جذبۂ شہادت اور قیادت کا بحران — ایران کے تناظر میں ایک فکری جائزہ تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی


جذبۂ شہادت اور قیادت کا بحران — ایران کے تناظر میں ایک فکری جائزہ
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی
موجودہ عالمی سیاست میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کشمکش اور مزاحمت کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران، اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے باعث، نہ صرف ایک ریاست بلکہ ایک نظریاتی علامت کے طور پر ابھرا ہے۔ یہاں ایک طرف عوام اور نوجوان نسل میں جذبۂ قربانی، خودداری اور مزاحمت کی روایت زندہ ہے، تو دوسری طرف امتِ مسلمہ کی مجموعی قیادت ایک واضح فکری انتشار اور عملی کمزوری کا شکار نظر آتی ہے۔
یہ تضاد دراصل وہی ہے جس کی نشان دہی مفکرِ اسلام Allama Muhammad Iqbal نے برسوں پہلے کی تھی—کہ جب قومیں اپنی “خودی” سے غافل ہو جائیں تو قیادت محض اقتدار کی غلام بن جاتی ہے۔ ایران کے تناظر میں یہ بات مزید واضح ہوتی ہے جہاں ایک طبقہ استقامت اور شہادت کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہے، جبکہ وسیع تر مسلم دنیا میں سیاسی مفادات نے اجتماعی شعور کو مفلوج کر دیا ہے۔
ایران کے عوام، خاص طور پر نوجوان، اپنے تاریخی اور انقلابی ورثے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے “شہادت” محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے۔ اس کے برعکس، کئی مسلم ممالک کے حکمران طبقے اقتدار کے نشے میں اس قدر مدہوش ہیں کہ انہیں نہ امت کی اجتماعی عزت کا خیال ہے اور نہ ہی مظلوم اقوام کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔

یہی وہ فکری و اخلاقی خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے اقبالؔ نے “خودی”، “جرأتِ عمل” اور “احیائے ملت” کا پیغام دیا تھا۔ اگر اس پیغام کو آج کے سیاسی تناظر میں سمجھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہے جو اصولوں پر قائم ہو، نہ کہ مفادات پر۔
اسی فکری پس منظر میں پیشِ نظر غزل، ایک ادبی احتجاج بھی ہے اور ایک فکری دعوت بھی—جو ہمیں اپنے کردار، اپنی قیادت اور اپنی اجتماعی سمت پر غور کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
غزل

ایک وہ ہیں کہ جذبۂ شہادت سے معمور ہیں
امت کے حکمران نشۂ اقتدار میں مخمور ہیں

خودی کی آگ سینوں میں ابھی روشن ضرور ہے
یہی چراغِ راہ ہیں، یہی چراغِ طور ہیں

تہران کی فضا میں جو صدا ہے حریت کی
وہی پیامِ اقبالؔ کے زندہ شعور ہیں

قاسمؔ کے نقشِ پا پہ جو چلتے ہیں آج بھی
باطل کے سامنے وہی مردانِ حور ہیں

ہر ذرہ بول اٹھتا ہے جب خون کھولتا ہے
ایران کے جوان ابھی غیرت کے طور ہیں

مفہومِ لا الٰہ کو سمجھے جو دل کبھی
اس کے لیے زمانے کے سب تاج دور ہیں

محراب و منبر آج بھی دیتے ہیں یہ صدا
حق کے لیے اٹھو کہ یہی اصل دستور ہیں

قدس کی سمت اٹھتی ہوئی ہر نگاہ میں
امت کے خواب آج بھی روشن حضور ہیں

رضویؔ نہ ہو اداس یہ ظلمت عارضی سی ہے
باطل کے سارے قصر یہاں ریزہ چور ہیں
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 171 Articles with 250761 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More