فکرِ اقبال اور جدید انسان کا داخلی بحران

عصرِ حاضر کا انسان بظاہر اپنی مادی فتوحات پر نازاں ہے، مگر باطن کی ویرانی، فکری انتشار اور روحانی خلا اس کی زندگی کو ایک گہرے اضطراب میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی نے جہاں انسانی زندگی کو سہل بنایا ہے، وہیں اس نے انسان کو اس کی اصل حقیقت سے دور بھی کر دیا ہے۔ اسی پس منظر میں علامہ محمد اقبال کی فکر ایک ایسی معنوی اور فکری روشنی کے طور پر سامنے آتی ہے جو نہ صرف اس بحران کی تشخیص کرتی ہے بلکہ اس کا حل بھی پیش کرتی ہے۔ اقبال کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے انسان کو محض ایک مادی وجود کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک روحانی، تخلیقی اور فعال ہستی کے طور پر متعارف کرایا، جو اپنی باطنی قوتوں کے ذریعے نہ صرف اپنی ذات کو سنوارتا ہے بلکہ کائنات کی تشکیلِ نو میں بھی حصہ لیتا ہے۔
اقبال کے فکری نظام کا مرکز "خودی" ہے، جو دراصل انسان کے باطن میں پوشیدہ وہ جوہر ہے جو اسے شعور، اختیار اور تخلیق کی قوت عطا کرتا ہے۔ عصرِ حاضر میں جب انسان بیرونی اثرات، ثقافتی یلغار اور فکری غلامی کا شکار ہے، خودی کا تصور ایک انقلابی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ انسان کو اپنی پہچان کی بازیافت کا راستہ دکھاتا ہے اور اسے اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ اس کی اصل قوت اس کے اندر موجود ہے، نہ کہ بیرونی وسائل میں۔ اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت، استحکام اور تکمیل کے بغیر نہ فرد کی نجات ممکن ہے اور نہ ہی قوم کی ترقی۔
یہ تصور محض ایک تجریدی فلسفہ نہیں بلکہ ایک عملی نظریہ ہے جس کی جڑیں اسلامی تعلیمات میں پیوست ہیں، مگر اس کی فکری تشکیل میں مولانا جلال الدین رومی کی تعلیمات کا گہرا اثر بھی نمایاں ہے۔ رومی کے ہاں عشق کائنات کی اصل قوت ہے، ایک ایسی حرکی توانائی جو ہر شے کو حرکت اور ارتقا کی طرف مائل کرتی ہے۔ اقبال نے اسی عشق کو خودی کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا اور اسے ایک فعال اور انقلابی قوت کے طور پر پیش کیا۔ عصرِ حاضر میں جہاں عقل کو مطلق معیار سمجھ لیا گیا ہے، اقبال کا یہ تصور نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عقل اگرچہ رہنمائی فراہم کرتی ہے، مگر عشق وہ قوت ہے جو انسان کو عمل پر آمادہ کرتی ہے اور اسے بلند مقاصد کی طرف لے جاتی ہے۔
اسی طرح Johann Wolfgang von Goethe کی فکر بھی اقبال کے ہاں ایک خاص رنگ کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ گوئٹے نے انسان کو ایک ہمہ جہت وجود کے طور پر پیش کیا جو فطرت، عقل اور جذبے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اقبال نے اس تصور کو ایک نئی معنویت عطا کرتے ہوئے اسے روحانیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور انسان کی جستجو کو ایک اعلیٰ اخلاقی اور الٰہی مقصد سے جوڑ دیا۔ یہ پہلو عصرِ حاضر کے مادّہ پرست معاشروں کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں انسان کی کامیابی کو صرف مادی پیمانوں سے ناپا جاتا ہے۔
اقبال کے تصورِ حیات میں حرکت، تغیر اور ارتقا بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ زندگی کو ایک ساکن حقیقت نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل سمجھتے ہیں، ایک ایسا عمل جو انسان کو ہر لمحہ آگے بڑھنے، نئے امکانات تلاش کرنے اور اپنی حدود کو توڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ عصرِ حاضر میں جب جمود، تقلید اور سہل پسندی نے انسانی صلاحیتوں کو محدود کر دیا ہے، اقبال کا پیغام ہمیں بیدار کرتا ہے کہ زندگی سکون کا نہیں بلکہ جدوجہد کا نام ہے۔ ان کے نزدیک وہی فرد اور قوم زندہ ہے جو مسلسل حرکت میں رہے اور اپنی تقدیر کو خود تشکیل دے۔
موجودہ تعلیمی نظام پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ علم کو محض ایک ذریعۂ معاش بنا دیا گیا ہے، جبکہ اقبال کے نزدیک علم ایک زندہ اور تخلیقی قوت ہے جو انسان کے شعور کو بیدار کرتی ہے اور اسے کائنات کے اسرار سے آشنا کرتی ہے۔ اقبال ایسے علم کے قائل ہیں جو انسان میں خود آگہی پیدا کرے، اس کے اندر اخلاقی شعور بیدار کرے اور اسے ایک ذمہ دار اور باکردار فرد بنائے۔ عصرِ حاضر میں جہاں معلومات کی فراوانی کے باوجود حکمت اور بصیرت کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، اقبال کا یہ تصور ایک نہایت اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اقبال کا تصورِ عمل بھی ان کی فکر کا ایک بنیادی ستون ہے۔ وہ محض نظریات کے قائل نہیں بلکہ عملی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ آج کا انسان اگرچہ معلومات کے انبار میں گھرا ہوا ہے، مگر عمل کے میدان میں کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اقبال ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ فکر اس وقت تک بے معنی ہے جب تک وہ عمل میں ڈھل نہ جائے۔ یہی وہ اصول ہے جو فرد اور قوم دونوں کو زوال سے نکال کر عروج کی طرف لے جا سکتا ہے۔
عصرِ حاضر کے عالمی مسائل،اخلاقی زوال، معاشی ناہمواری، ماحولیاتی بحران اور ذہنی دباؤ،اس بات کے متقاضی ہیں کہ انسان اپنی سوچ اور رویوں میں بنیادی تبدیلی لائے۔ اقبال اس تبدیلی کا آغاز انسان کے باطن سے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب تک انسان اپنی خودی کو نہیں پہچانتا اور اسے مضبوط نہیں بناتا، اس وقت تک کوئی بھی بیرونی اصلاح پائیدار نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی فکر فرد سے شروع ہو کر معاشرے اور پھر پوری انسانیت تک پھیلتی ہے۔
اقبال کے ہاں مذہب ایک زندہ اور متحرک قوت ہے جو انسان کو نہ صرف روحانی سکون فراہم کرتی ہے بلکہ اسے عملی زندگی میں بھی رہنمائی دیتی ہے۔ عصرِ حاضر میں جہاں مذہب کو یا تو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا اسے شدت پسندی سے جوڑ دیا گیا ہے، اقبال ایک متوازن اور معقول نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں، اور ان کا امتزاج ہی ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔
اقبال نے مغربی تہذیب کا گہرا مطالعہ کیا اور اس کے مثبت پہلوؤں کو سراہا، مگر اس کی خامیوں کی نشاندہی بھی کی۔ انہوں نے مغرب کی سائنسی ترقی اور تنظیمی صلاحیت کی تعریف کی، مگر اس کے مادّہ پرستانہ رویے پر تنقید کی۔ عصرِ حاضر کے لیے اقبال کا پیغام یہ ہے کہ ہم مغرب کی ترقی سے سیکھیں، مگر اپنی روحانی اور اخلاقی اقدار کو نہ چھوڑیں۔
اقبال کے نزدیک ایک صحت مند معاشرہ وہی ہے جہاں انصاف، مساوات اور اخوت کو فروغ دیا جائے۔ عصرِ حاضر میں جب معاشرتی ناہمواری، طبقاتی تقسیم اور خود غرضی بڑھ رہی ہے، اقبال کی فکر ایک مثالی سماجی نظام کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ فرد کی ترقی کا تعلق قوم کی ترقی سے جڑا ہوا ہے، اور ایک مضبوط معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب اس کے افراد باشعور، باکردار اور باعمل ہوں۔
یوں اقبال کی فکر ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات پیش کرتی ہے جو عصرِ حاضر کے تمام مسائل کا حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی مؤثر ہے جتنا ان کے اپنے زمانے میں تھا، بلکہ آج اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم واقعی عصرِ حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فکر اقبال کو سمجھنا، اسے اپنی زندگی میں جذب کرنا اور اسے عملی صورت دینا ہوگا، یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو زوال سے نکال کر عروج اور کمال کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ 
Dr Saif Wallahray
About the Author: Dr Saif Wallahray Read More Articles by Dr Saif Wallahray: 48 Articles with 17468 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.