جب دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ٹھہر گئیں
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی، سفارتی اور سیکیورٹی صورتحال نے ایک بار پھر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو عالمی طاقتوں کے مفادات، علاقائی تنازعات، اور پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار کا نتیجہ ہے۔ آج اسلام آباد صرف ایک خوبصورت اور پُرسکون شہر نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سیاست کے اہم فیصلوں، خفیہ سفارتکاری اور علاقائی توازن کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کے جغرافیائی محلِ وقوع پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ آپس میں ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں، چاہے وہ امریکہ ہو، چین ہو یا روس، سب کی نظریں اس خطے پر مرکوز رہتی ہیں۔ اسلام آباد ان تمام سرگرمیوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے سفارتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ عرصے میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ، افغانستان کی غیر یقینی صورتحال، اور خطے میں طاقت کے توازن کی نئی صف بندی نے پاکستان کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں، پسِ پردہ مذاکرات اور اعلیٰ سطحی وفود کی آمد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خاموشی سے کیے گئے فیصلے مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں بھی اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہیں۔ ایک متوازن اور محتاط پالیسی کے ذریعے پاکستان نے کوشش کی ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائے۔ یہی حکمت عملی اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں اسی پالیسی کا عملی مظہر ہیں۔ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی اسلام آباد کی صورتحال خاصی اہم ہو چکی ہے۔ جب کسی شہر میں عالمی سطح کے فیصلے ہوں اور اہم شخصیات کی آمد و رفت ہو تو سیکیورٹی خدشات کا بڑھنا فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آئے۔ اہم شاہراہوں کی نگرانی، داخلی راستوں پر کنٹرول اور حساس مقامات کی بندش اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حکومت کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اقتصادی میدان میں بھی اسلام آباد کی حیثیت مستحکم ہو رہی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے بڑے منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد ان منصوبوں کی نگرانی اور پالیسی سازی کا مرکز ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ غیر ملکی وفود کی مسلسل آمد، سرمایہ کاری کے معاہدے، اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان عالمی معیشت میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، اس تمام مثبت پیش رفت کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، اندرونی اختلافات، اور معاشی مشکلات وہ عوامل ہیں جو پاکستان کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کی حیثیت اس کے داخلی استحکام سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر اندرونی حالات بہتر نہ ہوں تو بیرونی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے یہ وقت نہ صرف مواقع کا ہے بلکہ ایک امتحان بھی ہے۔ میڈیا کا کردار بھی اس صورتحال میں نہایت اہم ہو چکا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا اسلام آباد کی ہر سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایک چھوٹی سی پیش رفت بھی عالمی خبروں کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا اس ملک کے کردار کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ شہر اب صرف حکومتی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہاں تھنک ٹینکس، بین الاقوامی ادارے، اور پالیسی ساز ادارے بھی فعال ہو چکے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف پالیسی سازی میں مدد دیتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ اگر ہم مستقبل کی طرف دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد کا کردار مزید بڑھنے والا ہے۔ دنیا جس تیزی سے ایک نئی عالمی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے، اس میں ایسے ممالک اور دارالحکومتوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان، اپنی جغرافیائی اہمیت اور سفارتی حکمت عملی کی بدولت، اس کردار کے لیے موزوں نظر آتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پائے۔ گورننس کو بہتر بنانا، معیشت کو مستحکم کرنا، اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا وہ عوامل ہیں جو اسلام آباد کی عالمی حیثیت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ اہداف حاصل کر لیے جائیں تو اسلام آباد نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے اہم ترین سفارتی مراکز میں شامل ہو سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “جب دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ٹھہر گئیں” تو یہ محض ایک لمحاتی صورتحال نہیں بلکہ ایک مستقل حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو منوائے اور عالمی برادری میں ایک باوقار مقام حاصل کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک ذمہ داری بھی ہے کہ اس اعتماد کو برقرار رکھا جائے۔ اسلام آباد آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے آگے کا راستہ یا تو ترقی اور استحکام کی طرف جاتا ہے یا پھر مواقع کے ضیاع کی طرف۔ فیصلہ پاکستان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس عالمی توجہ کو کس طرح اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ اگر دانشمندی، اتحاد اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھا گیا تو وہ دن دور نہیں جب اسلام آباد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم فیصلہ ساز مرکز کے طور پر پہچانا جائے گا۔ |
|