ہر کمانے والا مرد کفیل نہیں ہوتا
(رعنا تبسم پاشا, Dallas, USA)
ہمارے معاشرے میں ایسے مردوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی منکوحہ کے نہ تو قوام ہیں نہ کفیل نہ نگران نہ ان کے محافظ ۔ تو کیا یہ سارے مرد کام چور نکمے نکھٹو ہیں یا بیروزگار یا معذور؟ بالکل بھی نہیں ۔ ضروری نہیں ہے کہ جو مرد کسب معاش نہیں کرتا تو وہ ہی اپنی عورت کا کفیل نہیں ہوتا ۔ بہت سارے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو برسر روزگار ہوتے ہیں کوئی کام کاروبار کرتے ہیں یا بیرون ملک اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں اپنے پورے خاندان کو پالتے ہیں مگر نکاح میں آئی ہوئی عورت کی نہ تو جذباتی کفالت کرنے کے لائق ہوتے ہیں اور نہ ہی مالی معاونت ۔ سب سے زیادہ کمانے والے مرد ہی کی منکوحہ مالی تنگدستی اور کسمپرسی کا شکار ہوتی ہے ۔ کتنی ہی لڑکیاں شادی کے بعد بھی اپنے والدین کی ہی ذمہ داری پر ہوتی ہیں ان کی ضروریات ان کے میکے والے پوری کرتے ہیں ۔ اور ایسے ہر المیے کے پیچھے ایک خود غرض بے حس بے ضمیر جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتا ہے سسرالی سیاست ہوتی ہے جس میں ایک عقل سے بے دخل پردیسی بکرا دو لاکھ روپے گھر پر بھیج کر کہتا ہے کہ ان میں سے دس ہزار میری بیوی کو دے دو تو ایک ہنگامہ مچ جاتا ہے ۔ فون پر ہی اسے بے نقط سنائی جاتی ہیں کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے نہیں شادی کو اور تمہیں اپنی بیوی کی فکر پڑ گئی ہے ہماری تو کوئی پروا ہی نہیں ۔ بہو کو بیٹے کے بغیر اپنی باندی بنا کر رکھنے والے نابغوں کو گوارا ہی نہیں ہوتا کہ شوہر کی زندگی ہی میں بیوہ ہو جانے والی کسی نصیبوں جلی کی کم از کم مالی حد تک ہی اشک شوئی ہو جائے ۔ نئی نویلی دلہنوں کو اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر کئی کئی سال کے لئے واپس لوٹ جانے والے پردیسیوں کو اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر کسی کے دل میں اپنی سگی اولاد کے لئے رحم نہ ہو تو کیا پرائی اولاد کے لئے ہو گا؟ ان کو لاکھ سمجھا لو کہ بیوی کو خرچ کے پیسے بالکل الگ سے بھیجو اپنے ماں باپ کے ہاتھوں کسی بھیک کی طرح نہ دلواؤ اور اپنی ساری کمائی گھر پر نہ بھیجو کچھ اپنے پاس بھی محفوظ رکھو مگر مجال ہے جو ان کے کانوں پر جوں بھی رینگ جائے ۔ بر صغیری سماج میں ایسی بیواؤں کی بھی کمی نہیں ہے جن کے نام نہاد شوہر زندہ ہیں خوب کماتے بھی ہیں مگر نکاح میں آئی ہوئی عورت کی کفالت جیسے منصب سے محروم ہیں بیویاں ان کے میکے میں بٹھا رکھی ہیں اور ان کی کمائی ماں بہنیں کھا رہی ہیں ۔ خود اپنے بچے یتیموں کی طرح پل رہے ہیں اور یہ اپنے ارمان پرائی اولادوں پر نکال رہے ہیں ۔ جو مرد اپنے والدین کے حد سے زیادہ فرمانبردار ہوتے ہیں اور بہن بھائیوں کی خاطر ہر قربانی و ایثار کے جذبے سے سرشار ، تو عموماً ایک بزدل اور ناکام شوہر ہوتے ہیں ۔ خود اپنی فیملی کبھی بھی ان کی پہلی ترجیح نہیں ہوتی ، ضروری ہونے پر بھی نہ تو اپنی بیوی کو سپورٹ کرتے ہیں نہ اس کے لئے سٹینڈ لیتے ہیں ۔ اور اسی کشمکش میں نوبت یہاں تک آن پہنچے کہ بیوی بچوں سمیت اپنے میکے جا پہنچے تو ان کے پورے پریوار کی گویا لاٹری لگ جاتی ہے ۔ بیشمار ایسے مرد ہیں جن کی بیویاں جاب کرتی ہیں تو گھر کے خرچے ان کے ذمہ لگا رکھے ہیں ۔ ان کی کفالت تو رہی ایک طرف الٹا اُن کی پوری تنخواہ اِن کے کنٹرول میں ۔ خود کمانے والی بیوی کو بھکارن بنا کر رکھنے والے مرد کیا قوام کہلانے کے مستحق ہیں؟ ایک اور عام شکایت کہ کچھ لوگ بیوی کو جیب خرچ بالکل نہیں دیتے کہ ساری ضرورتیں تو پوری کر رہا ہوں تو کیش کی کیا ضرورت؟ کیوں نہیں ضرورت؟ اگر اس کی پرائیویسی کی آپ کو بالکل بھی پروا نہیں اور اپنی منطق ہی عزیز ہے تو دل اور ظرف کو تھوڑا بڑا کریں جو کماتے ہیں اس کا صرف ڈھائی فیصد اس مسکین کے لئے مختص کریں تاکہ ایک کفیل کی تعریف و تشریح میں باقی رہ جانے والی کمی کسر پوری ہو جائے ۔
✍🏻 رعنا تبسم پاشا
|
|