا دوبارہ استعمال ممکن ہو اور ماحول پر منفی اثرات کم سے کم ہوں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خوراک کے ضیاع کا مسئلہ محض ایک عارضی یا محدود نوعیت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر چیلنج ہے، جس کے حل کے لیے اجتماعی شعور اور عملی اقدامات دونوں ضروری ہیں۔ اگر ہم پیداوار سے لے کر استعمال تک ہر مرحلے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف اس مسئلے کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ متوازن، پائیدار اور منصفانہ دنیا کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1092409 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More