چین میں ماحولیاتی تحفظ کا نیا مرحلہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں ماحولیاتی تحفظ کا نیا مرحلہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی آج کے دور کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہیں، جہاں ممالک کو معاشی ترقی اور ماحول کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ چین نے اس حوالے سے حالیہ برسوں میں ایک جامع حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت جدید قانون سازی، سائنسی اقدامات اور مقامی سطح پر عملی منصوبوں کے ذریعے ایک ایسے ترقیاتی ماڈل کو فروغ دیا جا رہا ہے جو انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنائے۔ موجودہ سال میں اس سلسلے میں متعدد اہم اقدامات سامنے آئے ہیں جو اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترقی کا عمل ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔
چین نے ماحولیاتی تحفظ کے قانونی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے، جس میں نیا ماحولیاتی ضابطہ، قومی پارکس سے متعلق قانون اور قدرتی محفوظ علاقوں کے ضوابط میں ترمیم شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ماحول کے تحفظ کو ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرنا اور ترقیاتی سرگرمیوں کو ایک منظم اور پائیدار سمت دینا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی معیار کے سخت معیارات کا نفاذ بھی شروع کیا گیا ہے، جبکہ آلودگی کے خاتمے، چھوٹے آبی ذخائر کی صفائی اور زرعی زمین میں بھاری دھاتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
چینی پالیسی سازوں کے مطابق “خوبصورت چین” کی تعمیر ایک طویل المدتی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس تصور کے تحت قلیل مدتی فوائد کے بجائے پائیدار ترقی کو ترجیح دی جا رہی ہے، تاکہ قدرتی وسائل کا دانشمندانہ استعمال ممکن ہو سکے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔ قومی سطح کے اقدامات کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں میں بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے منفرد منصوبے جاری ہیں۔ جیانگ سو صوبے میں ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو صوبے اور اس کے مختلف علاقوں کی حقیقی وقت میں سہ جہتی نگرانی فراہم کرتا ہے، جس سے ماحولیاتی مسائل کی بروقت نشاندہی اور حل ممکن ہو رہا ہے۔ اسی طرح جیانگ شی اور زے چیانگ میں متروک کانوں اور سمندری ماحولیاتی نظام کی بحالی کے منصوبے تیزی سے جاری ہیں، جو قدرتی وسائل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
چین کا “شان شوئی انیشی ایٹو” بھی اس سلسلے میں ایک اہم قومی منصوبہ ہے، جس کے تحت پہاڑوں، جنگلات، چراگاہوں اور آبی وسائل سمیت قدرتی علاقوں کی بحالی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے مختلف صوبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ قدرتی نظام کی بحالی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ اسی طرح اہم ماحولیاتی زونز اور حفاظتی پٹیوں کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
صنعتی شعبے میں بھی ماحول دوست اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ سیمنٹ اور کوکنگ صنعتوں میں انتہائی کم اخراج کے معیارات نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ زیرو کاربن صنعتی پارکس اور فیکٹریوں کے قیام کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔ کاربن اخراج کی تجارت کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور رضاکارانہ کاربن کمی کے منصوبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
ان اقدامات کے مثبت نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر شی لیاؤ دریا، جو طویل عرصے سے خشک سالی کا شکار تھا، میں مسلسل دوسرے سال پانی کی روانی بحال ہوئی ہے، جو ماحولیاتی بحالی کی ایک اہم علامت ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق بعض علاقوں میں پانی کا پھیلاؤ نمایاں طور پر بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی واپسی اور دیگر حیاتیاتی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے حوالے سے بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ نایاب مچھلیوں اور پرندوں کی افزائش نسل میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جبکہ پانڈا، کریسٹڈ آئبس اور دیگر نایاب جانداروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مؤثر پالیسیوں اور عملی اقدامات کے ذریعے قدرتی حیات کا تحفظ ممکن ہے۔
صارفین کے شعبے میں بھی ماحول دوست رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ توانائی بچانے والے گھریلو آلات کی خریداری کے لیے سبسڈی پروگرام کو بہتر بنایا گیا ہے، جبکہ برقی گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا قومی منصوبہ تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ برسوں میں لاکھوں چارجنگ سہولیات قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
وسیع تناظر میں چین میں ماحولیاتی تحفظ اور سبز ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترقی اور ماحولیات کو ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مضبوط قانون سازی، جدید ٹیکنالوجی، مقامی سطح کے منصوبے اور عوامی شمولیت کے ذریعے ایک ایسا ماڈل تشکیل دیا جا رہا ہے جو نہ صرف موجودہ مسائل کا حل پیش کرتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک پائیدار اور متوازن مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ |
|