بچوں میں سچ بولنے کی عادت کیسے ڈالیں ؟

تحریر ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی

بچوں میں سچ بولنے کی عادت کیسے ڈالیں ؟

بچوں کی تربیت میں سچ بولنے کی عادت ڈالنا ایک نہایت نازک مگر بنیادی مرحلہ ہے۔ یہ عادت صرف نصیحتوں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ ماحول، رویّوں اور عملی مثالوں سے دل میں اترتی ہے۔ بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے اپنے والدین کے اندازِ گفتگو اور طرزِ عمل کو دیکھتا ہے۔ اگر گھر میں سچائی کو وقار حاصل ہو، وعدے پورے کیے جائیں اور بات میں دیانت ہو تو بچہ آہستہ آہستہ سچ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر معمولی فائدے کے لیے بھی جھوٹ بولا جائے، بہانے بنائے جائیں اور حقیقت کو چھپایا جائے تو بچہ یہی سمجھتا ہے کہ جھوٹ ایک قابلِ قبول راستہ ہے۔ یوں سچ اور جھوٹ کی بنیاد گھر ہی سے رکھی جاتی ہے، ایک راستہ اعتماد اور روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا بے اعتمادی اور اندھیرے کی طرف۔

قرآن و سنت کی تعلیمات بھی بچوں کے دلوں میں سچائی کا بیج بونے میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ جب بچے کو یہ بتایا جائے کہ سچ بولنا اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے اور جھوٹ اللہ کی ناراضی کا باعث بنتا ہے تو اس کے اندر ایک اندرونی احساس بیدار ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سچ کو نیکی اور جنت کا راستہ قرار دیا، جبکہ جھوٹ کو برائی اور ہلاکت کی علامت بتایا۔ اگر ان تعلیمات کو کہانیوں، واقعات اور روزمرہ مثالوں کے ذریعے بچوں کے سامنے رکھا جائے تو وہ سچ کو صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک روشن راستہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی کے مقابلے میں جھوٹ ایک وقتی سہارا تو محسوس ہوتا ہے مگر جلد ہی یہ خوف، شرمندگی اور الجھن کو جنم دیتا ہے۔

بچوں کی صحبت بھی ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سچے اور دیانت دار بچوں کے ساتھ رہنے والا بچہ خود بھی سچائی کی طرف راغب ہوتا ہے کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ سچ بولنے والے کو عزت اور اعتماد ملتا ہے۔ دوسری طرف اگر صحبت میں جھوٹ، بہانے اور فریب عام ہوں تو بچہ بھی اسی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ یوں ایک طرف سچ کی صحبت دل کو مضبوط اور مطمئن بناتی ہے جبکہ جھوٹ کی صحبت دل میں کھوٹ اور بےچینی پیدا کرتی ہے۔ اس لیے والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے ماحول اور دوستوں پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت صحبت فراہم کریں۔

یہاں استادِ محترم کا کردار ایک روشن چراغ کی طرح سامنے آتا ہے۔ استاد صرف کتابیں پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار بنانے والا معمار ہوتا ہے۔ جب استاد کلاس میں سچائی کو اہمیت دیتا ہے، نقل اور دھوکہ دہی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور خود اپنے قول و فعل میں سچائی کا نمونہ پیش کرتا ہے تو طلبہ پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر کوئی بچہ غلطی کا اعتراف کر لے تو استاد اسے ذلیل کرنے کے بجائے اس کی سچائی کی قدر کرے، اس کی رہنمائی کرے اور اعتماد دے۔ اس کے برعکس اگر استاد سختی یا تحقیر سے کام لے تو بچہ سچ چھپانے لگتا ہے اور جھوٹ اس کے لیے آسان راستہ بن جاتا ہے۔ یوں ایک سچا استاد بچوں کے دلوں میں سچ کی شمع روشن کرتا ہے جبکہ غفلت یا بے توجہی اس شمع کو مدھم کر سکتی ہے۔

والدین اور استاد جب ایک ہی پیغام دیں تو تربیت کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اگر گھر اور سکول دونوں جگہ سچ کی قدر ہو تو بچہ اس کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتا ہے۔ لیکن اگر گھر میں سچ کی تعلیم دی جائے اور سکول میں اس کے برعکس رویہ نظر آئے، یا اس کے الٹ ہو، تو بچہ کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ادارے ہم آہنگ ہو کر بچے کی رہنمائی کریں۔

تعلیمی اور گھریلو سرگرمیاں بھی اس عادت کو پختہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جب بچوں کو سچ کے موضوع پر مضامین لکھوائے جائیں، تقاریر کروائی جائیں اور ان سے سوال و جواب کی نشست رکھی جائے تو وہ سچ کی اہمیت پر غور کرنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سچ بولنا کیوں ضروری ہے اور جھوٹ کے کیا نقصانات ہیں۔ ایسی نشستوں میں جب بچے اپنی بات کھل کر بیان کرتے ہیں تو ان کے اندر سچ بولنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ جھوٹ کے بارے میں ان کے ذہن میں ایک فاصلہ پیدا ہونے لگتا ہے۔

سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بچے کو سچ بولنے پر سراہا جائے۔ اگر بچہ کسی غلطی کے باوجود سچ بول دے تو اسے ڈانٹنے کے بجائے اس کی سچائی کی تعریف کی جائے، تاکہ وہ آئندہ بھی سچ بولنے کی ہمت کرے۔ اس کے برعکس اگر سچ بولنے پر بھی سزا دی جائے تو بچہ ڈر کر جھوٹ کا سہارا لینے لگتا ہے۔ یوں سچ حوصلہ افزائی سے پروان چڑھتا ہے اور جھوٹ خوف کے سائے میں پلتا ہے۔

آخرکار یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سچ اور جھوٹ دو متضاد راستے ہیں۔ سچ انسان کو سکون، اعتماد اور عزت دیتا ہے، جبکہ جھوٹ وقتی فائدہ دے کر بھی دل میں بےچینی، خوف اور بےاعتمادی پیدا کرتا ہے۔ بچوں کے دل نرم مٹی کی طرح ہوتے ہیں، جسے جس سانچے میں ڈالا جائے وہ ویسا ہی ڈھل جاتے ہیں۔ اگر اس مٹی کو سچائی کے پانی سے سینچا جائے تو ایک مضبوط اور باکردار شخصیت پروان چڑھتی ہے، اور اگر اسے جھوٹ کی آلودگی میں چھوڑ دیا جائے تو شخصیت کمزور اور غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم، والدین اور اساتذہ مل کر، اپنے بچوں کو سچ کی روشنی دکھائیں، خود اس پر عمل کریں اور انہیں ایسا ماحول دیں جہاں سچ بولنا آسان اور جھوٹ بولنا مشکل محسوس ہو۔ 
Dr-Muhammad Saleem Afaqi
About the Author: Dr-Muhammad Saleem Afaqi Read More Articles by Dr-Muhammad Saleem Afaqi: 63 Articles with 66264 views
Dr. Muhammad Saleem Afaqi is a prominent columnist and scholar from Nasar Pur, GT Road, Peshawar. He earned his Ph.D. in Education from Sarhad Unive
.. View More