مؤثر طریقہ تدریس
(Dr-Muhammad Saleem Afaqi, Peshawar)
تحریر: ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی
مؤثر طریقہ تدریس
تعلیم صرف کتابوں کے اسباق یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ انسان کے اندر سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اسی کے ساتھ تعلیم کے انداز بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ آج ترقی یافتہ ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بچے محض رٹہ نہ لگائیں بلکہ خود سیکھنے کے عمل میں شریک ہوں۔ اسی جدید تعلیمی تصور کو “ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ” کہا جاتا ہے، جو موجودہ دور میں کامیاب تدریس کی علامت بن چکا ہے۔
ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ دراصل ایسا طریقۂ تعلیم ہے جس میں بچوں کو عملی سرگرمیوں، تجربات، مشاہدات، سوال و جواب، گروپ ورک اور تخلیقی مشقوں کے ذریعے سکھایا جاتا ہے۔ اس طریقے میں طالب علم محض سننے والا نہیں رہتا بلکہ وہ خود سیکھنے کے سفر کا حصہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اندازِ تعلیم بچوں کی دلچسپی کو بڑھاتا، ان کے ذہن کو متحرک کرتا اور سیکھنے کے عمل کو دیرپا بناتا ہے۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی نظام اس کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے، جہاں بچوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے بجائے عملی سرگرمیوں، تخلیقی سوچ اور مشاہدے پر زور دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جاپان میں بچوں کو نظم و ضبط کے ساتھ عملی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ زندگی کے مسائل کو خود حل کرنا سیکھیں۔ سنگاپور نے بھی جدید تدریسی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے تعلیمی معیار کو دنیا بھر میں ممتاز بنایا۔ جبکہ کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی کلاس روم کو محض لیکچر روم نہیں بلکہ عملی تربیت گاہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دنیا اب رٹنے کے بجائے سمجھنے اور عمل کرنے والی تعلیم کو ترجیح دے رہی ہے۔
یہاں ایک اہم فکری پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ اگر تعلیم صرف معلومات منتقل کرنے کا نام ہوتی تو کمپیوٹر اور کتابیں ہی کافی ہوتیں، لیکن انسان کی تربیت ایک زندہ عمل ہے۔ بچے اُس وقت بہتر سیکھتے ہیں جب ان کی سوچ کو حرکت ملتی ہے، سوال کرنے کی آزادی ملتی ہے اور انہیں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ دراصل ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ بچے کو محض “سبق یاد کرنے والا” نہیں بلکہ “سوچنے والا انسان” بناتی ہے، اور یہی کسی بھی مہذب قوم کی اصل ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ بچے تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے یا جلد اکتا جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ خشک اور یک طرفہ تدریس بھی ہے۔ جب استاد صرف بولتا رہے اور بچہ خاموش سننے والا بن جائے تو تعلیم بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ لیکن جب سبق کو کھیل، مکالمے، عملی مشق اور تخلیقی سرگرمیوں سے جوڑ دیا جائے تو کلاس روم زندہ ہو جاتا ہے اور بچے خوشی خوشی سیکھنے لگتے ہیں۔
ایکٹیویٹی بیسڈ لرننگ صرف تعلیمی بہتری تک محدود نہیں بلکہ یہ بچوں کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس سے اعتماد، تعاون، قیادت، برداشت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک کامیاب فرد اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔
بلاشبہ آج وہی قوم ترقی کر سکتی ہے جو اپنی نئی نسل کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دے۔ دنیا کے کامیاب ممالک نے یہ حقیقت سمجھ لی ہے کہ زندہ قومیں صرف کتابیں نہیں پڑھاتیں بلکہ غور و فکر کرنے والے مفید انسان تیار کرتی ہیں۔ اگر ہم بھی اپنے بچوں کو روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو محض رٹنے تک محدود رکھنے کی بجائے عملی سرگرمیوں، تخلیقی سوچ اور کردار سازی سے جوڑنا ہوگا۔ یہی جدید تعلیم کی روح اور ترقی کی اصل راہ ہے۔ |
|