سننے کی صلاحیت کیسے بہتر بنائیں ؟
(Dr-Muhammad Saleem Afaqi, Peshawar)
تحریر ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی
سننے کی صلاحیت کیسے بہتر بنائیں؟
سننا ایک فن ہے، سادہ بھی اور گہرا بھی۔ ہم روز سنتے ہیں مگر کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ واقعی سن پاتے ہیں۔ شور کے اس زمانے میں کان تو کھلے ہوتے ہیں مگر دل اکثر بند رہتے ہیں۔ الفاظ آتے ہیں، ٹکراتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، معنی ٹھہر نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ باتیں بڑھتی ہیں مگر سمجھ کم ہوتی ہے، رشتے قائم رہتے ہیں مگر مضبوط نہیں ہو پاتے۔ اگر ہم سننے کا سلیقہ سیکھ لیں تو زندگی کے کئی بکھرے دھاگے خود بخود جڑنے لگتے ہیں۔
سننے کی بہتری کا آغاز نیت سے ہوتا ہے۔ جب دل میں یہ ارادہ ہو کہ میں سمجھنے کے لیے سنوں گا، نہ کہ صرف جواب دینے کے لیے، تو گفتگو کا رنگ بدلنے لگتا ہے۔ لہجہ نرم پڑتا ہے، آنکھوں میں ٹھہراؤ آتا ہے اور سامنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی بات کی قدر کی جا رہی ہے۔ یہی احساس اس کے الفاظ کو روانی دیتا ہے اور آپ کی سماعت کو گہرائی۔
پھر آتی ہے توجہ، مکمل اور بے خلل توجہ۔ جب ہم بات سنتے ہوئے موبائل ایک طرف رکھ دیتے ہیں، ذہن کو منتشر ہونے سے بچاتے ہیں اور اپنی پوری موجودگی اس لمحے میں لے آتے ہیں، تو بات صرف سنی نہیں جاتی بلکہ محسوس بھی کی جاتی ہے۔ آواز کا اتار چڑھاؤ، جملوں کے درمیان ٹھہراؤ، اور لہجے کی نمی—یہ سب پیغام کا حصہ بن جاتے ہیں، اور ایک اچھا سامع ان سب کو سمیٹ لیتا ہے۔
سننے کے عمل میں صبر کی اہمیت بھی کم نہیں۔ ہر بات کو اپنے وقت پر مکمل ہونے دینا ضروری ہے۔ درمیان میں ٹوک دینا یا جلدی نتیجہ اخذ کر لینا گفتگو کی لڑی توڑ دیتا ہے۔ جب ہم تحمل سے سنتے ہیں تو سامنے والے کو اپنی بات کہنے کا پورا موقع ملتا ہے، اور یہی موقع اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ جہاں اعتماد ہو، وہاں گفتگو بامعنی ہو جاتی ہے۔
اسی طرح مناسب سوال سننے کے عمل کو مزید مؤثر بناتے ہیں۔ نرم لہجے میں، درست وقت پر کیے گئے سوال نہ صرف وضاحت پیدا کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ آپ واقعی متوجہ ہیں۔ “کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں؟” یا “میں یوں سمجھا، کیا یہ درست ہے؟” جیسے جملے غلط فہمیوں کے دروازے بند اور سمجھ کے دریچے کھول دیتے ہیں۔
ایک اہم پہلو اپنی رائے کو قابو میں رکھنا بھی ہے۔ ہر بات پر فوراً تبصرہ کرنا یا مشورہ دینا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات صرف خاموشی سے سن لینا ہی سب سے بڑی مدد ہوتی ہے۔ جب ہم جلدی میں بول پڑتے ہیں تو اکثر اصل بات پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ پہلے پوری بات کو جذب کیا جائے، پھر اگر ضرورت ہو تو الفاظ کا انتخاب کیا جائے۔
باڈی لینگویج بھی سننے کے فن کا حصہ ہے۔ ہلکا سا سر ہلانا، آنکھوں میں توجہ رکھنا، اور چہرے پر مناسب تاثرات دینا—یہ سب غیر لفظی اشارے ہیں جو سامنے والے کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں۔ یہ خاموش زبان اکثر الفاظ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
آخر میں خود احتسابی ضروری ہے۔ دن کے اختتام پر اگر ہم یہ سوچ لیں کہ آج ہم نے کیسا سنا، کہاں بہتری کی گنجائش ہے، تو آہستہ آہستہ یہ عمل ہماری عادت بن جاتا ہے۔ اور جب سننا عادت بن جائے تو شخصیت میں نکھار خود بخود آ جاتا ہے۔ یوں سننے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے تو رشتے گہرے ہوتے ہیں، فاصلے کم ہوتے ہیں اور دل قریب آتے ہیں۔ کم بولنے اور زیادہ سننے کا ہنر زندگی کو سکون دیتا ہے۔ جب ہم واقعی سننا سیکھ لیتے ہیں تو نہ صرف دوسروں کو بہتر سمجھتے ہیں بلکہ اپنے اندر کی آواز بھی صاف سنائی دینے لگتی ہے، اور یہی اصل کامیابی ہے۔ |
|