چین میں بزرگوں کی تعلیم کا نیا رجحان

چین میں بزرگوں کی تعلیم کا نیا رجحان
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے ساتھ ساتھ بزرگ افراد کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ روایتی طور پر بڑھاپے کو آرام، محدود سرگرمیوں اور انحصار سے جوڑا جاتا رہا ہے، تاہم جدید معاشروں میں یہ تصور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین میں بھی بزرگ افراد اب صرف دیکھ بھال تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ اپنی زندگی کے اس مرحلے کو سیکھنے، سرگرم رہنے اور خود کو منوانے کے ایک نئے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسی تبدیلی نے ملک میں بزرگوں کی تعلیم کے شعبے کو ایک نئی جہت دی ہے، جہاں سیکھنے کا عمل عمر کی قید سے آزاد ہو کر ایک سماجی اور معاشی رجحان بنتا جا رہا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق چین میں بزرگ افراد کی ایک بڑی تعداد اب محض “دیکھ بھال” کے بجائے “بامقصد زندگی” اور “ذاتی تکمیل” کی خواہش رکھتی ہے۔ خاص طور پر وہ نسل جو 1960 کی دہائی میں پیدا ہوئی، اب اپنی بہتر مالی حالت اور تعلیمی پس منظر کے باعث زندگی کے معیار کو بلند کرنے اور نئی مہارتیں حاصل کرنے کی جانب مائل ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں بزرگوں کے لیے قائم جامعات اور تعلیمی ادارے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں بزرگ افراد ملک بھر میں قائم ہزاروں بزرگ جامعات میں داخلہ لے چکے ہیں، جو اس بڑھتی ہوئی طلب کا واضح ثبوت ہے۔ یہ ادارے بزرگوں کے لیے تعلیم جاری رکھنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں، کیونکہ روایتی جامعات میں داخلے کے سخت امتحانی نظام کے باعث بزرگ افراد کے لیے وہاں تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے چین میں قومی سطح پر بزرگوں کے لیے خصوصی جامعہ کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے تحت ملک بھر میں کمیونٹی سطح تک تعلیمی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

بزرگوں کی تعلیم کے اس نظام میں نہ صرف علمی ترقی بلکہ سماجی روابط کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں کے دوران افراد نئے دوست بناتے ہیں، مشترکہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور ایک فعال سماجی زندگی گزارتے ہیں، جس سے ذہنی اور جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس طرح تعلیم کا یہ عمل محض علم حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تجربہ بن چکا ہے۔

تعلیمی نصاب کے حوالے سے بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ اگرچہ روایتی مضامین جیسے خطاطی، موسیقی اور رقص اب بھی مقبول ہیں، تاہم جدید تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل مہارتوں، نئی میڈیا ٹیکنالوجی اور روزگار سے متعلق تربیت کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بزرگ افراد کو بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا اور انہیں معاشی و سماجی طور پر فعال بنانا ہے۔ بعض اداروں نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل زندگی سے متعلق کورسز بھی متعارف کرائے ہیں، جو اس رجحان کی عکاسی کرتے ہیں کہ تعلیم کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔

تاہم اس بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود تعلیمی مواقع کی فراہمی میں ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں۔ خاص طور پر کم ترقی یافتہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات اور اساتذہ کی کمی کے باعث بزرگ افراد کے لیے تعلیم تک رسائی محدود ہے۔ اسی لیے حکومت کی جانب سے مختلف پالیسی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تعلیمی وسائل میں اضافہ کیا جا سکے اور نجی شعبے کو بھی اس میدان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے۔

چین میں بزرگوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ کئی تعلیمی ادارے فلاحی تنظیموں، سیاحتی کمپنیوں اور دیگر شعبوں کے ساتھ مل کر نئے ماڈلز متعارف کروا رہے ہیں، جن میں تعلیم، صحت، سیاحت اور تفریح کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن تعلیم کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے بزرگ افراد بھی تعلیمی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لاکھوں کورسز دستیاب ہیں، جن سے بڑی تعداد میں افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

تاہم آن لائن تعلیم کے حوالے سے بھی کچھ محدود نوعیت کے مسائل بھی موجود ہیں، جیسے کہ بعض عملی نوعیت کے مضامین کو ڈیجیٹل طریقے سے مکمل طور پر سکھانا مشکل ہوتا ہے، اور کچھ بزرگ افراد کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ایک چیلنج ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ روایتی اور ڈیجیٹل تعلیم کے امتزاج کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

مجموعی طور پر، چین میں بزرگوں کی تعلیم کا فروغ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ عمر کے آخری مرحلے کو بھی ترقی، سیکھنے اور خود کو منوانے کے ایک اہم موقع کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ حکومتی پالیسیوں، سماجی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جو بزرگ افراد کو فعال، خودمختار اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف فرد کی ذاتی ترقی بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور مجموعی خوشحالی کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1092996 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More