چیختی خاموشی
(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)
|
چیختی خاموشی تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان (محقق، مصنف، کالم نگار) ۔۔۔۔۔ گھر کے شور میں ایک آواز ایسی بھی ہوتی ہے جو کبھی کسی کو سنائی نہیں دیتی؛ یہ وہ آواز ہے جو بولتی نہیں، صرف برداشت کرتی ہے۔ یہ آواز کسی کمزور انسان کی نہیں، ایک مرد کی ہوتی ہے۔۔۔وہ مرد جسے بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ آنسو اس کی شان کے خلاف ہیں، شکایت اس کی مردانگی کو کم کر دیتی ہے، اور خاموشی ہی اس کی اصل طاقت ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہی خاموشی آہستہ آہستہ اس کے اندر ایک طوفان بن جاتی ہے۔ شادی کے بعد اس کی زندگی ایک عجیب توازن کا امتحان بن جاتی ہے۔ ایک طرف وہ ماں باپ ہوتے ہیں جن کی دعاؤں میں اس کی دنیا بسی ہوتی ہے، اور دوسری طرف وہ بیوی ہوتی ہے جس کے ساتھ اس نے ایک نئی زندگی کا وعدہ کیا ہوتا ہے۔ مگر یہ دونوں کنارے اکثر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں اور درمیان میں کھڑا مرد آہستہ آہستہ "پیسنے" لگتا ہے۔ ماں باپ کو لگتا ہے کہ وہ بیوی کے زیرِ اثر ہے، بیوی کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ والدین کے تابع ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ خود کہاں کھڑا ہے، کیا محسوس کر رہا ہے، کس کشمکش سے گزر رہا ہے۔ اور پھر ایک اور تلخ حقیقت یہ کہ عورت جب روزمرہ کی تھکن، ذمہ داریوں اور ذہنی بوجھ سے اکتا جاتی ہے تو اس کے پاس ایک پناہ گاہ ہوتی ہے؛ وہ اپنے میکے چلی جاتی ہے، چند دن سکھ کا سانس لیتی ہے، خود کو سنبھالتی ہے اور "تازہ دم" ہو جاتی ہے۔ مگر مرد؟ جب وہ تھک جائے تو کہاں جائے؟ اس کے لیے نہ کوئی میکا ہوتا ہے، نہ کوئی گوشۂ عافیت۔ اسے تو بچپن سے یہی سکھایا گیا تھا: "مرد روتے نہیں۔۔۔" "مضبوط بنو۔۔۔" "تم گھر کے سہارا ہو۔۔۔" یوں وہ بڑا تو ہو جاتا ہے، مگر اپنے جذبات کے ساتھ جینا نہیں سیکھ پاتا۔ وہ درد کو محسوس کرتا ہے، مگر بیان نہیں کر پاتا۔ وہ تھکتا ہے، مگر رک نہیں سکتا۔ مرد ایک ایسے درخت کی مانند ہے جو سایہ تو سب کو دیتا ہے، مگر اپنی جڑوں کی پیاس کبھی کسی کو نہیں بتاتا۔ لوگ اس کے سائے میں سکون پاتے ہیں، مگر اس کے اندر چلنے والی خاموش دراڑوں کو کوئی نہیں دیکھتا۔ جب وہ جھکنے یا بیٹھنے لگے تو کہا جاتا ہے کہ کمزور ہو گیا ہے، مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس نے کتنی آندھیاں جھیل لی ہیں۔ وہ اپنے دکھ کسی سے کیوں نہیں کہتا؟ دوستوں سے کہے تو مذاق بننے کا خوف، بیوی سے کہے تو اپنی حیثیت کمزور پڑ جانے کا اندیشہ، گھر والوں سے بات کرے تو "کیسا مرد ہے؟" کا طعنہ۔ یوں وہ اپنے ہی درد کا قیدی بن جاتا ہے۔ مرد کی خاموشی دراصل ایک چیخ ہوتی ہے؛ ایسی چیخ جو لفظوں میں نہیں ڈھلتی، مگر دل کے اندر گونجتی رہتی ہے۔ وہ ہنستا ہے، بات کرتا ہے، ذمہ داریاں نبھاتا ہے، مگر اس کے اندر کہیں ایک کمرہ ایسا ہوتا ہے جہاں وہ اکیلا بیٹھا ہوتا ہے، ٹوٹتا ہوا، بکھرتا ہوا۔ اگر زندگی کو ایک پل کہا جائے تو مرد وہ ستون ہوتا ہے جو دونوں طرف کا وزن اٹھاتا ہے۔ سب اس پل سے گزرتے ہیں، اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ یہ ستون اندر سے کتنا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔ جب یہ کمزور پڑے تو شور مچتا ہے، مگر اس کے درد کا حساب کوئی نہیں رکھتا۔ یہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے۔ ہم نے مرد کو طاقت کا استعارہ بنا دیا ہے، مگر اسے انسان ہونا بھلا دیا ہے۔ ہم اس سے سب کچھ چاہتے ہیں؛ حوصلہ، برداشت، قربانی، مگر اسے یہ حق نہیں دیتے کہ وہ کہہ سکے: "میں بھی تھک گیا ہوں۔" حقیقت یہ ہے کہ ایک ٹوٹا ہوا مرد صرف خود نہیں ٹوٹتا، وہ اپنے ساتھ کئی رشتوں کی بنیاد بھی ہلا دیتا ہے۔ اور ایک سنبھلا ہوا مرد صرف خود نہیں سنبھلتا، وہ پورے گھر کو سنبھال لیتا ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مرد سے صرف مضبوط ہونے کی توقع نہ رکھیں، بلکہ اسے سہارا دینے کا ہنر بھی سیکھیں۔ کیونکہ وہ انسان جو سب کے لیے کھڑا رہتا ہے، کبھی کبھی خود بھی کسی کے کندھے کا محتاج ہوتا ہے۔۔۔۔اور اگر اسے یہ سہارا نہ ملا، تو وہ گرے گا نہیں بلکہ خاموشی سے بکھر جائے گا۔ |
|