سفارت کاری کے آئینے میں پاکستان اور افغانستان تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی۔۔۔آسٹریلیا

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ نےعالمی سیاست کے ایوانوں میں نہ صرف بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شرق الاوسط کی یہ کشمکش اگرچہ جغرافیائی طور پر ایک مخصوص خطے تک محدود دکھائی دیتی ہے؛ لیکن اس کے اثرات نےجنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسی بحران میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو نمایاں حیثیت ملی ہے، جبکہ افغانستان کا کردار نسبتاً خاموش اور حریفانہ دکھائی دیا ہے۔ بعض حلقوں نے اسے پاکستان کی سفارتی کامیابی اور افغانستان کی سیاسی ناکامی سے تعبیر کیا، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہے۔
پاکستان نے اس بحران میں متحرک سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہےبلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کامیاب کوششیں کیں اور ان کو ششوں میں شب وروز مصروف بھی ہے۔ اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اور عالمی فورمز پر پاکستان کی مؤثر موجودگی نے یہ پیغام دیاہے کہ پاکستان خود کو ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر منواچکا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے بیانات اور او آئی سی کے ذریعے مسلم ممالک کو یکجا کرنے کی کوششیں اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
یہ سرگرمیاں یقیناً قابلِ توجہ ہیں، مگر ان کی حدود کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ عالمی سفارت کاری محض نیک نیتی یا مؤثر بیانات سے کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے طاقت، اقتصادی اثر و رسوخ اور عالمی حمایت جیسے عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران ۔ امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے بے نتیجہ ہونے کے باوجود پاکستان نے اپنی کو ششوں کو پہلے سے زیادہ تیز کر دیا ہے۔ ایک طرف وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اپنے اعلی سطحی وفد کے ہمراہ سہ ملکی (سعودی عرب، قطر اور ترکی) دورے پر روانہ ہو چکے ہیں جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیرایک دوسرے وفد کے ہمراہ ایران کے دورے پر ہیں۔ ان کو ششوں کی وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے اور وہ امریکہ۔۔۔اسرائیل اور ایران کی جنگ کو مستقل طور پر رکوانے اور کسی حتمی معاہدے کے طے پانے کے لیے ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی کوششوں کواگرچہ مثبت نظر سے دیکھا گیا، لیکن وہ ابھی تک عالمی پالیسی پر فیصلہ کن اثر انداز نہ ہو سکیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات اپنی جگہ برقرارہیں لیکن امید ہے کہ پاکستان کی موجودہ کو ششیں بارآور ثابت ہو ں گی اور دنیا میں امن کی لہر ایک بار پھر دوڑ جائے گی اور دنیا اس وقت جن حالات سے گزر رہی ہے وہ بھی بدل جائیں گے۔
دوسری جانب افغانستان کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ اس نے عالمی بحران پر خاموشی اختیار کر کے سیاسی ناپختگی کا مظاہرہ کیا،نیز پاکستان کے اندرونی معاملات میں اس کی بے جا مداخلت نے اس کی صدیوں کی قدر وقیمت کو کم کر دیا ہے۔ افغانستان اس وقت داخلی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور عالمی سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ طالبان حکومت کو محدود عالمی قبولیت حاصل ہے اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی نمائندگی بھی متنازع ہے۔ ایسے حالات میں افغانستان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ امریکہ، ایران یا اسرائیل جیسے حساس معاملات میں فعال سفارت کاری کرے، غیر حقیقی ہے۔
افغانستان کی ترجیح اس وقت اپنی داخلی بقا، معاشی بحالی اور سیاسی استحکام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی زیادہ تر محدود اور محتاط دکھائی دیتی ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد بھی دونوں ممالک کے سفارتی تعاون کو محدود کیے ہوئے ہیں۔
اگر دونوں ممالک کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایک تسلیم شدہ ریاست ہونے کے ناطے عالمی سفارتی پلیٹ فارمز تک رسائی رکھتا ہے، جبکہ افغانستان محدود عالمی قبولیت اور داخلی مشکلات کی وجہ سے فعال کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ پاکستان کے پاس سفارتی نیٹ ورک، بین الاقوامی روابط اور علاقائی اثر و رسوخ موجود ہے، جبکہ افغانستان ابھی بنیادی ریاستی استحکام کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اسی لیے دونوں کے کردار کا فرق فطری ہے۔
پاکستان نے حالیہ بحران میں نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ میڈیا اور عالمی رائے عامہ کے میدان میں بھی اپنی موجودگی کو مؤثر بنانے کی کوشش کی ہے اور ان کو ششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، سفارتی بیانات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان نے خود کو امن کا داعی اور مصالحت کا حامی ثابت کیا ہے۔ یہ جدید سفارت کاری کا ایک اہم جز وہے، جہاں جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ بیانیے میں بھی لڑی جاتی ہے۔
اس کے برعکس افغانستان اس میدان میں بھی پیچھے دکھائی دیتا ہے۔ نہ صرف اس کی سفارتی رسائی محدود ہے بلکہ عالمی میڈیا تک اس کی مؤثر رسائی بھی کمزور ہے۔
ایک اور اہم پہلو علاقائی طاقتوں کا کردار ہے۔ چین، روس اور خلیجی ممالک بھی اس بحران میں اپنے اپنے مفادات کے تحت سرگرم ہیں۔ پاکستان ان طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جو اسے ایک حد تک سفارتی لچک فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ افغانستان ان طاقتوں کے ساتھ محدود اور غیر مستحکم روابط کے باعث اس سطح کی سفارتی حکمت عملی سے محروم ہے۔
اسی تناظر میں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ سفارت کاری محض فوری ردعمل کا نام نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی ہوتی ہے۔ پاکستان کی حالیہ سرگرمیاں اسی تسلسل کا حصہ ہیں، جہاں وہ خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو پل کا کرادر ادا کر سکتی ہے۔یعنی ایسی ریاست جو متحارب فریقوں کے درمیان رابطہ قائم کر سکے۔ اگرچہ اس حکمت عملی کی کامیابی ابھی مکمل طور پر واضح نہیں، مگر اس نے پاکستان کو عالمی سفارتی نقشے پر نمایاں ضرور کیا ہے۔
المختصر پاکستان اور افغانستان کی موجودہ صورتحال ہمیں عالمی سیاست کا ایک بنیادی سبق دیتی ہے: ریاستوں کا کردار ان کے ارادوں سے زیادہ ان کی صلاحیتوں سے متعین ہوتا ہے۔ پاکستان نے اپنی محدود مگر مؤثر صلاحیتوں کے ساتھ ایک فعال کردار ادا کیا، جبکہ افغانستان اپنی کمزوریوں کے باعث خاموش رہا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں اصل دانشمندی یہی ہے کہ ہم ب حقائق کو پیش ِ نظر رکھیں کیونکہ سفارت کاری میں الفاظ سے زیادہ حیثیت طاقت، اعتماد اور اثر و رسوخ کی ہوتی ہے، اور یہی عناصر کسی بھی ریاست کے عالمی مقام کا تعین کرتے ہیں۔
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 171 Articles with 250732 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More