پالف آسٹریلیا اردو اسکول کے طلبہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی شناخت، زبان اور ثقافتی ورثے سے جڑے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں.| رپورٹ سیدہ گیلانی۔۔۔آسٹریلیا
(Syeda F Gilani, Adelaide)
پالف آسٹریلیا اردو اسکول کے طلبہ نے عیدالفطر کی آمد کے موقع پر نہ صرف اردو زبان سیکھنے میں اپنی غیر معمولی دلچسپی اور محنت کا مظاہرہ کیا بلکہ فنِ مصوری اور تخلیقی اظہار کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ یہ امر نہایت خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے کہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی یہ ننھے طلبہ اپنی تہذیبی شناخت، زبان اور ثقافتی ورثے سے جڑے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عیدالفطر جیسے روحانی اور تہذیبی تہوار کے موقع پر ان بچوں کی تخلیقی سرگرمیاں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ تعلیم اگر ہمہ جہت ہو تو اس کے اثرات نہایت مثبت اور دیرپا ہوتے ہیں۔ ان طلبہ کی جانب سے تیار کی گئی تصاویر اور آرٹ ورک نہ صرف ان کی فنی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ان کے اندر موجود جمالیاتی حس، تخلیقی سوچ اور مشاہدے کی گہرائی کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ کہیں رنگوں کی شوخی عید کی خوشیوں کو بیان کر رہی ہے تو کہیں سادگی اور معصومیت کے ساتھ عید کی روایات کو پیش کیا گیا ہے۔ بچوں نے چاند رات، عید کی نماز، خوشیوں بھری ملاقاتیں، تحائف کا تبادلہ اور روایتی لباس جیسے موضوعات کو اپنی تصاویر میں سمو کر ایک مکمل تہذیبی منظرنامہ پیش کیا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ان کے اندر نہ صرف سیکھنے کا جذبہ موجود ہے بلکہ وہ اپنی سیکھنے کی صلاحیت کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ پالف آسٹریلیا اردو اسکول کا یہ اقدام قابلِ ستائش ہے کہ اس نے زبان کی تعلیم کو محض نصابی حدود تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے تخلیقی اور عملی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ تعلیمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جب بچوں کو سیکھنے کے ساتھ ساتھ اظہار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں تو ان کی ذہنی نشوونما زیادہ مؤثر انداز میں ہوتی ہے۔ آرٹ، خاص طور پر مصوری، بچوں کے جذبات، خیالات اور مشاہدات کو ایک بصری شکل دینے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ نہ صرف زبان سیکھتے ہیں بلکہ اپنی ذات کا اظہار بھی بہتر انداز میں کر پاتے ہیں۔ مزید برآں، یہ تخلیقی سرگرمیاں بچوں میں اعتماد، خود اعتمادی اور ٹیم ورک کے جذبے کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ جب ان کی بنائی ہوئی تصاویر کو سراہا جاتا ہے اور انہیں اپنی محنت کے اظہار کا موقع ملتا ہے تو ان کے اندر سیکھنے کا شوق مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح کی سرگرمیاں ان کے اندر مثبت سوچ، برداشت اور دوسروں کے کام کی قدر کرنے کا شعور بھی پیدا کرتی ہیں۔ عیدالفطر کے موقع پر یہ سرگرمیاں بچوں کے لیے نہ صرف خوشی کا باعث بنتی ہیں بلکہ انہیں اپنی ثقافت اور مذہبی روایات کے قریب بھی لے آتی ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ آسٹریلیا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں اپنی زبان اور ثقافت کو زندہ رکھنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔ ایسے میں پالف آسٹریلیا اردو اسکول کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے، جو نئی نسل کو اردو زبان سکھانے کے ساتھ ساتھ ان میں اپنی تہذیبی شناخت کا شعور بھی بیدار کر رہا ہے۔ یہ ادارہ درحقیقت ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو ماضی کی روایات کو حال سے جوڑتے ہوئے مستقبل کی راہوں کو روشن کر رہا ہے۔ ان تصاویر کو دیکھ کر یہ بات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے کہ بچوں نے نہایت محنت، دلچسپی اور محبت کے ساتھ یہ کام انجام دیا ہے۔ ہر تصویر ایک کہانی سناتی ہے، ایک جذبہ بیان کرتی ہے اور عید کی خوشیوں کو اپنے منفرد انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ تخلیقات اس بات کی علامت ہیں کہ ہمارے بچے نہ صرف باصلاحیت ہیں بلکہ انہیں اگر درست رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ہر میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ المختصر یہ کہنا بجا ہوگا کہ پالف آسٹریلیا اردو اسکول کے طلبہ کی یہ کاوشیں نہ صرف قابلِ تعریف ہیں بلکہ دیگر تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک مثال ہیں۔ اس طرح کی سرگرمیوں کے ذریعے ہم نہ صرف اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دے سکتے ہیں بلکہ انہیں ایک باوقار، بااعتماد اور تخلیقی شخصیت کے طور پر بھی پروان چڑھا سکتے ہیں۔ عیدالفطر کی خوشیوں کے ساتھ جڑی یہ تخلیقی جھلکیاں اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ ہماری نئی نسل اپنی زبان، ثقافت اور روایات سے جڑی ہوئی ہے اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے پرعزم بھی۔ |
|