بچوں میں صبر کا مادہ کیسے پیدا کریں؟

تحریر: ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی

بچوں میں صبر و برداشت پیدا کرنا ایک تدریجی عمل ہے جو وقت، توجہ اور مسلسل رہنمائی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا آغاز گھر کے ماحول سے ہوتا ہے، جہاں بچے اپنے والدین اور بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں مشکل حالات میں تحمل، نرمی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جائے تو یہی رویہ بچوں میں بھی منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بڑے خود صبر کی عملی مثال بنیں تاکہ بچوں کی تربیت مؤثر انداز میں ہو سکے۔

بچوں کو ہر چیز فوری فراہم کرنے کی بجائے ان میں انتظار کی عادت پیدا کی جائے۔ چھوٹے چھوٹے مواقع فراہم کیے جائیں جہاں وہ سیکھیں کہ ہر خواہش فوراً پوری نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات کو سمجھنا اور انہیں یہ سکھانا بھی اہم ہے کہ غصہ، مایوسی یا بے چینی فطری چیزیں ہیں، مگر ان پر قابو پانا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب بچے اپنے جذبات کو پہچاننا اور سنبھالنا سیکھ جاتے ہیں تو ان میں برداشت خود بخود پیدا ہونے لگتی ہے۔

تربیت میں کہانیوں کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ انبیا کرام اور خصوصاً حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ طیبہ بچوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام نے طویل عرصہ دعوت دی اور صبر کیا، حضرت یوسف علیہ السلام نے قید و آزمائش میں صبر کا مظاہرہ کیا، اور حضرت ایوب علیہ السلام نے بیماری میں بے مثال صبر کیا۔ بچوں میں صبر اور برداشت کا مادہ پیدا کرنے کے لیے انہیں ایسے کاموں میں مشغول کرنا چاہیے جن میں محنت اور وقت درکار ہو، جیسے پزل حل کرنا یا کوئی تخلیقی سرگرمی مکمل کرنا، تاکہ وہ صبر کے ساتھ کام کرنے کے عادی بنیں۔

بچوں میں صبر پیدا کرنے کے لیے عملی تربیت بھی نہایت ضروری ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ کبھی کبھار بچوں کو نفلی روزے رکھنے کی ترغیب دی جائے، انہیں نماز کی پابندی کا عادی بنایا جائے، اور ان کے ہاتھوں صدقہ و خیرات کروائی جائے۔ اسی طرح غریب لوگوں کو کھانا کھلانے کی عملی مشق بھی کروائی جائے۔ یہ تمام عملی ذرائع بچے کے دل میں صبر، ہمدردی، برداشت اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرتے ہیں، جس سے ان کی شخصیت نہ صرف متوازن ہوتی ہے بلکہ مضبوط بھی بنتی ہے۔

جب بھی بچہ صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنا نہایت ضروری ہے۔ تعریف اور مثبت الفاظ بچے کے اندر اس خوبی کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ ساتھ ہی واضح حدود و قیود قائم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ بچے یہ سمجھ سکیں کہ زندگی میں نظم و ضبط اور انتظار کی کیا اہمیت ہے۔ گروپ کی سرگرمیاں اور ایسے کھیل جن میں باری کا انتظار کرنا پڑے، بچوں کو عملی طور پر برداشت اور تعاون سکھاتے ہیں۔
بچوں میں صبر و برداشت پیدا کرنے کے لیے محبت بھرا ماحول، عملی نمونہ، جذباتی رہنمائی اور مثبت تربیت بنیادی عناصر ہیں۔ جب یہ تمام چیزیں یکجا ہو جائیں تو بچہ نہ صرف صابر بنتا ہے بلکہ ایک متوازن، باکردار اور مضبوط شخصیت کا مالک بھی بن جاتا ہے۔
 
Dr-Muhammad Saleem Afaqi
About the Author: Dr-Muhammad Saleem Afaqi Read More Articles by Dr-Muhammad Saleem Afaqi: 69 Articles with 69181 views
Dr. Muhammad Saleem Afaqi is a prominent columnist and scholar from Nasar Pur, GT Road, Peshawar. He earned his Ph.D. in Education from Sarhad Unive
.. View More