اردو نام ہے تہذیب کا

تحریر: ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی
اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیب، ثقافت اور باہمی رواداری کی دلکش علامت ہے۔ اس زبان کی شیرینی، نفاست اور دل آویزی نے صدیوں سے انسانوں کے دل موہ لیے ہیں۔ اردو مختلف زبانوں کے امتزاج سے وجود میں آئی، لیکن وقت کے ساتھ اس نے اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔ عربی، فارسی، ترکی اور ہندی الفاظ کے خوبصورت ملاپ نے اردو کو ایسی دلنشیں زبان بنا دیا جس میں محبت کی خوشبو بھی ہے، ادب کی لطافت بھی، دانائی کی گہرائی بھی اور جذبات کی تاثیر بھی۔ یہی سبب ہے کہ اردو صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ احساسات و خیالات کے اظہار کا ایک باوقار وسیلہ سمجھی جاتی ہے۔
اردو زبان کی سب سے نمایاں خوبی اس کی شائستگی اور احترامِ انسانیت ہے۔ دنیا میں کم ہی ایسی زبانیں موجود ہوں گی جن میں مخاطب کے رتبے، عمر اور تعلق کے مطابق لہجہ اور الفاظ تبدیل ہو جاتے ہوں۔ اردو بولنے والا انسان غیر محسوس انداز میں ادب، اخلاق اور احترام کی روایات کو فروغ دیتا ہے۔ یہی زبان تھی جس نے میر، غالب، اقبال اور فیض جیسے عظیم شعرا پیدا کیے۔ ان نابغۂ روزگار شخصیات نے اردو کے ذریعے عشق، انسان دوستی، آزادی، خودی اور انقلاب کے ایسے پیغامات دیے جو آج بھی دلوں میں جوش اور حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اردو شاعری کی نزاکت اور نثر کی روانی نے اسے دنیا کی حسین ترین زبانوں میں نمایاں مقام عطا کیا ہے۔
بدقسمتی سے جدید دور میں اردو کو وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق ہے۔ تعلیمی اداروں میں انگریزی کو کامیابی اور ترقی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے جبکہ اردو کو محض ایک مضمون تک محدود کر دیا گیا ہے۔ والدین بھی بچوں کو انگریزی سکھانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن اردو پڑھنے اور لکھنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے اگرچہ اردو کے فروغ کے نئے دروازے کھولے ہیں، مگر غیر معیاری اور مختصر تحریروں نے زبان کے حسن کو کسی حد تک متاثر بھی کیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو اردو ادب سے قریب کیا جائے تاکہ وہ اپنی تہذیبی بنیادوں اور ثقافتی ورثے سے جڑی رہے۔
اردو ہماری قومی شناخت کا ایک اہم جزو ہے۔ جس قوم کی زبان مضبوط ہوتی ہے، اس کی تہذیب، ثقافت اور فکری شعور بھی زندہ رہتا ہے۔ جاپان، چین اور دیگر ترقی یافتہ اقوام نے اپنی قومی زبانوں کو اہمیت دے کر ترقی کی راہیں ہموار کیں۔ اگر ہم اپنی زبان سے دور ہو گئے تو اپنی تہذیب، تاریخ اور فکری سرمایہ سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ اردو صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ آنے والے وقتوں کی بھی اہم ضرورت ہے۔ اس زبان میں علم، ادب، تحقیق اور اظہار کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں جو نئی نسل کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں اردو بولنے، پڑھنے اور تحریر کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کتاب بینی کے رجحان کو فروغ دیا جائے اور بچوں کو اردو ادب کے شاہکاروں سے متعارف کرایا جائے۔ جب ہم اپنی زبان سے محبت کریں گے تو نئی نسل بھی اردو کو اپنی شناخت اور فخر کا ذریعہ سمجھے گی۔
اردو محبت، اخوت اور دلوں کو قریب لانے والی زبان ہے، اور یہی اس کی اصل قوت اور حسن ہے۔ 

 

Dr-Muhammad Saleem Afaqi
About the Author: Dr-Muhammad Saleem Afaqi Read More Articles by Dr-Muhammad Saleem Afaqi: 64 Articles with 68397 views
Dr. Muhammad Saleem Afaqi is a prominent columnist and scholar from Nasar Pur, GT Road, Peshawar. He earned his Ph.D. in Education from Sarhad Unive
.. View More