فن تقریر ۔۔۔۔۔ایک بہترین ہتھیار
(Dr-Muhammad Saleem Afaqi, Peshawar)
تحریر: ڈاکٹر محمد سلیم آفاقی
فنِ تقریر ایک ایسا ہنر ہے جو انسان کے خیالات، احساسات اور نظریات کو دوسروں تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ زبان و بیان کی خوبصورتی، الفاظ کا چناؤ، لہجے کی تاثیر اور اندازِ گفتگو کی دلکشی مل کر تقریر کو ایک طاقتور فن بناتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے انقلاب صرف تلوار کے زور پر نہیں بلکہ مؤثر خطابت کے ذریعے بھی برپا ہوئے۔ ایک اچھا مقرر اپنے الفاظ سے مردہ دلوں میں جان ڈال دیتا ہے، مایوس انسانوں کو امید دیتا ہے اور منتشر قوموں کو اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر تہذیب اور ہر دور میں خطابت کو ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔
فنِ تقریر محض بولنے کا نام نہیں بلکہ یہ سوچ، مطالعہ، اعتماد اور مشق کا حسین امتزاج ہے۔ ہر شخص بول سکتا ہے لیکن ہر شخص دلوں کو متاثر نہیں کر سکتا۔ ایک کامیاب مقرر وہی ہوتا ہے جو سامعین کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان کے دل میں اتر جائے۔ اس کے الفاظ میں سچائی، لہجے میں خلوص اور انداز میں وقار ہوتا ہے۔ اگر تقریر میں علم نہ ہو تو الفاظ کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں اور اگر جذبہ نہ ہو تو گفتگو بے روح بن جاتی ہے۔ اسی لیے ایک اچھے مقرر کے لیے وسیع مطالعہ اور گہری سوچ ناگزیر ہے۔
اسلامی تاریخ میں بھی خطابت کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی گفتگو نہایت مختصر مگر جامع اور دلنشیں ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کے الفاظ دلوں پر ایسا اثر ڈالتے تھے کہ لوگ زندگی بدلنے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔ خلفائے راشدین، صحابۂ کرامؓ اور بعد کے عظیم علما نے بھی خطابت کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کی۔ ان کی تقاریر میں حکمت، سچائی اور اخلاص کی وہ تاثیر تھی جو آج بھی تاریخ کے صفحات میں زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مؤثر تقریر صرف ذہنوں کو نہیں بلکہ کرداروں کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
موجودہ دور میں فنِ تقریر کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج سیاست، تعلیم، میڈیا، تدریس اور دعوت و تبلیغ ہر میدان میں کامیابی کے لیے مؤثر گفتگو ضروری سمجھی جاتی ہے۔ ایک استاد اگر اچھا مقرر ہو تو طلبہ اس کی بات دلچسپی سے سنتے ہیں۔ ایک رہنما اگر مؤثر انداز میں گفتگو کرے تو وہ عوام کے دل جیت لیتا ہے۔ اسی طرح ایک داعی یا عالم اگر نرم لہجے اور حکمت کے ساتھ بات کرے تو اس کی دعوت زیادہ اثر رکھتی ہے۔ جدید میڈیا نے خطابت کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے، جہاں اب ایک تقریر لمحوں میں دنیا بھر تک پہنچ جاتی ہے۔
فنِ تقریر سیکھنے کے لیے اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بہت سے لوگ علم ہونے کے باوجود مجمع کے سامنے گھبرا جاتے ہیں۔ اس خوف پر قابو پانے کے لیے مسلسل مشق ضروری ہے۔ ابتدا میں مختصر گفتگو، آئینے کے سامنے مشق اور چھوٹے اجتماعات میں اظہارِ خیال انسان کے اعتماد کو بڑھاتا ہے۔ ایک کامیاب مقرر اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ، چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کو بھی مناسب انداز میں استعمال کرتا ہے۔ وہ نہ بہت تیز بولتا ہے اور نہ بہت آہستہ بلکہ ایسا توازن اختیار کرتا ہے جو سامعین کو متوجہ رکھے۔
ایک اچھی تقریر میں شائستگی اور اخلاق بھی بے حد ضروری ہیں۔ سخت زبان، طنز اور تحقیر وقتی شور تو پیدا کر سکتے ہیں مگر دلوں میں احترام پیدا نہیں کرتے۔ بہترین مقرر وہی ہے جو اختلاف کے باوجود ادب اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور سیاسی ماحول نے گفتگو میں شدت اور تلخی کو عام کر دیا ہے، حالانکہ اصل خطابت وہ ہے جو نفرت نہیں بلکہ محبت پیدا کرے، تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کا پیغام دے۔
سچ تو یہ ہے کہ فنِ تقریر ایک عظیم نعمت اور مؤثر طاقت ہے۔ یہ انسان کو معاشرے میں عزت، اثر و رسوخ اور کامیابی عطا کرتا ہے۔ ایک اچھا مقرر صرف بولتا نہیں بلکہ دلوں کو جگاتا، ذہنوں کو روشن کرتا اور معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کرتا ہے۔ اگر نوجوان نسل مطالعہ، مشق اور اخلاق کو اپنا شعار بنا لے تو وہ اس فن میں مہارت حاصل کر کے قوم و ملت کی بہترین رہنمائی کر سکتی ہے۔ |
|