ایک چھوٹے سے گاؤں میں اورہان نامی ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ نہایت خاموش طبع تھا۔ اسکول کے بچے اکثر اسے تنگ کرتے، اس کا مذاق اُڑاتے اور اسے تنہا چھوڑ دیتے۔ یہاں تک کہ محلے کے بچے بھی اس کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتے تھے، اسی وجہ سے اورہان کا زیادہ تر وقت تنہائی میں گزرتا تھا۔
اورہان کی ماں اپنے بیٹے کی اس حالت پر بہت فکر مند رہتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے محبت سے اورہان کو ایک خوبصورت ڈائری تحفے میں دی اور کہا
“بیٹا! جب بھی تمہارا دل بوجھل ہو، اس میں لکھ دیا کرو۔ شاید تمہارا دل ہلکا ہو جائے۔"
اورہان نے خاموشی سے وہ ڈائری لے لی۔
ایک دن جب وہ اسکول سے واپس آیا تو حسبِ معمول چند بچوں نے اسے بہت تنگ کیا تھا۔ اداسی کے عالم میں جب اس کی نظر ڈائری پر پڑی تو اسے اپنی ماں کی بات یاد آ گئی۔ اس نے قلم اٹھایا اور اپنے پورے دن کی روداد اس میں لکھ ڈالی۔
رفتہ رفتہ یہ اس کی عادت بن گئی۔ وہ ہر دن کو ایک کہانی کی صورت میں ڈائری میں لکھنے لگا۔ اورہان اپنے خیالوں میں کھوئے رہنے والا بچہ تھا۔ آہستہ آہستہ اسے یقین ہونے لگا کہ جو بات وہ ڈائری کے سپرد کر دیتا ہے، اسے بھولنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔
اس کی کلاس میں امیر نام کا ایک لڑکا تھا جو اورہان سے بالکل مختلف تھا؛ خوش مزاج، باتونی اور دوستانہ طبیعت کا مالک۔ امیر اکثر اورہان سے دوستی کرنے کی کوشش کرتا، مگر اورہان کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ صرف اس کی ڈائری ہی اس کی سچی دوست ہے۔
ایک دن امیر ہوم ورک کے بہانے اورہان کے گھر آیا۔ اورہان کی ماں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئیں کہ آخرکار ان کے بیٹے کا کوئی دوست بنا تھا۔
دونوں اورہان کے کمرے میں بیٹھے تھے کہ امیر نے پانی مانگا۔ جب اورہان پانی لینے کمرے سے باہر گیا تو امیر کی نظر میز پر رکھی اس خوبصورت ڈائری پر پڑی۔ تجسس کے باعث اس نے ڈائری کھول لی۔
ڈائری میں لکھی کہانیاں پڑھ کر امیر حیران رہ گیا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اورہان اپنے دل کی بات کتنے خوبصورت انداز میں لکھتا ہے۔
اگلے دن امیر نے اورہان کو بتائے بغیر اس کی چند کہانیاں ایک مقامی رسالے کو بھیج دیں، جو جلد ہی شائع ہو گئیں۔
اسکول میں ہر طرف اورہان کی تحریروں کے چرچے ہونے لگے۔ اساتذہ اس کی تعریف کرنے لگے اور وہی بچے جو اسے تنگ کرتے تھے، اب اس سے عزت سے پیش آنے لگے تھے۔
مگر اورہان خوش نہیں تھا۔
وہ اپنی ڈائری کھو جانے پر بے حد پریشان تھا۔
جب امیر نے اسے رسالہ دکھایا اور حقیقت بتائی تو اورہان خاموش ہو گیا۔ وہ کچھ کہے بغیر گھر واپس چلا گیا اور کئی دن تک اسکول نہ آیا۔
امیر پریشان ہو کر اس کی خیریت پوچھنے اس کے گھر گیا۔ وہاں جا کر اسے معلوم ہوا کہ اورہان کئی دنوں سے بیمار تھا۔ اسے ڈر تھا کہ اب وہ اپنے بُرے دن کبھی نہیں بھلا پائے گا۔
امیر کچھ دیر خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا
“اورہان! یہ صرف تمہارا وہم ہے۔ لکھ دینے سے یادیں مٹتی نہیں ہیں، بس دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ تمہیں کاغذ کے نہیں، ایک جیتے جاگتے دوست کے ساتھ کی ضرورت تھی جو تمہاری بات سن سکے۔
امیر کی بات سن کر اورہان پہلی بار گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ شاید ڈائری کوئی جادو نہیں تھی، بلکہ اپنے دُکھ کو سنبھالنے کا ایک طریقہ تھی۔
اگلے دن امیر خود اورہان کو لینے آیا اور دونوں ایک ساتھ اسکول گئے۔
چھٹی کے بعد وہ ایک پارک میں رُک گئے۔ وہاں ایک بڑا سا گھنا درخت تھا۔ دونوں اس کے نیچے بیٹھ گئے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور درخت کے پتے آہستہ آہستہ زمین پر گر رہے تھے۔
اس دن پہلی بار اورہان نے اپنے دل کی بات کسی انسان کو سُنائی۔ وہ بولتا رہا اور امیر خاموشی سے سنتا رہا۔
اورہان کو پہلی بار محسوس ہوا کہ کچھ باتیں لکھنے سے، اور کچھ کسی اپنے کو بتانے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے۔
“کبھی کبھی انسان کو ڈائری نہیں، ایک سچے دوست کی ضرورت ہوتی ہے۔” |