ڈیجیٹل ہجوم میں گم ہوتا انسان

ڈیجیٹل ہجوم میں گم ہوتا انسان
(تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان)
۔۔۔۔۔
کبھی کسی محفل میں بیٹھ کر آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ لوگ موجود تو ہیں، مگر کہیں کھوئے ہوئے بھی ہیں؟ سامنے چہروں کا ہجوم ہوتا ہے، مگر آنکھیں اسکرینوں میں الجھی ہوتی ہیں، گفتگو کے درمیان وقفے نہیں خاموشیاں ہوتی ہیں۔ یہ خاموشیاں صرف زبان کی نہیں، دلوں کی بھی ہوتی ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں رابطے بے شمار ہیں، مگر تعلق کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب کسی کی خیریت پوچھنا ایک عمل تھا، اب وہ محض ایک نوٹیفیکیشن بن کر رہ گیا ہے۔ ہم “کیسے ہو؟” لکھ دیتے ہیں، مگر جواب سننے کی فرصت نہیں رکھتے۔ یہ عجلت صرف وقت کی کمی نہیں، ترجیحات کی تبدیلی بھی ہے۔
زندگی کی رفتار نے ہمیں اس قدر آگے دھکیل دیا ہے کہ ہم رک کر محسوس کرنا بھول گئے ہیں۔ ہم نے جذبات کو الفاظ میں اور الفاظ کو مختصر علامتوں میں قید کر دیا ہے۔ ایک مسکراہٹ ایموجی میں بدل گئی ہے اور ایک آنسو محض ایک آئیکن بن کر رہ گیا ہے۔ مگر احساس نہ تو اتنا مختصر ہوتا ہے، نہ اتنا سطحی۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کے اندر ایک عجیب خلا پیدا ہو رہا ہے۔ وہ بظاہر مصروف ہے، مگر اندر سے خالی؛ وہ لوگوں کے درمیان ہے، مگر تنہا۔ اس کے پاس رابطوں کی فہرست طویل ہے، مگر ایسے لوگ کم ہیں جن کے سامنے وہ بغیر کسی خوف کے خود کو ظاہر کر سکے۔
اب انسان ایک ایسی کتاب بن کر رہ گیا ہے، جسے ہم نے اس کے سرورق کو خوبصورت بنانے پر توجہ دی ہے، مگر اس کے اندر کے صفحات کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، جانتے نہیں؛ ہم ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں، مگر سمجھتے نہیں۔ یہی وہ فاصلہ ہے جو نظر نہیں آتا، مگر سب سے زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
ہماری ایک اور کمزوری یہ ہے کہ ہم ہر لمحہ مصروف رہنے کو کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہم خالی وقت سے گھبراتے ہیں، حالانکہ یہی وقت ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔ ہم نے اپنے آپ سے ملنے کا راستہ خود ہی بند کر دیا ہے اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ سکون نہیں ملتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی نے ہمیں سہولتیں دی ہیں، دنیا کو قریب کیا ہے، علم کے دروازے کھولے ہیں۔ مگر جب سہولت ضرورت سے بڑھ کر عادت بن جائے، تو وہی چیز انسان کو اپنے آپ سے دور کر دیتی ہے۔ ہم جڑنے کے لیے نکلے تھے، مگر بکھرنے لگے ہیں۔
آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلق کو دوبارہ زندہ کریں، اس کی اصل شکل میں۔ ہم سننے کا ہنر سیکھیں، محسوس کرنے کی صلاحیت کو زندہ کریں اور ان لمحوں کو اہمیت دیں جو اسکرین کے باہر گزرتے ہیں۔ کیونکہ یہی لمحے اصل زندگی ہوتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ تعلقات کی قدر لائکس اور ویوز میں نہیں ناپی جاتی، بلکہ وقت، توجہ اور خلوص میں دیکھی جاتی ہے۔ کہ ایک سچی بات چیت، ہزاروں پیغامات سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا
کیا ہم واقعی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، یا صرف ایک دوسرے کے سامنے نظر آ رہے ہیں؟
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم رفتار کو کچھ دیر کے لیے روک دیں اور اپنے اندر کی اس خاموشی کو سنیں جسے ہم مسلسل دبانے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ بعض اوقات انسان سب سے زیادہ تب کھو جاتا ہے جب وہ سب سے زیادہ جڑا ہوا نظر آتا ہے۔

 

Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 67 Articles with 116288 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.