چین میں زیرو کاربن صنعت کا آغاز
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں زیرو کاربن صنعت کا آغاز تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی سطح پر صنعتی ترقی کو عموماً ماحولیاتی آلودگی اور کاربن اخراج سے جوڑا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں یہ تصور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام اور سبز توانائی کے استعمال نے صنعتوں کو ایک نئی سمت دی ہے، جہاں پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چین میں بھی اسی رجحان کے تحت صنعتی شعبے کو کم کاربن اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں تھیان جن شہر میں قائم ایک جدید صنعتی مرکز کو “زیرو کاربن فیکٹری” کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جو بھاری صنعت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ یہ مرکز بنیادی طور پر تیل کی صنعت میں استعمال ہونے والی فولادی نلکیاں تیار کرتا ہے، جن کی تیاری روایتی طور پر توانائی کے زیادہ استعمال کی حامل رہی ہے۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس عمل کو ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔
اس تبدیلی کا بنیادی عنصر “ڈیجیٹل ٹوئن” نظام ہے، جو فیکٹری کا ایک مکمل ورچوئل ماڈل فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام ہر مشین سے حاصل ہونے والے حقیقی وقت کے ڈیٹا کی مدد سے پیداوار، توانائی کے استعمال اور مختلف مراحل کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف پیداواری عمل کو مؤثر بنایا گیا ہے بلکہ توانائی کے ضیاع کو بھی کم کیا گیا ہے۔ خودکار نگرانی کے باعث افرادی قوت کی ضرورت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جس سے مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔
توانائی کے شعبے میں بھی اس فیکٹری نے جدید طریقے اپنائے ہیں۔ عمارت کی چھتوں پر نصب شمسی پینلز صاف توانائی فراہم کرتے ہیں، جبکہ ہوا اور شمسی توانائی سے چلنے والے سمارٹ لیمپ پوسٹس ماحول کی نگرانی کے ساتھ توانائی کی بچت میں مدد دیتے ہیں۔ ایک مرکزی “انرجی کنٹرول نظام” تمام ڈیٹا کا تجزیہ کر کے توانائی کے بہتر استعمال کے لیے تجاویز فراہم کرتا ہے، جس سے توانائی کی کھپت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
مزید برآں، فیکٹری میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے کا نظام بھی موجود ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے جدید اصولوں کے مطابق ہے۔ جہاں مکمل طور پر اخراج ختم کرنا ممکن نہیں، وہاں کاربن مارکیٹ کے ذریعے متبادل اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مجموعی طور پر “زیرو کاربن” کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین قومی سطح پر سبز معیشت کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے زیرو کاربن صنعتوں کے فروغ کے لیے پالیسی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ برسوں کے لیے کاربن اخراج میں نمایاں کمی کے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اب کم کاربن ٹیکنالوجی کو اضافی بوجھ کے بجائے صنعتی کارکردگی میں اضافے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جدید مشینری اور ڈیجیٹل نظام میں سرمایہ کاری طویل المدتی پائیدار ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہے اور صنعتی مسابقت کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
مجموعی طور پر چین میں زیرو کاربن فیکٹریوں کا قیام اس بات کی واضح مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے صنعتی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ماڈل نہ صرف توانائی کے مؤثر استعمال اور اخراج میں کمی کو ممکن بناتا ہے بلکہ مستقبل کی پائیدار معیشت کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ بھی فراہم کرتا ہے، جس سے دیگر ممالک بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ |
|