بیجنگ میں فضائی معیار میں تاریخی بہتری

بیجنگ میں فضائی معیار میں تاریخی بہتری
تحریر: شاہد افراز خان

عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی ایک سنگین چیلنج کے طور پر سامنے آ رہی ہے، جہاں تیز رفتار شہری ترقی کے ساتھ صاف فضا اور پائیدار ماحول کا حصول ایک اہم ہدف بن چکا ہے۔ اس تناظر میں چین نے گزشتہ برسوں کے دوران ماحولیاتی تحفظ، آلودگی میں کمی اور سبز ترقی کے فروغ کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں، جن کے نمایاں نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بیجنگ میں فضائی معیار نگرانی کے آغاز کے بعد سے بہترین سطح پر پہنچ گیا۔ شہر میں سالانہ اوسط پی ایم 2.5 کی مقدار کم ہو کر 27 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.5 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح پورے سال کے دوران 311 دن ایسے ریکارڈ کیے گئے جن میں فضائی معیار بہتر رہا، جو مجموعی طور پر 85.2 فیصد بنتا ہے۔ خاص طور پر شدید آلودگی کا صرف ایک دن ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ سنگین فضائی آلودگی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

یہ پیش رفت 2013 کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جب بیجنگ میں شدید آلودگی کے 58 دن اور صرف 176 دن بہتر فضائی معیار کے حامل تھے۔ گزشتہ دہائی کے دوران شہر نے کوئلے کے استعمال میں کمی، نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ، سبز بجلی کے استعمال میں اضافہ، گرد و غبار اور شور کی آلودگی پر قابو پانے اور آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی تبدیلی جیسے اقدامات کے ذریعے اپنی ماحولیاتی پالیسیوں کو مؤثر بنایا۔

فضائی بہتری کے ساتھ ساتھ دیگر ماحولیاتی شعبوں میں بھی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دریاؤں کے پانی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے، جہاں درجہ اول سے درجہ سوم تک کے معیار پر پورا اترنے والے پانی کا تناسب 95 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ سطحی پانی کے معیار کو پانچ درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں درجہ اول سب سے اعلیٰ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کے معیار کو بھی مستحکم قرار دیا گیا ہے، جس سے مجموعی ماحولیاتی نظام میں مسلسل بہتری کی نشاندہی ہوتی ہے۔

قومی سطح پر بھی فضائی معیار میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2025 میں ملک بھر میں فضائی معیار نگرانی کے آغاز کے بعد سے بہترین سطح تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار 28 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جبکہ بہتر فضائی معیار کے دنوں کا تناسب 89.3 فیصد تک پہنچ گیا۔ اسی دوران شدید آلودگی کے دنوں کا تناسب کم ہو کر صرف 0.9 فیصد رہ گیا، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔

مزید برآں، “چودہویں پانچ سالہ منصوبہ” (2021-2025) کے دوران ملک بھر میں پی ایم 2.5 کی مقدار میں مجموعی طور پر 20 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایسے 29 بڑے شہر جن کی مجموعی اقتصادی پیداوار ایک کھرب یوان سے تجاوز کر چکی ہے، وہاں اوسط فضائی آلودگی قومی اوسط سے بھی کم ریکارڈ کی گئی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کامیابیاں مؤثر پالیسی سازی، سخت ماحولیاتی نگرانی اور سبز ٹیکنالوجی کے فروغ کا نتیجہ ہیں۔ آئندہ مرحلے میں آلودگی کی روک تھام کو مزید مضبوط بنانے، ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو فروغ دینے اور اہم شعبوں میں کم کاربن منتقلی کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔

مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ جامع حکمت عملی اور مسلسل اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی بہتری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ بیجنگ اور دیگر شہروں کی مثال اس امر کو واضح کرتی ہے کہ پائیدار ترقی، اقتصادی استحکام اور صاف ماحول ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ باہمی تکمیل کرنے والے عناصر ہیں۔
 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093002 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More