ایران، امریکہ اور بدلتی عالمی حکمتِ عملی: جنگ، سفارتکاری اور عوامی دباؤ کا مثلث تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا موجودہ عالمی حالات ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں شرق الاوسط کی کشیدگی، عالمی طاقتوں کی ترجیحات، اور عوامی رائے عامہ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ ایران کی جانب سے Pakistan کی ثالثی کو اس شرط کےساتھ قبول کرنے کا عندیہ یا گیا کہ اسے اس بات کی ضمانت دی جائے کہ ایران کے ساتھ جنگ فوری طور پر بند کی جائے، آئیندہ اس پر جارحیت نہ کرنے کی ضمنات مہیا کی جائے اور اس کے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے۔لیکن پاکستان لامحاکہ قطعی طور پر اس پوزیشن میں نہیں تھا چنانچہ اس کے خیر سگالی کی کو ششیں فی الوقت بار آور نہیں ہو سکیں لیکن یہ بات ضرور ہے کہ پاکستان کی عزت ایرانی عوام کی نظروں میں اور بھی بلند ہو گئی ہے اس کا واضح ثبوت گزشتہ دنوں تہران میں نکلنے والی عوامی ریلی تھی جس میں پاکستان سے محبت کا کھلا اظہار کیا گیا اور پاکستان کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ ایران کا کسی ثالثی کو قبول نہ کرنا اس وقت سمجھ میں آتا ہے کہ وہ امریکی صدر کی کسی بات پر یقین نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے بیانات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا اور تو اورخود امریکی ایوانِ اقتدار کے ارباب إ اختیار بھی نہیں جانتے کہ آخر صدر کرنا کیا چاہتے ہیں۔ حالت ِ جنگ میں فوج کے سپہ سالار کو ۃتا دینا اور قانون کے اعلی ترین افسر کا ہٹایا جانا کئی سوالات کو جنم دے چکا ہے کہ آخر امریکی ایوانِ اقتدار میں ہو کیا رہاہے۔ ان حالات میں پاکستان اب چکی کے دو پاٹون کے بیچ پسنے والا ہے اور امریکہ سے آنے والی اطلاعات پاکستان کے لیے بہت اچھی نہیں ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو جتنا موجودہ دور میں استعمال کر نا تھا کر لیا بالکل ویسے ہی جیسے افغانستان میں !اس سلسلے کا پہلا دھچکا United Arab Emirates کا اپنا قرض واپس مانگنا ہے اور یہ توقع بھی کرنا چاہیے کہ دوسرے برادر اسلامی ملک امریکی اثر کے زیرِ اثر ایسے ہی مطالبات کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستان نے کھل کر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ۔ چنانچہ اب اس کی قیمت تو ادا کرنا ہو گی؟ لیکن دوسری طرف پاکستان نے ایران کی بھی کھلم کھلا حمایت نہیں کی عربوں کے زیرِ اثر ایرانی کے عربوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی جسے یقیناًً ایران نے ناپسندیدگی سے دیکھا ہو گا ۔ ایران نے حالیہ سفارتی مواقع پر جس خودمختار پالیسی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تہران اب کسی تیسرے فریق کی وساطت کے بجائے براہِ راست سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے، لیکن دریں حالات وہ امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ Pakistan کی ثالثی کی پیشکش بظاہر خیرسگالی پر مبنی تھی، مگر ایران کے لیے اس میں غیرجانبداری کا سوال اہم رہا۔ پاکستان کے Saudi Arabia اور United States کے ساتھ قریبی تعلقات، ایران کے شکوک کو تقویت دیتے ہیں، جس کے باعث اس نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ تاہم ایران کے اس مؤقف کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی تاریخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ Iran کا یہ دعویٰ ہے کہ United States نے ماضی میں ایسے اقدامات کیے ہیں جنہوں نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ 2015 کے جوہری معاہدے سے 2018 میں Donald Trump کا یکطرفہ انخلا ایران کے نزدیک ایک بڑا دھچکہ تھا، کیونکہ اس کے بعد دوبارہ سخت معاشی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ مزید برآں 2020 میں Qasem Soleimani کی امریکی حملے میں ہلاکت کو تہران کھلی فوجی جارحیت قرار دیتا ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر ایران امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتا ہے اوراس وقت براہِ راست مذاکرات سے گریز کرتا ہے۔ اگرچہ امریکی مؤقف اس سے مختلف ہے اور وہ ایران پر علاقائی عدم استحکام اور پراکسی سرگرمیوں کے الزامات عائد کرتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اس حد تک گہرا ہو چکا ہے کہ کسی بھی سفارتی پیش رفت کے لیے ٹھوس ضمانتیں ناگزیر ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب United Arab Emirates کا اپنے فنڈز واپس لینے کا فیصلہ محض ایک مالی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر جیوپولیٹیکل حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ امارات خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے سرمایہ کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ ایک طرف ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھتا ہے، جبکہ دوسری طرف مغربی اتحادیوں کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک ہم آہنگی بھی قائم رکھتا ہے۔ اس دوہری حکمتِ عملی میں معاشی مفاد ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں اگر Donald Trump جیسے رہنما کو کسی ممکنہ بحران؛مثلاً فوجی طیارے کے حادثےکے بعد فیصلہ کرنا ہو، تو اس کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ایک طرف ریاستی وقار اور طاقت کے اظہار کا تقاضا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی عوام کی واضح اکثریت ایران میں براہِ راست فوجی مداخلت کے خلاف دکھائی دیتی ہے۔ایسے حالات میں مکمل جنگ ایک غیر مقبول اور سیاسی طور پر خطرناک راستہ بن جائے گی۔ اس کے برعکس، محدود فوجی کارروائی، معاشی پابندیاں، اور سفارتی دباؤ زیادہ قابلِ عمل آپشنز کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ تمام صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ آج کی دنیا میں جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ سفارتکاری، معیشت، اور عوامی رائے کے میدانوں میں بھی جاری رہتی ہے۔ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے محتاط فیصلے کر رہا ہے، امارات اپنے مالی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے، جبکہ امریکہ داخلی سیاسی دباؤ اور عالمی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آخرکار، یہ ایک ایسا مثلث بن چکا ہے جہاں ہر فریق اپنے مفادات کے تحت حرکت کر رہا ہے، اور کسی ایک غلط قدم کے نتیجے میں خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے دانشمندانہ سفارتکاری کو فروغ دیا جائے، تاکہ ایک اور بڑے بحران سے بچا جا سکے۔ حیران کن طور پر اقوام متحدہ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس مقصد کے لیا بنایاگیا تھا کہ دنیا کو آئیندہ کسی بھی ممکنہ جنگی تصادم سے محفوظ رکھا جائے، وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے، بلکہ یوں کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ یہ امریکہ کا ہی ایک ادارہ بن چکا ہے جہاں دیگر ممالک کی کو ئی رسائی نہیں۔
|