اسٹیل ٹاؤن کو بد صورت ہونے سے بچاؤ

اسٹیل مل بند ہوئی -- اس کے کارخانے بند ہوئے - اور اس کے مختلف ادارے بھی بند ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ملازمین کی رہائشی بستی ، اسٹیل ٹاؤن بھی ویران ہو گئی - وہ رونقین بھی رخصت ہوئیں - ایک وڈیو میں اسٹیل ٹاؤن کے یو تیوبر شامی بھائی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اسٹیل ٹاون کی خوب صورتی اور حسن دل کو شاد کر دیتی ہے - بس اسٹاپ ویسے ہی کھڑا ماضی کی یاد دلارہا ہے - چھتری دار درخت دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھیں ہٹتی ہی نہیں ہیں --- اسٹیل ٹاؤن کیا تھا - چالیس بیالیس برس پہلے لکھا گیا میرا ایک کہانی نما کالم
چچا لوہاری کے مطابق اسٹیل ٹاؤن کی تازہ خبر یہ ہے کہ یہاں کے حکام کو ایک موٹے آدمی کی تلاش ہے -- احوال یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ نے خلق خدا کی سہولت کی خاطر بس اسٹاپ پر دو انتظار گابیں ستھری سی بنوادی تھیں - جن میں سیمنٹ کی جالیاں لگی ہوئی تھیں جو انتظار گاہ کو ہوا دار بنا کر کشادگی کا احساس دلاتی تھیں - اپنے چچا لوہاری اس انتظار گاہ میں بیٹھ کر اصلی پھول مارکہ سگریٹ کا لمبا سا کش لگا کر سارے غم بھول جاتے تھے - لیکن یارو فلک کج رفتار کو چچا کی یہ خوشیاں ایک آنکھ نہ بھائیں اور ایک دن بس کی سواریوں نے دیکھا کہ انتظار گاہ کا نقشہ درہم برہم ہے -- اس کی خوبصورت جالیوں میں شگاف پڑا ہوا ہے اور ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ادھر ادھر پڑے اپنی بے بسی پر آنسو بہا رہے ہیں - چچا لوہاری قریب ہی کھڑے تقریر کر رہے ہیں “میاں اس واردات کا پس منظر یہ ہے کہ ایک موٹے صاحب نے اس جالی کا سہارا لے کر پان کی گلوری منہ میں رکھی اور ٹھنڈا سانس لیا ------- بس صاحبو ان صاحب کا سانس لینا ہی غضب ہو گیا --
بقول چچا لوہاری جالی ان کا بوجھ نہیں سہار سکی سو وہ صاحب جالی میں شگا ف کرتے ہوئے باہر جا گرے - اسٹیل ٹاؤن کے حکام نے ان کی تلاش میں ایک پارٹی پان والے کی دکان پر بھیج دی ہے تاکہ جیسے ہی وہ صاحب آئیں ان کی گردن ناپ لی جائے ----- کیا عجب کہ ملزم یعنی موٹے صاحب اب تک گرفتار ہو چکے ہوں -- ملزم کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیئے کہ انہوں نے جالی سے ٹیک کیوں لگائی -- اگر لگائی ہی تھی تو سانس کیوں لی
ہم چچا لوہاری کو بس اتنا ہی جانتے ہیں جتنا آپ یا دوسرے لوگ -- البتہ اتنا علم ضرور پے کہ ان کی ایک ہزار ایک خصوصیات ہیں -- کوئی کہاں تک بیان کرے -- ایک خصوصیت یہ ہے کہ پہلے ان کی بات کی آزمائش کر لو تب اعتماد کرو -- ہم نے اپنے جی میں کہا کہ اس ماجرے کو بے دریافت کئے کسی سے بیان کرنا اپنی سبکی کرانا ہے سو ہم پر لازم ہے کہ پہلے بخوبی معلوم کریں کہ جالی ٹوٹنے کا اسرار کیا ہے تب لوگوں سے تذکرہ کریں - یہ بات دل میں ٹھہرا کر ہم تحقیق پر کمر بستہ ہوئے - ایک قنوطی سے پوچھا تو وہ صلواتیں سنانے لگا “ اے بھائی یہ سب کھانے پینے کے دھندے ہیں -- مال ہی ایسا لگایا کہ ایک ماہ میں گرپڑا -اب اس کی مرمت کا الگ بل بنائیں گے اور عید منائیں گے --- ایک دوسرے صاحب سے تبصرہ کرنے کو کہا تو وہ بولے “ اے حضرت میرا منہ نہ کھلواؤ --- اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے -- ہمارے اسٹیل ٹاؤن کے مکین ہی اس کے ٹوٹنے کا باعث بنے ہیں “ - ہمارے کان کھڑے ہو گئے - وہ بولے “ میاں جی اسٹیل ٹاؤن کے لڑکے بالے اس کے اندر چاند ماری کی مشق کرتے ہیں “ یقین نہ ہو تو کسی دن چھپ کر یہ سب دیکھ لو “
سو ایک روز ہم رات گئے انتظار گاہ کے قریب پہنچے -- اندر سے بچوں کی صدائیں سنائی دیتی تھیں -ہم ایک جانب چپ کھڑے دیکھنے لگے کہ کیا تماشہ ہو تا ہے - ایک بچہ چلایا “ہٹو ہٹو نائٹ رائیڈر کی گاڑی آتی ہے “ - اس کے ساتھ ہی ژوں کی آواز آئی اور وہ بچہ شگاف میں سے زقند لگا کر دوسری طرف پہنچ گیا ۔۔ اس کے ساتھ ہی جالی کا ایک ٹکڑا ٹوٹ کر نیچے گرا - دوسرا بچہ بولا “دیکھو میرا جوڈو کراٹے کا کمال “ اس سے پہلے کہ وہ بچہ کراٹے کی مخصوص آواز نکالتے ہوئے جالی پر حملہ آور ہوتا ہمارے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ گیا اور ہم شور مچاتے ہوئے ،عینک سنبھالتے ہوئے اندر داخل ہوئے -- بچے بالے ایک دم ہرن ہوئے اور بھاگ نکلے - اندر کا حال نہایت ہی ابتر تھا - چاروں طرف اینٹوں کے ٹکڑے پڑے بچوں کا شکوہ کر رہے تھے - ہمارے دل سے آہ نکلی اور انتظار گاہ سے ٹکرائی ( ایک ٹکڑا اور جھڑ گیا) ------- قریب ہی ایستادہ درخت سے ایک زرد سا پتا کانپتا ہوا ہمارے پیروں کے پاس آگرا - ہم تھکے ہوئے مایوس قدموں سے واپس ہونا ہی چاہتے تھے کہ ایسا معلوم ہوا کہ کسی نے پیر پکڑ لئے ہیں -- ہم نے غور سے نیچے نظر ڈالی وہ زرد ، کانپتا ہوا پتا کچھ کہہ رہا تھا - اس میں نہ جانے اتنی قوت کہاں سے آگئی تھی کہ ہم اپنا پیر نہیں ہلا سکے - ہم نے غور سے سنا - وہ بولا “ اے اس دیار کے رہنے والو آپ کی یہ بستی پورے کراچی میں مثالی مانی جاتی ہے -جب کسی شہر کی خوبصورتی کا تذکرہ ہوتا ہے تو بات اسٹیل ٹاؤن پر آکر ختم ہوتی ہے - یہاں کے باسیوں کا بود و باش شاہانہ ہے -- موسم سہانا ہے - ہر سو نکھار ہے - فضا پر بہار ہے - ہر درخت ، ہر پودا مسرت سے سرشار ہے -- ہوا خوشگوار ہے - صاف ستھری سڑکیں اور ان کے کنارے خوبصورت پھولوں کی بیلیں --- مستی میں کھیلیں -- اے اہلیان اسٹیل ٹاؤن آپ پر واجب ہے کہ یہ حسن -- یہ جمال -- یہ خوبصورتی تباہ ہونے سے بچائیں -- اپنے بچوں کو تربیت دیں کہ کھیلنا ہے تو کھیل کے میدان میں جا کر کھیلیں -- ڈسٹ بن کو وکٹ کے طورپر نہ استعمال کریں - گھر کے گیٹ کو جھولا نہ سمجھیں میدانوں میں اس مقصد کے لئے جھولے لگاہے گئے ہیں - بکریان نہ پالیں کہ وہ یہ سنزہ یہ پھول سب کھا لیں -- جگہ جگہ اشتہار نہ لگا ئیں کہ وہ آنکھوں کو نہ بھائیں بلکہ بدصورتی بڑھائیں -
یہ زرد سا منحنی کمزور پتا جانے اور کیا کیا بولتا کہ ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اسے اڑا کر لے گیا --- وہ فضا میں نہ جانے کہاں غائب ہو گیا -- لیکن اس کی فریاد و فغاں کی باز گشت اب بھی کانوں میں گونج رہی ہے - آسٹیل ٹاؤن کو بدصورت ہونے سے بچاؤ ------- بدصورت ہونے سے بچاؤ ---- بچاؤ
Munir  Bin Bashir
About the Author: Munir Bin Bashir Read More Articles by Munir Bin Bashir: 128 Articles with 405314 views B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More