مدھم مدھم تعلق — آٹزم سپیکٹرم والے بچوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا

مدھم مدھم تعلق — آٹزم سپیکٹرم والے بچوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا
ہم نے پچھلے مضمون میں آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کے بارے میں تفصیل سے جاننے کی کوشش کی تھی۔ آٹزم سپیکٹرم میں سماجی روابط سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ آٹزم سے متاثرہ بچے اور افراد دوسروں کے ساتھ تعلق اور بات چیت قائم کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں والدین کو اپنی بات انہیں سمجھانے اور ان کی بات سمجھنے میں کافی دشواری پیش آتی ہے۔ بچوں کو نئی چیزیں سکھانے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے دوسروں کے ساتھ مثبت روابط بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم ان طریقوں پر روشنی ڈالیں گے جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ بہتر تعلق قائم کرنے کے لیے اپنا سکتے ہیں۔
۱. روٹین قائم کرنا
عام طور پر آٹزم سپیکٹرم سے متاثرہ بچے ایک مقررہ روٹین پر چلنا پسند کرتے ہیں — یعنی انہیں یہ معلوم ہو کہ ایک کام کے بعد کیا ہوگا۔ غیر متوقع یا انجانے کام ان کے لیے پریشانی اور غصے کا سبب بن سکتے ہیں۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچے کی روٹین ترتیب دیں اور اسے عملی طریقے سے سکھائیں۔ دن کو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جیسے:
صبح: واشروم جانا، کپڑے تبدیل کرنا، ناشتہ کرنا، پھر اسکول جانا۔
اسکول میں: مختلف مضامین اور سرگرمیوں میں حصہ لینا۔
اسکول کے بعد: یونیفارم بدلنا، کھانا کھانا، آرام کرنا، ہوم ورک مکمل کرنا، اور کھیل کود۔
رات: خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور سونا۔
ان تمام مراحل کی تصاویر A4 سائز پر پرنٹ کر کے یا ہاتھ سے بنا کر، کسی نمایاں جگہ پر ترتیب وار لگائیں۔ بورڈ سادہ اور صاف ہونا چاہیے۔ اگر بچہ پڑھ یا سمجھ سکتا ہو تو تصاویر کے ساتھ الفاظ اور جملے بھی لکھے جا سکتے ہیں۔ ہر کام مکمل ہونے کے بعد اس کارڈ کو اٹھا کر "مکمل شدہ کاموں" کی جگہ رکھ دیں — اس طرح بچے میں کامیابی کا احساسSense of Achievement پیدا ہوتا ہے۔
چھوٹے روزمرہ کے کاموں، جیسے دانت صاف کرنے کا طریقہ، کو بھی تصویری کارڈز کے ذریعے سکھایا جا سکتا ہے۔ ترتیب وار کارڈز لگانے کے بعد بچے سے پوچھیں کہ اگلا مرحلہ کیا ہے — وہ کارڈ کی طرف اشارہ کر کے یا بول کر جواب دے سکتا ہے۔ ہر کام پہلے خود کر کے دکھائیں، پھر بچے کی مدد کریں۔
۲. مثبت تقویت: Positive Reinforcement:
جب بچہ کوئی مطلوبہ کام کرے یا کوئی مثبت رویہ ظاہر کرے، تو فوری طور پر اسے ایسی چیز یا تعریف دیں جو اسے پسند ہو۔ اس سے بچہ نہ صرف نئے کام جلدی سیکھتا ہے بلکہ دوسروں کے ساتھ مثبت تعلق قائم کرنے کی بھی بہتر ابتدا ہوتی ہے۔
آٹزم سے متاثرہ بہت سے بچوں کے لیے کھانے کی چیزیں مؤثر تقویت کا کام کرتی ہیں — جیسے پھل کا ٹکڑا، چپس، یا کینڈی۔ تاہم ان چیزوں کو ہر بار استعمال کرنے سے گریز کریں اور مقدار بھی مناسب رکھیں۔ اس کے علاوہ پسندیدہ کھلونا، حسی انعامات Sensory Rewards جیسے بلبلے، ٹرامپولین، یا کائنیٹک ریت، اور پسندیدہ سرگرمیاں جیسے آئی پیڈ، کارٹون کلپ وغیرہ بھی تقویت کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹیکر یا پسندیدہ ہیرو کارڈ بھی دیے جا سکتے ہیں۔
مثبت تقویت کا انتخاب کرتے وقت بچے کی ذاتی پسند کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ جن چیزوں سے بچہ خوشی محسوس کرے، جن کے بارے میں زیادہ بات کرے، یا جن کی طرف بار بار متوجہ ہو — وہی چیزیں اس کے لیے سب سے مؤثر تقویت ہوتی ہیں۔
یاد رہے: جب بھی بچہ مطلوبہ رویہ ظاہر کرے، تقویت فوری طور پر دینی چاہیے۔ اس سے بچے کے رویے اور انعام کے درمیان مثبت تعلق قائم ہوتا ہے۔
۳. گھر میں پُرسکون کارنر: Calming/Safety: Corner
گھر میں ایک خاموش اور پُرسکون جگہ مخصوص کریں جہاں بچے کا پسندیدہ کھلونا یا حسی اشیاء موجود ہوں اور جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکے۔ آٹزم سے متاثرہ بچے اکثر حسی محرکاتSensory Stimuli جیسے چھونے، تیز آواز، یا روشنی کے بارے میں انتہائی حساس ہوتے ہیں اور ایسے ماحول میں جلد بے چین یا پریشان ہو جاتے ہیں۔ گھر میں ایسی جگہ کا ہونا انہیں خود کو قابو میں کرنےSelf-Regulation میں مدد دیتا ہے۔
۴. مؤثر بات چیت: Communication
بچے کے ساتھ بات چیت کرنا چیلنجنگ ضرور ہو سکتا ہے، لیکن یہ والدین اور بچے دونوں کے لیے ناگزیر ہے۔ واضح، سادہ اور مثبت جملے استعمال کریں اور تنقیدی یا منفی انداز سے گریز کریں۔
مثال کے طور پر:
❌ "کیا آپ اپنے کھلونے اٹھا سکتے ہیں؟" (غیر واضح، سوالیہ)
✅ "پلیز اپنے کھلونے اٹھا کر ڈبے میں رکھ دیں۔" (واضح اور ہدایت کے انداز میں)
آنکھوں کا رابط: Eye Contact
اس وقت قائم کرنے کی کوشش کریں جب بچہ خوش ہو یا اپنی پسندیدہ سرگرمی میں مصروف ہو۔ آنکھ ملانے پر کبھی زبردستی نہ کریں اور نہ ہی اس پر غصہ کریں — اس سے بچہ مزید پیچھے ہٹ سکتا ہے۔
اختتامی بات
آٹزم سے متاثرہ بچے کے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف بچے کی تربیت پر ہی توجہ نہ دیں بلکہ اپنی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھیں۔ کسی سپورٹ گروپ سے جڑنا اور باقاعدگی سے ایک تجربہ کار تھراپسٹ سے رہنمائی لینا نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔






 
Mahrukh Nazir
About the Author: Mahrukh Nazir Read More Articles by Mahrukh Nazir: 13 Articles with 6534 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.