جامعہ کراچی کا مستقبل

اساتذہ کی جنگ اور طلبہ کا مستقبل:

ایک تلخ حقیقت
۔ طلبہ کے خیالات کا عکس آپ کی یہ بات بالکل درست ہے کہ اس صورتحال میں ہر طالب علم ایک الگ ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ کچھ طلبہ خوش ہیں کہ امتحانات ملتوی ہو گئے، کچھ کو کرونا کے دور کی طرح بنا محنت پروموشن کی امید ہے، جبکہ کچھ اس فکر میں ہیں کہ وہ اس بار سمسٹر بریک میں گھر نہیں جا سکیں گے۔ لیکن سب سے بڑی تلخ حقیقت یہ ہے کہ پیپر آج نہیں تو کل لازمی ہونے ہیں۔ جب یہ پیپر سمسٹر بریک میں ہوں گے، تو طلبہ کے لیے پوائنٹس (بسوں) کی سہولت نہیں ہوگی، اور انہیں اپنا ذاتی پیسہ خرچ کر کے ڈبل کرایہ دے کر آنا پڑے گا۔ یہ سارا بوجھ آخرِ کار کس پر پڑتا ہے؟ طلبہ اور ان کے والدین پر۔

۔ اختیار کی جنگ اور دوہرا معیار

آپ نے ایک انتہائی اہم نقطہ اٹھایا ہے۔ جب اساتذہ اپنے حق کی جنگ لڑتے ہیں، تو ان کی طاقت ثابت ہوتی ہے۔ وائس چانسلر (VC) صاحب فوراً وزیرِ اعلیٰ کو خط لکھ دیتے ہیں۔ لیکن جب یہی جنگ طلبہ لڑتے ہیں، تو ان کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ جب یونیورسٹی نے فیسوں میں اضافہ کیا اور طلبہ پریشان ہو کر ایڈمنسٹریشن بلاک گئے، تو ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا۔ وی سی صاحب اپنے اے سی والے کمرے میں بیٹھے رہے اور اساتذہ اپنی کلاسز لیتے رہے۔

۔ طلبہ کا بے یار و مددگار ہو جانا

اس احتجاج میں شامل طلبہ کے ذہن میں ایک الگ خوف ہوتا ہے—حاضری شارٹ ہونے کا خوف، اور اساتذہ کے ناراض ہونے کا ڈر۔ تمام اساتذہ جانتے ہیں کہ بچے اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن کبھی کسی ایک استاد نے بھی آگے بڑھ کر طلبہ کو بیک اپ سپورٹ نہیں دی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ "ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

"ابھی ما ضی ہی میں سیکیورٹی کے نام پر جو نیا تماشہ شروع کیا گیا تھا ، جہاں پوائنٹس کو گیٹ پر ہی روک دیا جاتا تھا ، اس سے طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ۔ کلاس شروع ہو جاتی ہے اور اساتذہ اندر نہیں آنے دیتے تھے۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں جہاں طلبہ اکیلے کھڑے رہے، پر انہیں کبھی اساتذہ کا ساتھ نصیب نہیں ہوا۔۔

فیسوں کا بوجھ اور والدین کی فکرآپ کی یہ بات آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ اساتذہ یونیورسٹی سے ملنے والی تنخواہ سے اپنے بچوں کو مہنگی پرائیویٹ یونیورسٹیز میں پڑھاتے ہیں۔ انہیں اپنے بچوں کے مستقبل اور پیسے کی فکر ہے، جو کہ ان کا حق ہے۔ مگر ہمارے والدین کس طرح فیسیں جمع کرتے ہیں، یہ کوئی نہیں سوچتا۔ جب یونیورسٹی ہر سال فیس بڑھانے کی پالیسی بناتی ہے، تو کیا کبھی کسی استاد نے مینجمنٹ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ غلط ہے؟ کیا انہوں نے کبھی طلبہ کا ساتھ دیا؟ بالکل نہیں۔۔


تنقید نہیں، ایک سوال

ا س پیغام کا مقصد کسی پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ ان اساتذہ کے سامنے ایک آئینہ رکھنا ہے جو آج طلبہ سے کہتے ہیں کہ "ہم آپ کے مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں، ہمارا ساتھ دیں۔" طلبہ ان سے پوچھتے ہیں کہ جب ہم اپنے حال اور مستقبل کی جنگ لڑتے ہیں، تو آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟

نتیجہ:آج نہیں تو کل، اساتذہ یونیورسٹی سے اپنی مانگیں منوا لیں گے اور اپنا حق لے لیں گے۔ لیکن اس پوری جنگ میں ہمیشہ کی طرح طلبہ پھر سے ہار جائیں گے اور ان کے حقوق پیچھے رہ جائیں گے 
Halima
About the Author: Halima Read More Articles by Halima : 7 Articles with 2219 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.