زوال کی خاموش آہٹ
(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
|
تاریخ کے اوراق پر بار بار ایک ہی منظر دہرایا جاتا ہے—عروج کا غرور اور زوال کی خاموش آہٹ۔ کبھی برطانوی سلطنت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا، کبھی فرانسیسی سلطنت اپنے جاہ و جلال میں یورپ کو لرزا رہی تھی، اور کبھی ہسپانوی سلطنت اپنے خزانوں اور وسعتوں پر نازاں تھی۔ ہر ایک کو یقین تھا کہ اس کا اقتدار دائمی ہے، مگر وقت نے سب کے لیے ایک ہی فیصلہ سنایا—زوال ناگزیر ہے۔ آج جب ہم امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی منظرنامے کو دیکھتے ہیں تو تاریخ کی یہی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے—عالمی طاقت، جدید ترین اسلحہ، وسیع اتحادی نیٹ ورک، اور دہائیوں پر محیط عالمی اثر و رسوخ۔ دوسری طرف ایران ہے—وسائل میں محدود مگر حکمتِ عملی میں منفرد، صبر، علاقائی اثر اور غیر روایتی جنگی صلاحیتوں کے ساتھ۔ یہ محض دو ریاستوں کا ٹکراؤ نہیں، بلکہ دو مختلف طرزِ فکر کا تصادم ہے۔ ایک وہ جو اپنی طاقت کو فیصلہ کن سمجھتا ہے، اور دوسرا وہ جو وقت، صبر اور غیر متوازن حکمتِ عملی کو ہتھیار بناتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کا توازن ہمیشہ ظاہری نہیں ہوتا، اور بڑی قوتیں اکثر اپنے ہی اعتماد کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔ امریکہ کو اپنی عسکری برتری پر وہی اعتماد حاصل ہے جو کبھی برطانوی سلطنت کو اپنی بحری قوت پر تھا۔ اسے یقین ہے کہ ٹیکنالوجی، معیشت اور اتحاد اسے ناقابلِ شکست بناتے ہیں۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ ارادے، صبر اور حکمت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایران ایک ایسی حکمتِ عملی پر کاربند ہے جو براہِ راست تصادم سے زیادہ تھکا دینے والی کشمکش پر یقین رکھتی ہے۔ یہ وہی طرز ہے جو بڑی طاقتوں کو آہستہ آہستہ کمزور کرتا ہے، جیسا کہ ماضی میں کئی طاقتوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔ اصل خطرہ جنگ نہیں، بلکہ وہ یقین ہے جو کسی ایک فریق کو اپنی برتری کے دوام کا احساس دلاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی طاقت نے خود کو ناگزیر سمجھا، اسی لمحے اس کے زوال کی بنیاد رکھ دی گئی۔ جنگیں اکثر میدان میں نہیں، بلکہ فیصلوں میں ہاری جاتی ہیں—اور غلط فیصلے عموماً اسی وقت کیے جاتے ہیں جب طاقت اپنے عروج پر ہو۔ آج کا منظرنامہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ عروج ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔ امریکہ ہو یا ایران، کوئی بھی وقت کے قانون سے بالاتر نہیں۔ طاقت کا اصل امتحان فتح میں نہیں، بلکہ اس ادراک میں ہے کہ ہر عروج کے پیچھے زوال کی ایک خاموش کہانی چھپی ہوتی ہے۔ وقت ایک غیر جانب دار منصف ہے۔ وہ نہ امریکہ کا ہے نہ ایران کا، نہ کسی سلطنت کا۔ وہ صرف اپنے اصول پر چلتا ہے—اور اس کا اصول سادہ ہے: جو خود کو ہمیشہ کے لیے سمجھ لے، وہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔ |
|