ایران کے سامنے راستے، پاکستان کے لیے امتحان تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی ---آسٹریلیا

ایران کے سامنے راستے، پاکستان کے لیے
امتحان
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی ---آسٹریلیا
شرق الاوسط اب ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں سفارت کاری اور طاقت کی سیاست ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ حالیہ مذاکرات کا بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونا اس امر کی واضح علامت ہے کہ خطہ نہ صرف غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے بلکہ ایک ممکنہ تصادم کے دہانے پر بھی کھڑا ہے۔ اس تناظر میں ایران کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل اور پاکستان کا ممکنہ کردار عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
اس وقت ایران کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا وہ فوری ردعمل کا راستہ اختیار کرے یا طویل المدتی حکمتِ عملی کو ترجیح دے۔ ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران نے اکثر مواقع پراسٹریٹجک صبرکا مظاہرہ کیا ہے یعنی وقتی طور پر خاموش رہ کر حالات کو اپنے حق میں موڑنے کی کوششیں کی ہیں۔یہ حکمتِ عملی نہ صرف ایران کو براہِ راست جنگ سے بچاتی ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر تنہائی سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ موجودہ حالات میں بھی یہی راستہ زیادہ حقیقت پسندانہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ مکمل جنگ نہ صرف عسکری بلکہ معاشی اور سیاسی لحاظ سے بھی ایران کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔تاہم اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل کے اکسانے پر امریکہ اسرائیل کی جنگ میں کود پڑا اور نہ صرف ایران کے اثاثوں کو تباہ کیا بلکہ خود بھی مالی و جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جس کی بازگشت دنیا بھر میں سنی گئی۔
بایں ہمہ ایران کی طاقت کا ایک اہم پہلو اس کا علاقائی اثر و رسوخ ہے۔ لبنان، عراق، شام اور یمن میں موجود اس کے اتحادی اسے یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ براہِ راست جنگ میں شامل ہوئے بغیر اپنے مخالفین پر دباؤ ڈال سکے۔تاہم، یہ حکمتِ عملی ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر ردعمل حد سے بڑھ جائے تو یہ پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ اسی لیے ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہکنٹرولڈ اسکیلشن کی پالیسی اپنائے، جہاں دباؤ برقرار رہے مگر صورتحال قابو سے باہر نہ ہو۔
اگرچہ حالیہ مذاکرات ناکام رہے ہیں، لیکن سفارت کاری کے امکانات ختم نہیں ہوئے۔ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقوام متحدہ، یورپی ممالک یا علاقائی طاقتوں کے ذریعے دوبارہ بات چیت کا آغاز کرے۔کیونکہ سفارت کاری نہ صرف کشیدگی کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ ایران کو معاشی پابندیوں سے نکلنے کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔ ایک طویل جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اور یہی حقیقت سفارتی حل کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
ایران کے لیے سب سے بڑا امتحان محاذِ جنگ نہیں بلکہ داخلی استحکام ہے۔ معاشی مشکلات، عوامی توقعات اور سیاسی دباؤ ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بیرونی تنازع کو اندرونی بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔لہٰذا، ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی معیشت کو مستحکم کرے اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھے، کیونکہ یہی اس کی طویل المدتی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہم مگر محدود نوعیت کا ہے۔ پاکستان ایک ایسی پوزیشن میں ہے جہاں اس کے تعلقات بیک وقت ترکی، سعودی عرب اور چین جیسے ممالک کے ساتھ مضبوط ہیں۔یہ توازن اسے ایک سفارتی پل بننے کا موقع فراہم کرتا ہے، جہاں وہ مختلف فریقین کے درمیان رابطے قائم کر سکتا ہے۔ تاہم، اس کردار کی کامیابی کا انحصار پاکستان کی غیر جانبداری اور سفارتی مہارت پر ہے۔
پاکستان اسلامی تعاون کی تنظیم کے پلیٹ فارم پر بھی جنگ بندی اور مذاکرات کی حمایت کر سکتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم اکثر اندرونی اختلافات کا شکار رہتی ہے، جس کے باعث اس کا اثر محدود ہو چکا ہے۔اس بحران میں اصل فیصلہ سازی بڑی عالمی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے، خصوصاً امریکہ۔ اس کے علاوہ چین بھی اپنے معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان ان طاقتوں کو کنٹرول نہیں کر سکتا، لیکن ایک معاون اور مصالحتی کردار ضرور ادا کر سکتا ہے۔پاکستان کی ایک بڑی طاقت اس کی بیک چینل ڈپلومیسی ہے۔وہ خاموش رابطے جو میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں مگر تنازعات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ میدان ہے جہاں پاکستان نسبتاً زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے اور مستقبل میں بھی ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خطرہ کسی منصوبہ بند جنگ کا نہیں بلکہ غلط اندازے کا ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ یا غیر متوازن ردعمل پورے خطے کو ایک بڑے تصادم میں جھونک سکتا ہے۔یہ وقت طاقت کے اظہار کا نہیں بلکہ دانشمندی کا ہے۔ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ توازن، صبر اور سفارت کاری کو اپنائے، جبکہ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امن کے قیام میں کردار ادا کرے۔ کیونکہ دنیا ایک بار پھر ایک نازک توازن پر کھڑی ہے، جہاں ایک قدم جنگ کی طرف اور دوسرا امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اب امریکہ اور ایران دونوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ دنیا میں امن لانا ہے یا تباہی دنیا کا مقدر بنے گی۔
اس بات سے ساری دنیا آگاہ ہے کہ پاکستان نے اپنی تاریخ کا کامیاب ترین سفارتکاری کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کو پانچ دہائیوں کے بعد ایک میز پر بٹھا دیا۔ اگرچہ ان مذاکرات کے حتمی نتائج سامنے نہیں آئے لیکن شنید ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان اور ترکی کی کوششوں سے دونوں ممالک ایک بار پھر مذاکرات کی ٹیبل پر ہو ں گے اور اس بار یقینا دنیا کے لیے خوشخبری آئے گی۔ دریں حالات پاکستان کے لیے بھی یہ ایک امتحان سے کم نہیں کیونکہ ایک طرف تو امریکہ اور ایران کے مابین سفارتی کاری میں اس کا کردار اہم ہے تو دوسری اس کی فضائی صلاحیت جو اس کی طاقت ہے؛ اسےسعودی عرب بھی روانہ کر دیا گیا ہے ۔

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 171 Articles with 250736 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More