قوم کا معمار
(Dr-Muhammad Saleem Afaqi, Peshawar)
تحریر ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی
قوم کا معمار
مدرس دراصل کسی بھی قوم کی بنیاد رکھنے والا انسان ہوتا ہے۔ وہ صرف کتابیں پڑھانے والا نہیں بلکہ انسان بنانے والا ہوتا ہے۔ ایک استاد اپنے شاگردوں کے ذریعے پوری قوم کے مستقبل کو سنوارتا ہے۔ اگر استاد اچھا ہو تو اس کے اثرات نسلوں تک جاتے ہیں، اور اگر اس میں کمی ہو تو اس کا نقصان بھی دور تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے استاد کا مقام بہت بلند اور ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ ایک اچھے مدرس کے لیے سب سے ضروری چیز اس کا علم ہوتا ہے۔ جو خود علم نہیں رکھتا وہ دوسروں کو کیا سکھائے گا؟ استاد کو اپنے مضمون پر مکمل عبور ہونا چاہیے اور ساتھ ہی زمانے کے بدلتے حالات اور نئے طریقوں سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ جب استاد خود سیکھنے والا ہو تو وہی جذبہ اپنے طلبہ میں بھی منتقل کرتا ہے۔ استاد کا کردار اس کی سب سے بڑی پہچان ہوتا ہے۔ شاگرد صرف باتیں نہیں سنتے بلکہ اپنے استاد کے عمل کو دیکھتے ہیں۔ اگر استاد سچا، ایماندار، صبر کرنے والا اور اچھے اخلاق والا ہو تو طلبہ بھی ویسے ہی بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے استاد کو اپنی زندگی کو ایک مثال بنانا چاہیے تاکہ اس کے الفاظ کے ساتھ اس کا عمل بھی اثر کرے۔ ایک کامیاب مدرس وہ ہوتا ہے جو اپنے طلبہ کے ساتھ نرمی اور محبت کا رویہ رکھتا ہو۔ سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے بچے گھبرا جاتے ہیں، جبکہ محبت اور شفقت ان کے دل کھول دیتی ہے۔ اچھا استاد کمزور طلبہ کو نظر انداز نہیں کرتا بلکہ ان کی مدد کرتا ہے، انہیں حوصلہ دیتا ہے اور آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔ پڑھانے کا انداز بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ ہر استاد کو چاہیے کہ وہ مشکل باتوں کو آسان طریقے سے سمجھائے۔ مثالوں کے ذریعے بات کو واضح کرے اور طلبہ سے سوال جواب کر کے انہیں شامل رکھے۔ جب پڑھائی دلچسپ ہو تو طلبہ خود شوق سے سیکھتے ہیں۔ استاد کو ہمیشہ انصاف سے کام لینا چاہیے۔ تمام طلبہ اس کے لیے برابر ہونے چاہئیں۔ کسی کے ساتھ جانبداری یا امتیاز نہ ہو، چاہے وہ امیر ہو یا غریب، ذہین ہو یا کمزور۔ انصاف کرنے والا استاد ہی عزت پاتا ہے اور اس کی بات دل میں اثر کرتی ہے۔ تعلیم کا عمل صبر مانگتا ہے۔ ہر طالب علم ایک جیسا نہیں ہوتا، کوئی جلدی سیکھتا ہے اور کوئی دیر سے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ بار بار سمجھائے، غلطیوں کو برداشت کرے اور مثبت انداز اپنائے۔ صبر کرنے والا استاد ہی اصل میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایک استاد کی حوصلہ افزائی طلبہ کی زندگی بدل سکتی ہے۔ اگر استاد اپنے شاگرد کی تعریف کرے اور اس کی صلاحیتوں کو پہچانے تو وہ بچہ آگے بڑھنے کی ہمت پکڑ لیتا ہے۔ مثبت باتیں انسان کو اوپر اٹھاتی ہیں اور مایوسی کو ختم کرتی ہیں۔ استاد کی زندگی میں وقت کی پابندی اور اخلاص بھی بہت ضروری ہے۔ جو استاد خود وقت کا پابند ہو وہی طلبہ کو بھی اس کی اہمیت سکھا سکتا ہے۔ اور جب نیت صاف ہو اور کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو اس میں برکت آتی ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مدرس ہونا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ صرف ایک نوکری نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔ ایک اچھا استاد علم بھی دیتا ہے اور اخلاق بھی سکھاتا ہے۔ وہ طلبہ کو بہتر انسان بناتا ہے اور انہیں صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ جس قوم کے اساتذہ اپنے فرض کو سمجھ لیں، وہاں علم بھی بڑھتا ہے اور کردار بھی بہتر ہوتا ہے۔ ایسی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں اور دنیا میں اپنا مقام بناتی ہیں۔ |
|