ماں جیسی ہستی دنیا میں ہے کہاں

تحریر ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی۔ ماں جیسی ہستی دنیا میں ہے کہاں
ماں… یہ صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ محبت، ایثار اور قربانی کی مکمل تصویر ہے۔ ایک ایسا رشتہ جو انسان کو زندگی کی پہلی سانس کے ساتھ ملتا ہے اور آخری سانس تک اس کے وجود میں بسا رہتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی گود پہلی درسگاہ ہے، جس کی آغوش پہلا سکون ہے، اور جس کی آواز پہلی پہچان ہے۔ اس کے بغیر زندگی ادھوری، بے رنگ اور بے معنی محسوس ہوتی ہے۔
ماں کی محبت میں ایک عجیب سا سکون ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف جسمانی تھکن کو دور کرتی ہے بلکہ دل کی بے چینی کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ جب دنیا کے سب دروازے بند ہو جائیں، جب ہر طرف اندھیرا محسوس ہو، تب ماں کی ایک مسکراہٹ روشنی بن کر دل کو منور کر دیتی ہے۔ اس کی باتوں میں نصیحت بھی ہوتی ہے اور دعا بھی، شفقت بھی ہوتی ہے اور رہنمائی بھی۔ وہ ہمیں گرنے سے پہلے سنبھال لیتی ہے اور گر جائیں تو اٹھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
ماں کی زندگی کا محور ہمیشہ اس کی اولاد ہوتی ہے۔ وہ اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر بچوں کی خوشیوں کو ترجیح دیتی ہے۔ اپنی نیندیں قربان کر دیتی ہے تاکہ بچے سکون سے سو سکیں۔ اپنی بھوک بھلا دیتی ہے تاکہ بچے پیٹ بھر کر کھا سکیں۔ اپنی خوشیوں کو محدود کر دیتی ہے تاکہ بچوں کی دنیا وسیع ہو سکے۔ وہ کبھی اپنے لیے نہیں جیتی، ہمیشہ دوسروں کے لیے جیتی ہے۔ اس کی ہر سوچ، ہر دعا، ہر عمل میں اولاد کی بھلائی شامل ہوتی ہے۔
بچپن میں جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو ماں کی بے چینی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ وہ رات بھر جاگتی ہے، دعائیں مانگتی ہے، اور ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ اس کا بچہ جلد صحت یاب ہو جائے۔ اس کے لیے ہماری ایک ہلکی سی تکلیف بھی ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔ وہ خود تکلیف میں ہو تو برداشت کر لیتی ہے، مگر اولاد کا درد اسے اندر سے توڑ دیتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں، مگر لبوں پر دعا ہی رہتی ہے۔
ماں صرف محبت ہی نہیں دیتی بلکہ بہترین تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ وہ ہمیں اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے، اخلاقیات کا درس دیتی ہے، اور زندگی کے نشیب و فراز سے نمٹنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ اس کی نصیحتیں وقت کے ساتھ سمجھ آتی ہیں، اور اس کی تربیت انسان کو ایک باوقار شخصیت بناتی ہے۔ وہ نہ صرف ہمیں جینا سکھاتی ہے بلکہ اچھا انسان بننا بھی سکھاتی ہے۔
وقت کے ساتھ جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو اکثر ماں کی قربانیوں کو بھولنے لگتے ہیں۔ اپنی مصروفیات میں اس کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ جس ماں نے ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھا، آج وہ ہماری توجہ کی محتاج ہے۔ اس کے دل کو سب سے زیادہ خوشی تب ملتی ہے جب ہم اس کے پاس بیٹھ کر اس سے بات کریں، اس کی خیریت پوچھیں، اور اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ آج بھی ہماری زندگی کی سب سے اہم شخصیت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ماں جیسی ہستی دنیا میں کہیں نہیں مل سکتی۔ اس کا نعم البدل ممکن نہیں۔ دنیا کے تمام رشتے کسی نہ کسی غرض سے جڑے ہوتے ہیں، مگر ماں کا رشتہ خالص اور بے لوث ہوتا ہے۔ وہ بغیر کسی صلے کے محبت کرتی ہے، بغیر کسی شرط کے دعا دیتی ہے، اور بغیر کسی توقع کے قربانیاں دیتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ماں کی قدر کریں، اس کی خدمت کریں، اور اس کے ساتھ محبت اور احترام کا رویہ اختیار کریں۔ اس کی دعائیں ہماری کامیابی کا راز ہیں، اور اس کی خوشی ہماری زندگی کی برکت ہے۔ کیونکہ سچ یہی ہے کہ ماں جیسی ہستی دنیا میں کہیں نہیں، اور اس جیسی نعمت دوبارہ نصیب نہیں ہوتی۔







 
Dr-Muhammad Saleem Afaqi
About the Author: Dr-Muhammad Saleem Afaqi Read More Articles by Dr-Muhammad Saleem Afaqi: 63 Articles with 66261 views
Dr. Muhammad Saleem Afaqi is a prominent columnist and scholar from Nasar Pur, GT Road, Peshawar. He earned his Ph.D. in Education from Sarhad Unive
.. View More